Category: طنزومزاح

  • بابا بلیک شیپ

    ابھی کچھ دن پہلے میں نے آپ کو “کتے بابا” والا واقعہ سنایا تھا۔ آج ایک اور سنئے۔ ہماری تو قسمت ہی کچھ ایسی ہے۔
    اللہ تعالی نے ہمیں جڑواں بیٹوں سے نوازا تھا۔ بیٹے بھی اس طرح کہ جڑواں بھی تھے اور دونوں میں شکل و صورت میں کوئی مماثلت نہی تھی۔ ایک کا نام ہم مے محمد عون رکھا اور دوسرے کا محمد جون۔ بہت سے لوگوں نے اعتراض کیا کہ جون کہا نام ہوا۔ کچھ نے تو سختی سے نام بدلنے کا حکم دیا۔ لیکن یہ ہم نہی کر سکتے تھے کیونکہ دونوں نام ہم نے کربلا کے شہیدوں سے لئے تھے۔ چاہے کوئی کچھ سمجھے نام تو بدلنے سے رہے۔

    محمد عون بلا کا تیز، نڈر اور ذہین ہے جبکہ محمد جون شرمیلی طبیعت کا اپنے آپ میں مگن بچہ۔ چار مہینے پہلے انہیں ہم نے پلے گروپ جسے اردو میں ہم کچی کلاس کہا کرتے تھے، میں داخل کروا دیا۔ چونکہ ان کے امتحان شرورع ہونے والے تھے۔ میں نے چاہا کہ انہیں پڑھا دوں۔ ماشااللہ دونوں بہت اچھی طرح ہر چیز سنا رہے تھے لیکن جب میں نے ان سے کہا سناؤ۔ جونی جونی۔۔۔عوں نے فٹا فٹ شروع کر دیا جونی جونی یس پاپا۔۔۔۔اور ساتھ ساتھ وہ جون کی طرف دیکھ بھی رہا تھا۔ اور جون کے چہرے کا رنگ بدل رہا تھا ابھی ایٹنگ شوگر ہی آیا تھا کہ وہ پل پڑا عون پر۔ انہں میں نے علیہدہ کیا اور اس کے بعد سب بچوں نے اسے چھیڑ بنا لیا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے دوبارہ جون کو بلایا اپنے پاس بٹھایا، پیار کیا اور سمجھایا۔ بیٹا یہ نظم ہے آپ کو نہی کہ رہے یہ دوسرا جونی ہے آپ تو جون ہو۔ شائد اس کی سمجھ میں آیا کہ نہی لیکن وہ پڑھنے لگا۔ اسی دوران میں نے باقی بچوں کو سختی سے منع کیا کہ اسے تنگ نہ کریں۔

    میں بڑا ہیرو بن رہا تھا۔ میں نے بیگم سے کہا دیکھو ایسے بچوں کو سمجھایا جاتا ہے۔ تمہاری تو بات ہی نہی سنتے۔ دیکھا حالانکہ وہ چڑ رہا تھا لیکن میرے سمجھانے پر سمجھ گیا۔ مجھے بچوں کو سمجھانے کا ہنر بہت اچھی طرح آتا ہے۔ بیگم نے کہا تو کچھ نہی لیکن مجھے معلوم تھا دل میں کہ رہی ہو گی بچوں کو ہی سمجھا سکتے ہو۔۔ہمت ہےتو مجھے سمجھا کے دکھاؤ۔

    بات تو یہاں ختم ہو جانی چاہئے تھی۔ کچھ دیر کے بعد ایک اور نظم آ گئی۔ رین رین گو اوے۔۔۔۔دونوں نے شروع کی اور جب میں نے کہا لٹل جونی وانٹز ٹو پلے۔ جون نے مجھے گھورا، رویا اور روتے روتے بولا۔۔بابا بلیک شیپ اور یہ جا اور وہ جا

    میری بیگم مجھے دیکھ رہی تھی اور اس کی نظریں کہ رہی تھی بڑا اچھا سمجھایا تھا۔ اور میں اسے۔

  • ہنر آرام ای

    ـــــــــــــــــــــــ
    محمد جون سال کا ہو چکا تھا۔ اس کی سالگرہ تھی۔ ہر شے بڑے سلیقے سے ہوئی تیار کی گئی۔ سالگرہ پر سب نے خوب انجوائے کیا۔ جب سب مہمان رخصت ہو گئے تو بچے کو لیکر ہم اس کے ساتھ گفٹ دیکھنے لگے۔

    ” واہ بہت خوبصورت کارڈ ہے” میں نے کہا۔ میری بیگم نے غصے سے مجھے دیکھا جیسے میں نے کوئی انہونی بات کر دی ہو۔ “خوبصورت کارڈ” کارڈ کا کیا اچار ڈالنا ہے؟ اس نے ہنکارا بھرا

    ارے یہ دیکھو، حروف تہجی کا لیپ ٹوپ میں نے بات بدلنے کی کوشش کی۔ یہ دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔
    ” ہاں ماموں نے ہی دیا ہو گا۔” بیگم نے پہلے ہی اعلان کر دیا۔

    میں اسے بجا بجا کر بیٹے کے ساتھ کھیلے لگا۔ بیگم دوسرے گفٹ کھولنے لگی کہ اچانک ایک ڈبہ کھولتے ہوئے ریپر جون کو لگ گیا۔ اس نے پہلے ایک تان لگائی کہ تان سین یاد آ گئے، خشمگیں نگاہوں سے ماں کو دیکھا اور بڑے جستہ انداز میں بولا “کتی ماما”۔

    میرے لئے اپنی ہنسی روکنا مشکل تھا اور ایک زور دار قہقہ میرے حلق سے برآمد ہوکر کمرے کی رنجیدہ فضا میں پھیل گیا۔ اف۔۔تو یہ بھی جانتا ہے میں نے دل میں سوچا اور مسکراہٹ جیسے میرے ہونٹوں پر ثپت ہو چکی تھی۔ میری بیگم کو بہت برا لگا اور اس نے پہلے گھور کر دیکھا اور اس کے بعد غصے سے اٹھی، پاؤں پٹخا اور باہر جانے لگی۔

    اس سے پہلے کہ ایک اچھا دن کا انجام بہت برا ہوتا۔ میں نے اسے ٹھیک کرنے کا سوچا۔۔۔میں اٹھا اور بیگم کے پاس جا کر بولا۔” بچہ ہے ایسے ہی کہ دیا تم تو برا منا گئی۔

    وہ تو بچہ ہے لیکن آپ تو نہی” ہنسی جیسے رک ہی نہی رہی تھی۔ بیگم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔ اس سے پہلے کہ بیگم کا وار کامیاب ہوتا۔ جون نے حروف والا لیپ ٹاپ نیجے پھینگا اور بولا “کتے بابا بچاتے کیوں نہیں”

    بچہ ہے ” میری بیگم نے آنسوؤں کے درمیان قہقہ لگاتے ہوئے کہا اور میں وزیدہ نگاہوں سے لیپ ٹاپ اٹھانے لگ گیا۔

  • جادو ٹونہ

    جس گھر میں ہم رہتے ہیں وہ دو حصوں میں منقسم ہے۔ مالک مکان نے گھر اس طرح بنوایا ہوا ہے کہ نچلا حصہ اوپر والے حصے سے جدا بھی ہے اور ملا ہوا بھی ۔ گلی سے دو دروازے کھلتے ہیں ایک نچلے حصے کی طرف اور دوسرا اوپر کے حصے کی طرف۔ اوپر جانے کےلئے سیڑھیاں استعمال کی جاتی ہیں اور ایک دیوار سیڑھیوں کو نچلے حصے کے صحن سے جدا کرتی ہے۔

    کچھ عرصہ بیشتر اوپر والے حصے میں نئے کرایہ دار آئے۔ ایک بیوہ ماں، اسکی بیٹی اور بیٹی کا شوہر۔آہستہ آہستہ علیک سلیک ہوئی تو اچھے لوگ ثاپت ہوئے یوں آنا جانا شروع ہوا۔ آنٹی بہت اچھی تھیں۔ اس لئے ہم نے ان کا نام چنگی آنٹی رکھا ہوا تھا۔چنگی آنٹی کی بیٹی کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تو وہ کچھ عرصے کے لئے دوسرے شہر اپنے سسرال چلی گئی تاکہ بچے کو گرمی سے بچایا جا سکے۔ کیونکہ پھر چنگی آنٹی اکیلی تھیں اس لئے انہوں نے اپنی ایک بیوہ بہن کو بلوا لیا۔ کچھ دنوں میں میری بیگم کو احساس ہوا کہ وہ آنے والی بہن سر پر ہمیشہ ڈوپٹہ لپیٹے رکھتی ہے۔ تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ آنے والی آنٹی گنجی ہے۔ اور تب سے ہمارے گھر میں وہ گنجی آنٹی کے نام سے مشہور ہو گئی۔ جب کوئی بات ہوتی تو ان کے نام کی بچائے چنگی آنٹی اور گنجی آنٹی س ایکدوسرے کو بتایا جاتا تھا۔

    گرمیوں کے دن تھے اور گرمی بھی پچاس ڈگری کی۔ صحن میں سر شام چھڑکاؤ کر کے کولر اور پنکھا چلا دیا جاتا تھا اور کچھ بچت ہو جاتی تھی جھلسنے سے۔ زندگی واقعی سلگتی سی چتا بنی ہوئی تھی۔ مہنگائی کی گرمی۔ موسم کی گرمی اور اندر کی گرمی ۔ سنا تھا کہ لوہے کو لوہا کاٹتا ہے لیکن گرمی کو گرمی نہی کاٹتی۔ تو بات ہو رہی تھی کہ ایک دن ہم اللہ تعالی سے ہم کلام تھے کیونکہ بیگم چنگی آنٹی کے پاس گئی ہوئی تھی ان کے بلاوے پر اور ہم نے سوچا آفس میں دفتری معاملات کائنات کے خالق سے بات چیت نہی کرنے دیتے اور گھر میں بیگم۔ بچے سو رہے تھے۔ آسمان صاف دکھائی دے رہا تھا تو پھر کیوں نہ کچھ دکھ سکھ کر لیا جاتا کہ اچانک ہماری بیگم گھبرائی ہوئی اور خوفزدہ ایکسپریشن کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی کہ سلسلہ رازونیاز منقطع ہو گیا۔ بیگم کو اس حالت میں دیکھ کر پہلے تو ہمارا دل دھڑکا کہ خدا خیر کرے۔ پھر تسلی دی ضرور کوئی لال بیگ دیکھ لیا ہو گا۔ بیگم ہماری دنیا کی ہر شے سے ڈرتی ہے نہی ڈرتی تو بس اپنے مجازی خدا سے بقول اس سے خدا سے ڈرنا بھی نہی چاہئے۔

    “کیا ہوا؟ خیر ہے نا” میں نے لہجے میں حیرانی سموتے ہوئے کہا
    “وہ۔۔وہ ہ ہ ہ!!!! بلاتکان بولنے والی خاتون کے لہچے میں لکنت آ جائے تو سمجھ جائیے کہ کوئی گھمپیر مسلئہ ہے
    “ہاں ہاں۔۔۔”۔میں نے قریب جا کر پوچھا۔ “بتاؤ کیا ہوا کیوں پریشان ہو رہی ہو اور پریشان کر رہی ہو”
    “وہ سچ کہتے تھے اس گھر میں کچھ ہے۔” بیگم نے ایک ہی سانس میں اعلان کیا
    کیا ہے اس گھر میں” اب حیران ہونے کی میری باری تھی۔ اور میری یاداشت نے ماضی کھنگالنا شروع کر دیا۔

    مجھے ایک ایک کر کے وہ ساری باتیں یاد آنے لگیں جو کچھ عرصے سے سنتے اور دیکھتے آئے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک خاتوں جو پہلے اس گھر میں رہتی تھی سے ہماری بیگم کا ملنا ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اس گھر میں کوئی بزرگ جن ٹائپ کی شے رہتی ہیں تب سے میری بیگم پریشان تھی۔
    دروازے خود کیسے کھل جاتے ہیں؟ حالانکہ میں نے لاکھ دفعہ سائنسی طور پر سمجھانے کی کوشش کی کہ ہوا کے دباؤ کا اثر ہے ورنہ دروازوں کی کیا مجال۔
    فرج کا دروازہ کیسے کھلا رہ جاتا ہے؟ میں نے بتایا کہ جنوں شنوں کو جب زیادہ گرمی لگتی ہو گی تو شائد وہ فرج میں گھس جاتے ہوں۔ اور دروازہ بند کرنا بھول جاتے ہوں۔
    پیسے کم کسیے ہو جاتے ہیں؟بہت دفعہ سمجھایا ہے کہ حساب رکھا کرولیکن مجال ہے کہ اس پر عمل ہوا ہو۔

    اور اب گھبرائی ہوئی بیگم اور ڈر گئی تھی۔ ہوا کیا ہے میں نے مصنوعی غصے سے پوچھا۔

    دراصل اوپر چنگی آنٹی نے بلایا تھا۔ وہ بہت پریشان ہیں۔ مصلی بچھائے نماز اور قرآن پڑھ رہیں ہیں۔ کہتی یہں کہ انہوں نے نہا کر کپڑے پہنے اور کپڑے جدھر ہاتھ لگاتی ہیں بھرتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ایک اور سوٹ بدلا اس کا بھی یہی حال ہوا اس لئے وہ سمجھتی ہیں یا تو کوئی جادو ٹونہ ہہو رہا ہے ان پر یا یہ کسی جن کی کارستانی ہے۔
    ہمارے زہن نے فورا سراغ رسانی شروع کی۔ “اور وہ گنجی آنٹی کہاں ہیں؟ ہو سکتا ہے انہوں نے کپڑے مانگے ہوں اور چنگی آنٹی نے نہ دیئے ہو اور اس نے کوئی کام دکھایا ہو۔” میں نے بستر پر دراز ہوتے ہوئے کہا۔

    “ارے نہی۔ بہن ہیں وہ ان کی۔ وہ باہر بیٹھی یا اللہ خیر کا ورد کر رہی ییں۔ مجھے بھی منع کر رہی تھیں کہ اندر مت جاؤ۔ وہ کہتی ہیں یا تو چنگی آنٹی کا آخری وقت آ گیا ہے یا کوئی جن بھوت ہے۔ اللہ اس کی موت آسان کرے۔ اللہ اس کے گناہ معاف کرے۔ یا اللہ میری بہن کو اچھی موت دینا۔ اور چنگی آنٹی بھی گنجی آنٹی کے کہنے سے یہی سمجھ رہی ہیں کہ بس وہ مرنے والی ہیں یا جن بوت انیہں تنگ کر رہے ہیں” بیگم نے اتنی جلدی بتایا جتنی جلدی وہ رقم خرچ کرتی ہیں۔

    “داماد کہاں ہے ان کا؟” میں نے پوچھا
    “وہ بیوی کو لینے گیا ہے۔” بیگم نے ڈرتے ڈرتے اوپر دیکھتے ہوئے کہا۔یکدم لائٹ چلی گئی ۔ اندھیرا پھیل گیا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ واقیعی کچھ ہونے والا ہے۔

    بیگم گھبرا کر ہم سے لپٹ گئی۔ “کیا ہوا” میں نے اسے اور قریب کرتے ہوئے کہا بچوں کے بعد ایسے مواقع کم ہی آتے ہیں۔
    “۔۔۔وہ ۔۔۔۔” بیگم بس اتنا ہی کہ پائی۔ میری جسارت نے اسے سب کچھ بھولنے پر مجبور کر دیا تھا۔میں نے اسے تسلی دی۔” تم کیوں خوفزدہ ہو۔ جن بھوت تو ان کو تنگ کر رہے ہیں اورتم بلاوجہ کے پریشان ہو رہی ہو۔” میں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا۔

    “جن اوپر آ سکتے ہیں تو نیجے بھی آ سکتے ہیں” اور مجھ سے الگ ہو کر کچھ آیات کا ورد کرنے لگی اور سوئے ہوئے بچوں پر پھونکیں مارنے لگیں۔

    “ویسے جن نے ہمارے گھر آ کر کیا کرنا ان کے ہاں چڑیلوں کی کمی ہے” موقع ہاتھ سے نکلتے دیکھ کر جلے ہوئے لہجے میں ایک آہ کے ساتھ کہا

    بیگم نے ہمیں گھور کر دیکھا۔ اور یہی میں چاہتے تھا کیونکہ بیگم کی آدھی پریشانی کم ہو گئی تھی

    “آنٹی کہتی ہیں کہ ان کے داماد کو فون کر دیں۔ کہ جلدی گھر آئے۔” بیگم نے بچوں پر ورد ختم کرنے کے بعد کہا۔

    بیگم نے جیسے ہی مجھ سے یہ کہا کہ اچانک گنجی آنٹی کی اؤاز سنائی دی وہ بیگم کو پھر بلا رہی تھی۔

    بیگم نے ہماری طرف دیکھا پھر اوپر کی طرف دیکھا اور پھر ایسے ہو گئی جیسے ساکن ہو اور آہستہ سے کہنے لگی “ان سے کہ دیں میں سو گئی ہوں۔”

    “کیا کرتی ہو۔ ” میں نے گھورتے ہوئے کہا۔ جاؤ اور پتہ کرو کہ کیا مسلئیہ ہے۔ ایسا نہ ہو جھوٹ سے جن کو نفرت ہو اور وہ نیجے ہی آ جائے۔

    “مسلئہ کیا ہے جن یہ کام کر رہا ہے اور کیا۔ نہ جی نہ میں تو نہی جاتی۔” بیگم نے یقین سے کہا
    “اچھا چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ ” میں نے چارپائی سے اٹھتے ہوئے کہا۔

    “نہی آنٹی کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے ہیں وہ کہتی ہیں کہ فون کر دو جلدی سے۔” بیگم لگتا تھا اب شائد ہی اوپر جائے کہ اسی اثنا میں پھر گنجی آنٹی کی صدا سنائی دی۔

    میں نے فون اٹھایا اور نمبر ملایا۔ لیکن نمبر بند تھا۔ میں نے پھر کوشش کی لیکن بے سود۔۔

    بیگم کچھ اور خوفزدہ وہ گئیں “ضرور ضرور کچھ ہے۔” اس نے بچوں پر پھونکوں کی مقدار بڑھا دی تھی۔

    “ہوش کرو۔ ” میں نے صحن میں چلتے پھرتے کہا۔ پریشانی اب میرے چہرے پر بھی ہویدا تھی۔ کہا چکر ہو سکتا ہے۔ میں نے سوچنا شروع کیا۔

    “کوئی آیا تھا آج آنٹی کے گھر۔؟” میں نے پوچھا
    “نہی کوئی بھی نہی آیا۔” میرے حوصلہ دلانے پر بیگم نے پھونکوں کا ورد ختم کیا اور میرا بازو پکڑ کر میرے ساتھ ساتھ چہل قدم کرنے لگی۔

    “پھر کیا مسلئہ ہو سکتا ہے؟” میں نے خودکلامی کی
    “آپ چاہے یقین نہ کریں۔ میں نے خود دیکھا ہے ان کے کپڑے جہاں جہاں ہاتھ لگاتی ہیں بھرتے جاتے ہیں۔ “بیگم نے میری خود کلامی کے جواب میں کہا

    “یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ان کے ہاتھوں پر کچھ لگا ہوا ہو۔؟” میں نے پوچھا

    “نہی وہ دو دفعہ نہا چکی ہیں۔ اور پانی تو وہی ہے جو ہم استعمال کر رہے ہیں۔ ہاتھوں پر کچھ لگا ہوتا تو اور چیزوں پر بھی اس کا اثر ہوتا۔” میری بیگم کا دماغ چلنا شروع ہو گیا تھا۔ شوہر کی قربت اسی کا نام ہے ہر زمانے کی اور ہر کیلبر کی عورت جب محبوب کے ساتھ ہو تو اس کا دماغ بہت تیزی سے سوچنے لگتا ہے۔

    ہمم۔۔۔آپ اندازہ لگائیں کہ موم بتی کی روشنی کتنا اندھیرے کو ختم کرتی ہے۔ ہم آسمان کے ستاروں کی ہلکی ہلکی روشنی میں اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اچانک دروازہ بچا۔

    “کون؟” میں نے پوچھا

    “میں ہوں ۔”چنگی آنٹی کی آواز تھی۔ آواز سنتے ہی میری بیگم نے جست لگائی اور بستر پر ایسے لیٹ گئی جیسے سو رہی ہو۔

    میں نے دروازہ کھولاتو چنگی آنٹی چادر میں لپٹی کھڑی تھی۔ “اندر آ جائیں” میں نے دروازے سے ہٹتے ہوئے کہا۔

    “وہ فون کر دیا”۔ انہوں نے باہر سے ہی پوچھا۔ کہجہ ایسا تھا جیسے جیسے دنیا سے ان کا دل اٹھ گیا ہو اسیا لگتا تھا انہیں گنجی آنٹی نے یہ یقین راسخ کر دیا تھا کہ ان کا آخری وقت آ گیا۔

    “کوشش کر رہا ہوں مل نہی رہا جیسے ہی ملتا ہے تو بات کرتا ہوں۔” میں نے جواب دیا
    ” ہوا کیا ہے آنٹی۔ ؟”میں نے غور سے ان کو دیکھتے ہوئے کہا۔

    “بس ساجد بیٹا کیا بتاؤں۔” ابھی وہ یہی ہی کہ پائی تھی کہ میں نے پوچھا

    “آنٹی ایسا تو نہی کہ کپڑوں کے بکسے میں آپ نے فرنائل ٹائپ کی گولیاں رکھی ہوں اور اس وجہ سے کپڑے پھٹ رہے ہوں”ا
    “نہی بیٹا۔ ایسی کوئی بات نہی ضرور مجھ پر کوئی چادو کر رہا ہے ؟۔۔۔مجھے یقین ہے” انہوں نے خلا میں گھورتے ہوئے کہا

    “لیکن کوئی کیوں کرے گا۔ آپ کے پاس نہ بہت دولت ہے نہ ۔۔”۔۔میں خاموش ہو گیا کیونکہ میں کہنے لگا تھا کہ اس عمر میں آپ پر جادو کر کے کسی کو کیا ملے گا۔

    “بس بیٹا۔ میری بیٹی کی ساس کر رہی ہو گی۔ “میں جانتا تھا کہ ان کی بیٹی کی ساس ان کی بیٹی کی ممانی بھی تھی۔

    تو آپ سارے کپڑے انہں گفٹ کر دیں میں نے بات کو مزاق میں ڈالتے ہوئے کہا۔ لیکن اچانک وہ دوبارہ واپس گھر کی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ اور مجھے اور حیران کر گئی۔ “انہیں کیا ہوا” میں نے دل میں سوچا

    “آنٹی واپس چلی گئیں۔؟” میں دروازہ بند کر کے لوٹا تو بیگم نے آہستہ سے پوچھا

    “ہاں چلی گئیں لیکن جن ادھر ہی چھوڑ گئیں ہیں۔ “میں نے ہنستے ہوئے کہا۔ لیکن دل میرا بھی کچھ کچھ پریشان ہو رہا تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ میں نے فون ملایا ان کا داماد راستے میں ہی تھا اور ایک آدھ گھنٹے میں پینچنے والا تھا۔

    رات کو تو گزرنا ہی تھا اور گزر گئی۔ اگلے دن صبح صبح گنجی آنٹی سرکاری پانی بھرنے ہمارے گھر آئیں تو سب سے پہلا سوال ہمارا چنگی آنٹی کے بارے میں تھا۔

    پہلے تو وہ شرمندہ شرمندہ دکھائی دیں کیونکہ وہ کافی دیر باہر بیٹھ کر یا اللہ خیر کا ورد اور اللہ تعالی سے بہن کی معافی کی درخواست کرتی رہی تھیں۔

    “بس بیٹا کچھ نہی۔ “انہوں نے شرمندہ شرمندہ کہنا شروع کیا۔ “وہ اصل میں چنگی آنٹی نے اپنی چادر سے یو پی ایس صآف کیا تھا ۔ یو پی ایس پر تیزابی بلبلے نکلے ہوئے تھے بیٹری سے۔ وہ چادر پر لگ گئے پھر جب بھی وہ کپڑے پہن کر وہ چارد لیتی وہ کپڑے بھرنا شروع کر دیتے۔ وہ تو رات کو بچے آئے تو انہوں نے تحقیق کی۔”

    اور جب ہم نے اپنی بیگم کی طرف دیکھاتو وہ بھی کسی کام سے فورا دوسرے کمرے کی طرف رخت سفر باندھ چکی تھیں۔

  • ہم نے چوہا بھگایا

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    میں آفس سے گھر آیا تو بجے ہمیشہ کی طرح بڑے باادب ہو کربیٹھے تھے۔ سارا دن جو اچھل کود کریں میرے گھر آنے پر ایسے معصوم بن کر بیٹھ جاتے تھے جیسے انہوں نے کچھ کیا ہی نہی۔ شام کے سات بجنے والے تھے۔ اور لائٹ جانے والی تھی۔ قسیمہ اور غازیاپنی کلاس ٹو کی کتابیں سنبھالے تھے اور عون اور جون کارٹون مزے لے رہے تھے۔سات بجتے ہی لائٹ چلی گئی۔ میں منہ یاتھ دھو، کپڑے بدل کر جب آیا چارجنگ لائٹ سے پالا پڑا۔ کہ یکدم جون بھاگتا ہوا میرے پاس آیا۔ بابا جی بابا جی “چوہے کی آواز آ رہی ہے۔” چوہے کی میں نے حیرانی سے پوچھا۔ یہاں کہاں سے آ گیا۔ میں نے کرسیوں کے نیچے۔ بیڈ کے نیچے، ٹی وی ٹرالی کھسکا کر، ٹیبل کے اردگرد نظر ماری۔ نہی بیٹا جو اس وقت قسیمہ غآزی اور عون کے ساتھ بیڈ پر چڑھے خوف کی حالت میں کھڑے تھے۔ تم سب کو کیا ہوا ہے۔ میں نے حیرانی سے پوچھا۔ کچھ نہی ہے۔ آرام سے بیٹھ جاؤ۔ لیکن بچوں نے ان سنی کر دی وہ ایسے ہی بیڈ پرکھڑے تھے جیسے ابھی دوڑ لگانے والے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے نا بیٹا۔ کچھ نہی ہے۔ بچے بیٹھ گئے۔ کتاب لے کر میں نے ان سے سننا شروع کر دیا۔ لائٹ نہ ہونے کا بچوں کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ لکھنا نہی پڑتا۔ کچھ دیر ہی گزری تھی کہ اچانک چوچی جو چی کی آواز پھر سنائی دی۔ ادھر میرے کان کھڑے ہوئے ادھر بچے پھر سہم کر بیڈ پر کھڑے ہو گئے۔ جون نے چیخیں مارنا شروع کر دیں۔ چوہا آ گیا چوہا آ گیا۔ چپ میں نے انہیں ڈانٹآ۔ چارجنگ لائٹ لے کر میں نے بیڈ کے پچھلی طرف دیکھا۔ ارے یہ کیا۔ اتنا موٹا تازہ چوہا۔ سیاہ رنگ کا اور کانٹوں والا یہ تو مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ اسے گیس کہتے ہیں۔ بڑے آرام سے آرام فرما رہا تھا۔ اتنا موٹا تازہ چوہا دیکھ کر دل میرا بھی کچھ کچھ دھڑکنے لگا۔ میں نے بچوں کو ہانگ لگائی بستر سے نہ اترنا۔ قسیمہ غازی ڈرتے ڈرتے چوہا دیکھنے بیڈ کی پچھلی سائڈ پر آ گئے عون اور جون نے دھاڑیں مار کر رونا شروی کر دیا۔ میں بے بیگم کو آواز دی کہ جلدی سے وائبر لے آؤ اور بچے باہر لے جاؤ۔ لیکن بچوں نے بستر سے اترنے سے انکار کر دیا۔ میں نے وائپر سے چوہے کو ٹھوکا دیا تو وہ خرگوش جیسا کچھوے کی رفتار سے بیڈ کے پیچھے سے نکل کر میری طرف ہی آنے لگا میں نے جلدی سے وائپر پھینک اور بچوں کے ساتھ بستر پر چڑھ گیا۔ بیگم نے حیرانی سے مجھے دیکھا اسی اثنا میں چوہا ٹی وی ٹرالی کے نیچےخراماں خراماں چلتے ہوئے گھس چکا تھا۔ ہی ہی یہ۔۔۔۔۔یہ چوہا چلتا کیسے ہے۔ اتنی آہستہ۔ بچے مجھ سے چمٹ چکے تھے اور زور زور سے پکار رہے تھے بابا موٹا چوہا بابا موٹا چوہا۔ ہٹو پیچے میں نے غصے سے کہا۔ بابا موٹآ چوہا ہے کہا۔ چپ کرو۔میں نے گرجتے ہوئے کہا۔ بیگم جو ٹیبل کے پاس تھی وہ بیڈ کے پاس آئی اور وائپر اٹھانے لگی کہ چوہا ٹی وی ٹرالی سے نکلا اور واپس بیڈ کی طرف آنے لگا اب بیگم کی باری تھی بیڈ پر چڑھنے کہ آپ پہلی بار بیگم کو ہم نے اتنی تیزی سے بیڈ کی جانب آتے دیکھا حالانکہ چوہا نجانے کیوں بڑی آہستہ رفتار سے چل رہا تھا۔ شکر ہے وائپر اٹھا لیا تم نے میں نے اپنا خوف چھپاتے ہوئے کہا۔ ہاں ورنہ چوہا وائپر ہی نہ جائے اس لئے اٹھا لیا۔ بیگم نے کچھ طنزیہ لہچے میں کہا اب بچے مکھے چھوڑ کر ماں کے گرد ہو چکے تھے یہ لیں وائپر اور نکالیں اسے۔ بیگم نے تحمکانہ لہجے میں حکم دیا۔ اور بیگم کے حکم پر تو چوہا بھی شیر بن جائے ہم کہاں کے غازی تھے جو بحث کرتے لیکن خبیث چوہا بھی ہمیں اس وقت ہاتھی دکھائی دیتا تھا۔ کھا کھا کر اتنا موٹا ہو چکا تھااور اوپر سے اس کے جسم پر کانٹے کراہت الگ ہو رہی تھی۔

    بچوں کو باہر لے جاؤ۔ میں نے بیگم سے کہا۔ لیکن بچوں نے باہر جانے سے انکار کر دیا۔ جون ماں کی گود میں چڑھ چکا تھا۔ عون نے ماں کا بازو پکڑا ہوا تھا اور غازی نے ڈوپٹہ۔ قسیمہ نے جھٹ سے وائپر لیا اور بولی۔ بابا چوہے کو میں مارتی ہوں۔ نہ بیٹا آپ ادھر ہی رہو۔ میں نے پدرانہ لہجے میں کہا۔ بچوں کے سامنے بہادر تو بننا پڑے گا۔ وائپر لے کر میں بیڈ سے نیچے اترا۔ دھڑکتے دل اور کانپتے ہاتھوں سے وائپر مارنے لگا چوہے کو بھی احساس ہو چکا تھا کہ اب خیر نہی۔ اس نے ٹیپل کی جانب جانے کی کوشش کی ہم نے وائپر دے مارا چوہا گولا سا بن گیا۔ ہائےےےےےےےےے میری بیگم نے اب کے چیخ ماری جو بچوں سے زیادہ خطرناک تھی۔ یہ چوہا نہی کچھ او رہے ماریں ماریں زور سے ماریں چوہا گولا بنا چلتا جا رہا تھا اور میں مارتا لیکن چوہے پر کچھ اثر نہی تھا۔ میں نے اسے گھسینٹا شروع کر دیا بچے ماں سمیت دیکھنے کے لئے نیچے اتر آئے لیکن اچانک چوہے نے باہر جانے کی بچائے واپس اند آنے کی کوشش کی وائپر کا پچھلا کونا ٹھا کر کے ٹی وہ پر پڑا، چھناکے کی آواز آئی عون مئرے ساتھ چپک گیا، جون ماں کی گود میں تھا، قسیمہ چلدی سے بیڈ پر چڑھ گئی اور وائپر گھومتے ہوئے غازی کے چہرے سے ٹکرایا کچھ خود کچھ درد سے اس کی کراہیں پورے گھر میں گونچنے لگی۔ باہر کا دروازپیٹا جانے لگا شائد شور کی آوازوں سے محلے والوں نے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا تھا۔ بھاگو بھاگو باہر بھاگو میں نے بلند آواز سے کہا سارے باہر کی طرف بھاگے دروازہ کھولا اور گلی میں باہر ساتھ والے انکل دروازہ بچا رہے تھےبیوی بچوں کو بھاگتا دیکھ کروہ بھی بھاگنے لگے اور میں پریشان ہو گیادروازے پر آوازیں دینے لگا کہ اس سے پہلے دیر ہو جائے رک جاؤ۔ بیوی بچوں کو ہمسائے کے گھر بٹھایا اور انکل کے ساتھ مل کر چوہے کو گھسیٹ کر باہر نکالا باہر نکلتے ہی وہ یہ جا وہ جا۔ مڑا پھر بھی نہی کیونکہ جب اسے مارنے لگتے وہ گولا سا بن جاتا۔ اس طرح ہم نے چوہا بھگایا۔

  • شادی

    سنا کرتے تھے ایک نیام میں دو تلواریں نہی رہ سکتی۔ یہ بات واقعی سچ ہی لگتی تھی۔ ہے سے ابھی اتفاق نہی ہے اس کے لئے آپ کو یہ پورا خاکہ زبان من سے ازبر کرنا پڑے گا۔ خیالوں کی دنیا میں دو تلواروں کو ایک نیام میں ڈالنے کی کوشش بھی کی تو دونوں تلواریں اکٹھی نہی ہو سکیں۔ ایک تو ٹکرائی بہت دوسرا نیام کا جو حال ہوا سو ہوا۔

    کبھی کسی نے سنا ہے کہ زمین کے دو سورج ہو سکتے ہیں۔ جناب ایک نہی سنبھالا جا رہا دو ہو گئے تو الامان الحفیظ۔! کبھی میدانی علاقوں میں ایک ہی سورج کی تباہ کاریاں تو دیکھیں۔ دن بھر ایسی لو چلتی ہے کھال پگھل جائے۔ آپ سب کو تو معلوم ہی ہے کہ ایک صوفی بزرگ کو بھوک لگی تو گوشت بھوننے کے لئے انہوں نے سورج کو اپنے پاس بلا لیا اور تب سے ہر سال سورج تجدید عہد وفا کے لئے اتنا نزدیک آتا ہے کہ جسم کا گوشت جلنے لگے بھلا ہم بھی کوئی صوفی ہیں۔ جوصرف بوٹی بھون سکیں اور اپنے جان ناتواں کو بچا سکیں۔ لیکن سورج کیسے سمجھے۔

    زمانے کا یہی دستور رہا ہے چال چلن بھی کہ سکتے ہیں کہ جوان ہوتے ہی لڑکا اور لڑکی کو ایک دوسرے کے پلے باندھ دیا جائے لیکن ایک بیگم کا مل جانا بھی آج کے دور میں ملنا مشکل سے مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔۔ میاں بیوی کے رشتے کو دنیا بھر میں سب سے قریبی رشتہ سمجھا جاتا ہے کہ اور عام طورپر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی بات کسی اور کی نسبت کہیں زیادہ بہتر انداز میں سمجھ لیتے ہیں۔ یقنناً آپ کی بھی یہی رائے ہوگی ، مگرایک حالیہ سائنسی تحقیق اس نظریے کی نفی کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ دو اجنبی شخص ایک دوسرے کی بات سمجھ سکتے ہیں ، مگر میاں بیوی یا شریک زندگی کے طورپر ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والے جوڑے نہیں۔ میاں بیوی کارشتہ سب سے پکا رشتہ ہوتا ہے ٹہرئے بلکہ سب سے کچا ہوتا ہے۔ سب سے لطیف اور بسا اوقات سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتاہے۔ یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ لطیفوں کی دنیا میں سب سے زیادہ لطیفے میاں بیوی سے ہی منسوب ہیں ۔ اور یہ بھی عام مشاہدے کی بات ہے کہ اکثر بیویاں اپنے شوہروں کے بارے میں یہ کہتی پائی جاتی ہیں کہ وہ ان کی نہیں سنتے اور اکثر شوہروں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ بیگم ان کی بات پر دھیان نہیں دیتی۔ ان دنوں فاصلوں کے درمیان جو چیز اپنا وجود رکھتی ہے، اس کے بارے میں نفسیاتی ماہرین کا کہناہے کہ وہ ہے ایک دوسرے کے بارے میں نہ جاننا۔ تبھی تو جب ایک بیوی نے شوہر سے پوچھا کہ آپ کو میری خوبصورتی اچھی لگتی ہے یا عقل مندی تو میاں جی تھوڑا سا مسکرائے بلکل “ان” کی طرح اور برجستہ بولے۔ تمہارے مزاق کرنے کی عادت۔ اسی طرح ایک صاحب نے جی “انہوں” نے ہی دوسرے صاحب سے پوچھا کہ جناب خوشیاں کیا ہوتی ہیں دوسرے صاحب بولے بھائی ہمیں کیا معلوم ہماری تو کم عمر میں شادی ہو گئی تھی۔

    تو ہم بات کر رہے تھے جب ایک تگنی کا ناچ نچا سکتی ہے تو دوسری کی خواہش کون کافر کر سکتا ہے۔ اور خوایش کر کے اسے پایہ تکمیل تک پہنچا بھی لے تو وہ کون سا ناچ نجائے گئی یہ سوچ کر ہی دل وحشی کو غوطے آنے لگتے ہیں اگر کسی کا ارادہ ہے بھی تو اس وقت سے ڈرئے جب دونوں مل کر ناچ کی بچائے ناکوں چنے چبوائیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے کہ بات ہے کہ شوہر صاحب دوسری منکوحہ کے ساتھ مارکیٹ میں ٹامک ٹؤئیاں مار رہے تھے کہ پہلی والی اچانک وارد ہو گئیں پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ اسے لوڈ شیڈنگ سے براہ مہربانی نہ جوڑا جائے۔ جب شوہر صاحب کی مزاج پرسی کے لئے ہم گئے تو انہوں نے برجستہ کہا۔”محبت اور جنگ میں سب جائز ہے” اب نجانے یہ محبت تھی کہ جنگ جس میں نقصان اپنا ہی ہوتا ہے۔ اور اگر میں آپ سے کہوں کہ ایک شخص کی کئی بیویاں ہیں تو اوپر سے آپ مسکرائیں گے لیکن دل ہی دل میں بے چارے پر فاتح پڑھیں گے اور سوجیں گے کہ ساری کی ساری گنگی بہری ہونگیں تبھی تو ابھی تک ہیں۔ ہم نے تو جناب بڑے بڑے لوگ دیکھیں ہیں۔ نہی نہی عالم چنا جیسے بڑے نہی “بڑے بڑے” سے مراد “بڑے بڑے” ایک تو آپ ہر لفظ کو شاعروں کی طرح تولنے لگ جاتے ہیں دہی بڑے والے بڑے بھی نہی۔ بڑے بڑے۔ جیسے اب ان کو ہی دیکھئے
    میاں بیوی سونے کی تیاری کر رہے تھے۔ اچانک بیوی بولی

    بیوی: سنو ! کیا تم میرے مرنے کے بعد دوسری شادی کر لو گے ؟؟
    شوہر: نہیں‌بیگم۔ تمہیں پتہ ہے میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں۔ میں دوسری شادی نہیں کرونگا۔
    بیوی: لیکن تم اتنی لمبی زندگی تنہا بھی تو نہیں‌گذار سکتے ۔ شادی تو تہمیں کرنا ہو گی
    شوہر: دیکھا جائے گا ۔ اگر ضروری ہوا تو کر لوں گا!!
    بیوی: (دکھ بھری آواز میں ) کیا تم واقعی دوسری شادی کر لو گے ؟
    شوہر: بیگم ! ابھی تم خود ہی تو زور دے رہی تھی۔
    بیوی: اچھا کیا تم اسے اسی گھر میں لاؤ گے ؟
    شوہر: ہاں۔ میرا خیال ہے ہمارا گھر کافی بڑا ہے اور اسے یہیں رہنا ہو گا
    بیوی: کیا تم اسے اسی کمرے میں رکھو گے
    شوہر: ہاں کیونکہ یہی تو ہمارا بیڈ روم ہے
    بیوی: کیا وہ اسی بیڈ پر سوئے گی
    شوہر: بھئی بیگم ظاہر ہے اور کہاں سوئے گی
    بیوی: اچھا کیا وہ میری جیولری استعمال کرے گی؟؟
    شوہر: نہیں اس جیولری سے تمہاری سہانی یادیں وابستہ ہیں ۔ وہ یہ استمعال نہیں کرسکے گی
    بیوی: اور میرے کپڑے ؟؟
    شوہر: پیاری بیگم ! اگر مجھے شادی کرنا ہوئی تو وہ کپڑے بھی خود ہی لے کر آئے گی۔
    بیوی: اور کیا وہ میری گاڑی بھی استعمال کرے گی ؟؟
    شوہر: نہیں ۔ اسے گاڑی چلانا نہیں آتی۔ بہت دفعہ بولا لیکن وہ سیکھنا ہی نہیں چاہتی ۔

    مگر مجال ہے کہ ہم آج تک جان سکیں ہو کہ میاں کوں ہیں اور بیویاں کون یا بیوی کون اور میاؤں کون چھوڑیں جناب آج کل تو سب چلتا ہے۔ ہمیں تو ان پر ناز ہے مجال ہے نو نو بیویوں کے ہوتے ہوئے انہوں نے ہمیں لفٹ نہ کروائی ہو۔ ہمیں ہی کیا اتنے بڑے دل کے مالک ہیں کہ سب کو اپنی بانہوں میں چھپا سکتے ہیں۔ لیکن جسے پیا چاہے وہ بننے میں تو ابھی زمانہ ہے۔ کیونکہ ان کی سب سے اچھی منکوحہ ہر فن مولا ہے نظروں کے ایسے ایسے تیر چلاتی ہے کہ کسی کی کیا مجال بچ کر نکل جائے ادب کی کون سی صنف نہی جو پر عبور نہ ہو۔ دوسری بیوی چاہتی تو بہت کچھ کرنا ہے لیکن کیا کرے بڑی آپا کی سوتن ہونے کی وجہ سے دبی دبی رہتی ہے۔ تبھی تو کبھی کسی کو ڈسلائک نہی کرتی حتی کہ خود کو بھی نہی۔ تیسیری کے تو مزاج ہی انوکھے ہیں۔ میاں کے ادھر ادھر ہونے کی وجہ سے اس نے اپنی دینا آپ بنا ڈالی ہے اور چوبیس گھنٹے مجال ہے سکون کا سانس لے۔ جب کچھ کرنے کو نہی ہوتا تو مادری زبان کے چٹخارے لینا معمول بنا لیا ہے۔ چوتھی کا کیا بتائیں۔ دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں۔ چہرے پر ایسی معصومیت کہ نطریں تعظیم کے لئے چھک جائیں اند خانے معلوم نہی کرتوت کیسے ہونگیں۔ ماشااللہ پانجویں اور چھٹی تو ٹون لگتی ہیں نجانے کیسے پتہ چلاتے ہونگیں کہ کون سی والی ہے شائد بلیک اینڈ وائٹ سے۔ ساتویں کو تو سنگھارسے ہی فرصت نہی ملتی، گنگی چوٹی سے جان چھوٹے تو کوئی کام کرے اور ہمیں بھی معلوم ہو کہ کیا گن آتے ہیں۔ باقی دو کچھ عرصے کے لئے دور دور ہیں بہانا تو یہ بنایا ہوا ہے کہ وقت نہی ہوتا لیکن وقت کب نہی ہوتا شائد کسی اور ڈائمنشن میں رہتی ہوں۔ ہم نے کہا تھا کہ ہم بتائیں گے ایک نیام میں بہت سی تلواریں کیسے رہ سکتی ہیں تو جناب اب آپ ہی فیصلہ کیجئے یہ نیام کی اچھائی ہے یا تلواروں کی۔

    ہم نے بھی بہت عشق لڑائے مگر کیا کریں ہر جگہ سوکنوں کی فوج در موج نے ہمیں “ان” سے ایسے جدا کیا جیسے کوئی حسینہ دل چرا کر لے جائے اور آپ کو پتہ ہی نہ لگے۔ ابھی ہم ایجاب و قبول کے مرحلے سے کوسوں دور ہوتے تھے کہ پٹخ دئے جاتے تھے۔ ہمت ہم نے بھی نہی ہاری اور نہ ہارنے کا ارادہ ہے “وہ” زندہ صحبت باقی بس اسی سہارے پر ہے زندگی۔