Category: غزل

  • اتنا ٹوٹا ہوں کہ چُھونے سے بِکھر جاؤں گا

    اتنا ٹوٹا ہوں کہ چُھونے سے بِکھر جاؤں گا

    اتنا ٹوٹا ہوں کہ چُھونے سے بِکھر جاؤں گا
    اب اگر اور دعا دو گے تو مر جاؤں گا

    لے کے میرا پتا وقت رائیگاں نہ کرو
    میں تو بنجارا ہوں کیا جانے کہاں جاؤں گا

    اس طرف دُھند ھے، جگنو ھے نہ چراغ کوئی
    کون پہچانے کا بستی میں اگر جاؤں گا

    زندگی میں بھی مسافر ہوں تیری کشتی کا
    تو جہاں مجھ سے کہے گا میں اتر جاؤں گا

    پھول رہ جائیں گے گلدانوں میں یادوں کی نذر
    میں تو خوشبو ہوں فضاؤں میں بکھر جاؤں گا 

    محمد اشرف

  • مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے

    مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے

    مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے
    مگر ذکر شامِ الم جب بھی آیا چراغِ سحَر بجھ گیا جلتے جلتے

    انھیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا “محبت نہ کرتے
    تمھیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا؟ بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے”

    مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے
    کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دلِ سخت جاں کو مسلتے مسلتے

    بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے، حساب اپنے دل میں لگا کر تو سوچو
    قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ، ملاقات کا دن بدلتے بدلتے

    ارادہ تھا ترکِ محبت کا لیکن فریبِ تبسّم میں پھر آ گئے ہم
    ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے

    بس اب صبر کر رہروِ راہِ الفت کہ تیرے مقدر میں منزل نہیں ہے
    اِدھر سامنے سر پہ شام آ رہی ہے اُدھر تھک گئے پاؤں بھی چلتے چلتے

    وہ مہمان میرے ہوئے بھی تو کب تک، ہوئی شمع گُل اور نہ ڈوبے ستارے
    قمرؔ اس قدر ان کو جلدی تھی گھر کی کہ گھر چل دیے چاندنی ڈھلتے ڈھلتے

    استاد قمر جلالوی