Category: نعت

  • کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے

    کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے

    کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے
    یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے
    کسی کا احسان کیوں اُٹھائیں کسی کو حالات کیوں بتاءیں
    تمھیں سے مانگیں گے تم ہی دو گے تمھارے در سے ہی لو لگی ہے
    تجلیوں کے کفیل تم ہو مرادِ قلبِ خلیل تم ہو
    خدا کی روشن دلیل تم ہو یہ سب تمہاری ہی روشنی ہے
    تمہیں ہو روحِ روانِ ہستی سکوں نظر کا دلوں کی مستی
    ہے دو جہاں کی بہار تم سے تمہیں سے پھولوں میں تازگی ہے
    شعور و فکر و نظر کے دعوے حدِ تعین سے بڑھ نہ پائے
    نہ چھو سکے اِن بلندیوں کو جہاں مقامِ محمدی ہے
    نظر نظر رحمتِ سراپا ادا ادا غیرتِ مسیحا
    ضمیرِ مردہ بھی جی اُٹھے ہیں جِدھر تمہاری نظر اُٹھی ہے
    عمل کی میرے اساس کیا ہے بجز ندامت کے پاس کیا ہے
    رہے سلامت تمہاری نسبت مرا تو اک آسرا یہی ہے
    عطا کیا مجھ کو دردِ اُلفت کہاں تھی یہ پُر خطا کی قسمت
    میں اس کرم کے کہاں تھا قابل حضور کی بندہ پروری ہے
    اُنہی کے در سے خدا ملا ہے انہیں سے اس کا پتہ چلا ہے
    وہ آئینہ جو خدا نما ہے جمالِ حسن حضور ہی ہے
    بشیر کہیے نذیر کہیے انہیں سراجِ منیر کہیے
    جو سَر بَسر ہے کلامِ ربی وہ میرے آقا کی زندگی ہے
    ثنائے محبوبِ حق کے قرہے
    ں سرورِ جاں کا یہی ہے عُنواں
    ہر ایک مستی فنا بداماں یہ کیف ہی کیفِ سرمدی ہے
    ہم اپنے اعمال جانتے ہیں ہم اپنی نسبت سے کچھ نہیں ہیں
    تمہارے در کی عظیم نسبت متاعِ عظمت بنی ہوئی ہے
    یہی ہے خالد اساسِ رحمت یہی ہے خالد بنائے عظمت
    نبی کا عرفان زندگی ہے نبی کا عرفان بندگی ہے
    خالد محمود خالد۔


  • کاش میں دور پیمبر میں اٹھایا جاتا

    کاش میں دور پیمبر میں اٹھایا جاتا

    کاش میں دور پیمبر میں اٹھایا جاتا
    با خدا قدموں میں سرکار کے پایا جاتا

    ساتھ سرکار کے غزوات میں شامل ہوتا
    ان کی نصرت میں لہو میرا بہایا جاتا

    ریت کے ذروں میں اللہ بدل دیتا مجھے
    اور مجھے راہ محمد میں بچھایا جاتا

    خاک ہو جاتا میں سرکار کے قدموں کے تلے
    خاک کو خاک مدینہ میں ملایا جاتا

    مل کے سب لوگ مجھے مٹی سے گارا کرتے
    پھر مجھے مسجد نبوی میں لگایا جاتا

    کاش اے کاش میں ہوتا کوئی ایسی لکڑی
    جس کو سرکار کے منبر میں لگایا جاتا

    یا اترتا میں کسی نعت کے مصرعے بن کے
    روبرو ان کے میں ان کو ہی سنایا جاتا

    گھاس ہی ہوتا مدینے کے گلی کوچوں کی
    اور سرکار کے ناقے کو کھلایا جاتا

    ان کے روضے کے در و بام سجانے کے لئے
    روزنوں میں میری آنکھوں کو لگایا جاتا

    لایا جاتا سر دربار اسیروں کی طرح
    حکم پر ان کے میں آزاد کرایا جاتا

    ہوتے اس دور کا قصہ کوئی نور و فرحان
    آج کے دور میں بچوں کو پڑھایا جاتا

    کاش میں دور پیمبر میں اٹھایا جاتا

    سلام یا رحمة للعالمين صلي الله عليه وآله وسلم