Category: کہانیاں

  • رکشہ کہانی سکستھ روڈ

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    صبح سے کوئی خاص سواری نہی ملی تھی۔ جب سے گیس، پٹرول اور ایل پی جی کی قیمتوں میں تصادم ہوا ہے کرایوں میں اضافہ بھی بے ترتیب ہو گیا ہے۔ گیس والے رکشہ بھی وہی کرایہ مانگتے ہیں جو پٹرول والے رکشہ کا ہے۔ پٹرول والے ایل پی جی (LPG)۔ بہت سارے لوگ تو جانتے بھی نہی ہونگیں کہ ایل پی جی ہے کیا؟ اسے liquid petroleum gas کہتے ہیں یہ وہ گیس ہے جو معدنی تیل (پٹرولیئم) سے حاصل ہوتی ہے اور بطور ایندھن گاڑیوں اور چولہوں میں استعمال ہوتی ہے۔ سلنڈر کے اندر دباؤ کے تحت یہ گیس مائع میں تبدیل ہو جاتی ہے اس لئے اسکا نام LPG ہے اور اسکا سلنڈر سیدھا رکھا جاتا ہے تا کہ مائع کے اوپر کی گیس استعمال ہو سکے۔ یہ مائع جب گیس بنتا ہے تو اسکے حجم میں لگ بھگ ڈھائی سو گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسکے برعکس CNG اپنے سلنڈر کے اندر بھی گیس ہی رہتی ہے اور مائع میں تبدیل نہیں ہوتی۔ کرایوں میں اضافے کی وجہ مہنگائی اور مہنگائی میں اضافے کی وجہ ہمارے منتخب کردہ نمائندے۔ کاش ہم ووٹ ڈالتے وقت ایک لمحے کے لئے سوچیں کہ جسے ووٹ ڈال رہے ہیں کیا وہ ہمارے لئے، ہمارے ملک کے لئے اچھا ہے کہ نہی۔ بات دور نکل گئی۔ صبح سے ایک ہی سواری ملی تھی اور اب میں انتظار میں کھڑا تھا۔ دائیں بائیں لاتعداد لوگ آ جا رہے تھے زہن کی حالت بدلنے کے لئے میں نے آتے جاتے لوگوں کا معائنہ شروع کر دیا ابھی ہو سکتا تھا کہ میں اسی میں کھو جاتا کہ اچانک یونیورسٹی کی بس سٹاپ پر رکی۔ دل میں امید جاگی کہ بندیا تیار ہو جا سواری آنے لگی ہے اور واقعی اس سے اترنے والی سواریوں میں سے ایک لڑکی عمر کوئی ہو گی اٹھارہ سے بائیس سال۔ رنگت تھوڑی گندمی لیکن بلا کی پرکشش۔ آنکھیں تھیں کہ کوئی بھی ڈوب ڈوب جائے۔ چال ایسی مستانی کہ کیا میرے رکشہ کی ہو گی۔ وہ جب میرے قریب آئی تو یوں لگا خوشبوؤں کی کشش مجھے کھینچنے لگی ہے۔

    “th6 روڈ جائیں گے ” اس نے ایک ادائے دلبری سے پوچھا۔
    دل تو چاہا کہ کہہ دوں کہ کون نہی چاہے گا آپ کو لے جانا۔ لیکن پھر اپنی اوقات یاد آ گئی۔ ہوش کر بندیا رکشہ ڈرائیور ہے تو۔ روزی روٹی کما تو کن چکروں میں پڑنے لگا ہے۔ لیکن دل تو دل ہی ہوتا ہے چاہے رکشہ ڈراہئور کا ہو یا صدر پاکستان کا۔ خواہشیں تو یہ نہی دیکھتی کہ دل پر جامہ کون سا ہے۔
    “جی جی بی بی جی” میں نے ادب سے کہا۔
    کتنا کرایہ ہو گا؟ اس نے بالوں کی لٹ کو چہرہ چومنے سے روکتے ہوئے کہا۔

    یہی کوئی جی 120 روہئے دے دیں میں نے بغیر جھجھکے کہا۔ اس نے فون کان پر لگایا اور بولی 120 مانگ رہے ہیں۔ یہ لیں بات کریں جو جگہ بتائیں وہاں جانا ہے۔

    میں نے فون اس سے لیا تو اس کی انگلیوں کا کرنٹ میرے جسم پر یوں لگا جیسے نئی نئی جوانی آنے پر کپڑا بھی چھو جائے تو انسان محسوس کرتا ہے۔ اف! یہ وقت رک کیوں نہی جاتا۔ فون کو میں نے کان سے لگایا تو سرگوشیاں کرنے لگا۔ لیکں تراخ کی آواز نے ساری نغمگی دھول کر دی۔ th6 روڈ لے آئیں اور کرایہ 100 روپئے ہو گا۔

    “جی جناب” میں نے فون واپس کیا اس طرح کہ کرنٹ کا جھٹکا دوبارہ محسوس ہو۔ اور وہی ہوا تماما جسم ایسا لگا کہ ہلکا پھلکا ہو گیا ہو اور آسمان کی وسعتوں میں کھو رہا ہو۔

    رکشہ سٹارٹ کر کے میں چل پڑا اور جب بھی موقع ملتا رہا میں شیشے میں اس موہنی صورت کا دیدار کرتا رہا۔ دل تو چاہ رہا تھا کہ سفر ختم ہی نہ ہو لیکن th6 روڈ آگیا۔ th6 آنے پر رکشہ روکا۔ th6 روڈ آ گیا ہے۔ میں نے بڑے ادب سے کہا۔

    اس نے رکشہ کے اندر بیٹھے بیٹھے باہر دائیں اور بائیں دیکھا دور دور تک کوئی نہی تھا۔ “نہی نہی۔۔۔۔یہ th6 روڈ نہی ہے” اس نے کچھ غصے اور خوف سے کہا۔

    “یہی th6 روڈ ہے” آپ نے آگے کہاں جانا ہے۔ میں نے پھر بڑے ادب سے کہا

    یہ th6 روڈ ہے۔ اس نے گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے خود کلامی کی۔ پھر وہ کیوں نہی آیا۔ مجھے واپس یونیورسٹی بھی جانا ہے۔ فون نکالا اور نمبر ملانے لگی۔ لیکن نمبر لگ نہی رہا تھا۔

    “کیا یہ واقعی th6 روڈ ہے” اس نے یقینی اور ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔ کوئی اور بھی ہے th6 روڈ۔

    “نہی بی بی جی” یہی ہے ایک ہی۔ میں پریشان ہو گیا کہ شائد کوئی مسلہ ہے۔ کہ اچانک دور سے ایک شخص منحنی سے جسم کا شکل پر بارہ بچے ہوئے، ایک بار دیکھ کر دوبارہ دیکھنے کی خوایش نہ ہو آتا دکھائی دیا۔ اس پر نظر پڑتے ہیں ہو چلائی ہاں ہاں یہی th6 روڈ ہے یہی th6 روڈ ہے۔ اور جیسے بہت خوش ہو گئی۔ اور میں حیران تھا اسے کیا ہوا۔

    وہ شخص رکشہ میں بیٹھا اور قریب گلی میں جانے کے لئے کہا۔ لڑکی بے پھر ادائے دلبری سے اس شخص سے مخاطب ہوئی۔ تم نے دیر کیوں کر دی۔ پیمنٹ کر دو پہلے اور مجھے چلدی جانا ہے۔ اس شخص نے جیب سے پرس نکالا اور کچھ رقم اس کو دے دی۔ ایک گھر کے قریب جسے تالہ لگا ہوا تھا رکشہ روکا اور ایک سو پچاس نکال کے مجھے دئے اور بولا عیش کریں۔ اور خود تالا کھول کر لڑکی سمیت اند گم ہو گیا۔

  • ایک شام کی کہانی میری زبانی

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    کل کی شام بہت عجیب تھی۔ تین گھنٹوں میں مجھے بیک وقت خوشی، پریشانی اور رنج سے گزرنا پڑا۔ جمعہ کا دن بہت مصروف ہوتا ہے۔ کیونکہ اس دن پورے ہفتہ کا کام کلائنٹ کو بھیجنا ہوتا ہے۔ تقریبا رات آٹھ بچ کر بیس منٹ پر فارغ ہوا۔ نکلنے لگا تو معلوم ہوا باہر طوفانی بارش ہو چکی ہے اور ہلکی ہلکی بارش اب بھی ہو رہی ہے۔ ملتان اور بارشیں آپ میں کوئی تعلق نہی اور اس بار تو رحمتوں کا نزول مئی میں بھی ہو رہاہے۔ بلڈنگ سے باہر نکلا تو یلکی یلکی بارش ہو رہی تھی۔ ہلکی ہلکی پھوار میں چلنا مجھے ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔ باہر کوئی رکشہ بھی نہی تھا اور موسم بھی لطف انگیز تھا سو سوچا چوک تک چلتا ہوں کوئی نہ کوئی رکشہ مل ہی جائے گا۔ پرانے گانے گنگناتے ہوئے میں خراماں خراماں چلنے لگا۔ بارش کے قطرے مجھے بھگو رہے تھے اور میں سرور میں “ملو نہ تم تو ہم گھبرائیں ملو تو آنکھ چرائیں ہمیں کیا ہو گیا ہے” گنگنا رہا تھا۔ دفتر کی بلڈنگ کے آگے ہوٹل ہے اور پھر ہزار گز کے فاصلے پر چوک۔ جب میں دو سو میٹر چوک سے پہلے پہنچا تو دیکھا وہاں تو ایک فٹ پانی جمع تھا۔ میں وہی کھڑا ہو گیا۔ نہ رکشہ نہ کوئیاور سواری۔ بہت سے موٹر سائکلوں کو روکنے کی کوشش کی۔ اشارے کئے، لیکن یہ تو وہ دور ہے کہ جب کوئی کسی کو بخار نہ دے یہ تو مدد تھی۔ آخر ناچار شلوار ٹنگ کر پانی میں اللہ کا نام لے کر چل پڑا۔
    ابھی دو چارک قدم ہی چلا تھا اور دو چار قدم ہی رہ گئے تھے کہ قریب سے گزرتی گاڑی نے گندے پانی سے غسل دے دیا۔ دل تو چاہ رہا تھا زور زور سے نرگس پر فلمایا گانا گنگناؤں لیکن اپنے سفید کپڑوں کی حالت دیکھ کر دل مسوس کر رہ گیا۔ گاڑی والے کو دو چار بے نقط سنائیں اور قدم تیز کر دئے۔ چوک پرپہنچا تو ایسا لگا جیسے کوئی احتجاج ہو رہا ہو۔ کافی لوگ دکانوں کی پرچھتی کے نیچے یوں کھڑے تھے جیسے سزا دی گئی ہو اور پورے چوک پر کوئی رکشہ نہی تھا۔ موٹر سائیکلوں اور گاڑیاں ادھر ادھر جا رہی تھیں۔ میں بھی ایک دکان کے سائے میں کھڑا ہو گیا۔ اپنی حالت دیکھی تو ایسا لگا جیسے سنی لیوں کی کسی فلم کا سین ہے۔ باقی تمام لوگ بھی ایسا ہی نظارہ پیش کر رہے تھے۔چوک پر چار راستے یہں جن میں سے دو راستوں سے میرے گھر کی جانب جایا جا سکتا ہے۔ ایک روژ پر دور دور تک دو دو فٹ پانی دکھائی دے رہا تھا۔ ادھر جانے کا تو سوال ہی پیدا نیہ ہوتا تھا۔ ملتان میں پل تو بنا دئے گئے تھے لیکن نکاسی کا نظام شائد لوگوں کی آزمائش کے لئے چھوڑ دیا گیا تھا۔ یا شائد انہوں نے سوچا ہو کہ ملتان میں بارش ہوتی ہی کہاں ہے۔
    جب بھی کوئ رکشہ آتا چھپڑوں سے لوگوں کی یلغار اس پر ٹوٹ پڑتی۔ اور رکشہ حسینہ عالم کی طرح سر بلند ایسے کھڑا ہوتا جیسے مغلیہ دور کے شہنشاہ عوام کے سامنے گھڑے ہوتے تھے ۔ کرائے آسمان چھوڑ کائنات سے باتیں کر رہے تھے۔ ہمت کر کے ایک آدھ کی طرف میں نے بھی بھاگنے کی کوشش کی لیکن ہمت مراداں شائد پروگرامنگ نے کھا لی تھی۔ سوچا ساجد حسین اس سے پہلے کہ کوئی چک شک پڑ جائے یا ٹانگ مڑ جائے عافیت اسی میں ہے کہ تماشا دیکھو تماشے کا حصہ نہ بنو۔ سوا نو بچ چکے تھے اور ہنوز بارش رکنے کا نام نہی لے رہی تھی۔ بھوک سے آنتیں قل ہو اللہ پڑھر ہی تھیں۔ کونے کھدروں کے چوہے بھی تلملا رہے تھے۔ قریب سموسوں کی خوشبو آ رہی تھی۔ دکان پر جا کر ایک سموسہ خریدا اور اکھیاں ملاؤں کبھی اکھیاں چراؤں گاتے گاتے کھانا شروع کیا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ جس طرف میں کھڑا ہوتا رکشہ کسی اور کونے میں آتا۔ میں اس طرف جاتا تو رکشہ پچھلے جگہ پر آ جاتا۔ یا اللہ کیا میرا سارا وزن آج ہی کمکرنا ہے۔ سوچتے سوچتے اور ادھر ادھر آتے جاتے ساڑھے دس بچ گئے۔
    جیب سے موبائل نکالا کیونکہ آفس نکلنے سےپہلے گھر فون کر دیتا ہوں تاکہ گھر پر چھاپے کا خطرہکم ہو جائے۔ بچے دھلے دھلائے بیٹھے ہو بیگم کھانا تیار کر چکی ہو۔ راوی چین ہی چین لکھے۔ دیر ہو جائے تو کال بیک آ جاتی تھی اور اتنی دیر گزر گئی فون کی گھنٹی نہی بچی۔ فون نکالا تو بند تھا دوبارہ آن کیا تو بیٹری لو کا مسچ دے کر بند ہو گیا۔ اوہ اللہ گھر میں اور کوئی ہو نہ ہو بیگم تو پریشان ہو گی۔ فون بھی نی مل رہا ہو گا۔ اب کیا کروں چاروں طرف نظر دورائیں کہیں پی سو او کا نشان نہ ملا۔ آخر قریب کھڑے ایک شخص سے میں نے پوچھا موبائل ہو گا آپ کے پاس ایک کال کرنی ہے۔ اس نے مجھے ایسے گھورا جیسے میں موبائل سمیت اسے بھی اغوا کر لوں گا پھر کسی اور سے کہنے کی ہمت نہی ہوئی۔ کیا کروں؟ آخر میں نے سوچا آفس واپس چلتا ہوں شائد کوئی موجود ہو تو وہاں سے فون کر لوں گا۔ پانی کا سمندر دوبارہ عبور کیا شکر ہے اس دفعہ کسی گاڑی نے غسل دوبارہ نہی کروایا۔ آفس کی بلڈنگ میں داخل ہونے لگا تو لفٹ بند۔ دس بچے لفٹ بند کر دی جاتی تھی۔ تھرڈ فلو تک سیڑھیوں سے جانا۔ تھرڈ کا مطلب بھی پانچویں منزل تک سیکورٹی گارڈ سے پوچھا میرے آفس والے چلے گئے وہ بولا کب کے۔ اس سے فون لیا۔ اور مسچ کیا گھر میں کیونکہ اس کے فون میں بھی بیلنس نہی تھا۔
    وہی بلڈنگ کے باہر کھڑا ہو گیا۔ خوشی اور پریشانی کے لمحے گزر چکے تھے۔ اب بات گانوں سے دعاؤں پر آ پہنچی تھی۔ اللہ تعالی سے جب معافی تلافی مانگ لی تو ایک رکشہ میرے قریب سے گزرا۔ آج زندگی میں پہلی بار میں نے چیخ کر رکشہ پکارا۔ دو سو روپئے میں بات طے ہوئی۔ حالانکہ 70 یا 80 میں روزآنہ جاتا ہوں۔ رکشہ چل پڑا میں دوبارہ تائپ ہو کر میٹھے میٹھے گانے گانے لگا۔ بارش اچھی لگنے لگی تھی۔ موسم عاشقانہ محسوس ہو رہاتھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رکشہ اتنی دیر میں گھننٹہ گھر پہنچ چکا تھا۔ گھنٹہ گھر سے نو نمبر کی طرف جب رکشہ مڑا تو آگے پانی ہی پانی تھا۔ ایک فٹ سے زیادہ ہی تھا کیونکہ رکشہ کے ٹائڑ سے اوپر تھا۔ رکشہ والے نے رکشہ روک دیا۔ میں نے اس سے کہا 250 لے لیین اور وہ راضی ہو گیا۔ رکشہ آہستہ آہستہ چلنے لگا کہ اچانک کسی آدمی کے چیخنے چلانے کی آؤاز نے مجھے چونکا دیا۔ رکشہ رک گیا اور میرے سامنے ایک بیل گاڑی لکڑیوں سمیت گڑی ہوئی تھی۔ گاڑی کا اگلا حصہ نے بیل کو پھانسی سی دی ہوئی تھی۔ بیل گڑگڑا رہا تھا بیل والا چیخ چیخ کر لکڑی کو بھینس کی گردن سے جدا کرنے کی کوشش کر رہا تھا کچھ لوگ ادھر ادھر سے اکٹھے ہو کر اس کی مدد کرنے لگے۔ گاڑی تو اٹھ گئی لیکن بیل۔ اس کی آنکھیں ابل گئی تھیں اس کی موت دیکھ کر مجھے سکتہ سا ہوگیا کسی جانور کو اپنے سامنے مرتے دیکھنا میرے لئے پہلا واقعہ تھا۔ لمحہ لمحہ موت کسی ہوتی ہے۔ یا اللہ معاف کر دے۔ اس رنچ کی کیفیت میں میں کیسے گھر پہنچا یہ میں ہیجانتا ہوں۔ زی روح کیا شے ہے۔ چند سیکنڈ بھی نہی لگتے پھر وہ کس لئے دولت کے محل بناتا ہے۔ لالچ میں اس حد سے گزر جاتا ہے کہ سگے رشتوں کی گردن زنی سے باز نہی آتا۔

  • عمل شیطان

    رات کے دس بجے تھے۔ میں اپنے کمرے میں دکھ کی چادر اوڑھے اداسی کی شاہراہوں پر محبت کے آنسو بہا رہا تھا۔ میرا ہم حجرہ بے سدھ سو رہا تھا۔ اسے سونا ہی چاہئے تھا کیونکہ وہ کون سا محبت میں ہارا ہوا شخص تھا۔ اس کے دل پر کون سے درد و غم کے پہاڑ ٹوٹے تھے۔ آج معلوم ہو رہا تھا کہ جس تن لاگے وہ تن جانے کا مطلب کیا ہے۔ دل کے زخم کسے کہتے ہیں۔ بغیر کسی ظاہری چوٹ کے دل خون کے آنسو کیسے روتا ہے۔ آج آنسوؤں کی ایسی جھڑی لگی تھی کہ میری شرٹ کے کالر تک بھیگ گئے تھے۔ مجھے زندہ رہنے کا کوئی حق نہی۔ میں فریحہ کے بغیر کیسے رہ سکتا ہوں۔ میری سانوں کی ڈور تو اس کی مسکراہٹ سے بندھی ہے۔ اور کیا میں اس کی مسکراہٹ کبھی نہی دیکھ سکوں گا۔ زندہ لاش بن کر رہتے کا تصور ہی بڑا جان لیوا تھا۔ جتنا میں اسے بھولنے کی کوشش کر رہا تھا یاد کے سنپولئے اتنا زیادہ مجھے ڈس رہے تھے۔ زندہ لاش بن کر رہنے سے بہتر ہے مجھے مر جانا چاہئے۔ نہی میں اس کے بغیر نہی رہ سکتا۔ نہی رہ سکتا۔ میں نے منہ پر پڑی چادر اتار پھینگی۔ اندھیرے ناگ زندگی کو زہر آلود کرنے لگے۔ اور میں سوچنے لگا کہ کیسے مرا جائے۔ فریحہ کےلئے جان کسیے دی جائے کہ اسی اثنا میں کمرے کا دروازہ کھٹکا۔
    میں شش و پنچ میں پڑ گیا۔ زہن جو ہجر و مصیبت کی بھول بھلیوں میں دھکے کھا رہا تھا یک دم واپس دنیا میں آ گیا۔ چہرے کو میں نے دونوں ہاتھوں سے صاف کیا اور دروازہ کھول دیا۔ سامنے عدیل کھڑا تھا۔ میں جو چند لمحوں کے لئے سب کچھ بھول گیا تھا۔ عدیل کو دیکھ کر زخموں کے منہ سے پھر خون رسنے لگا تھا۔ میرے بس میں ہوتا تو شائد میں عدیل کو گولی مار دیتا۔ عدیل بھی شائد بھانپ گیا تھا۔ اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ایک لفافہ میری طرف بڑھایا۔

    “ضرور آنا” اس نے مصافحے کے لئے ہاتھ اگے بڑھایا۔ ہمیشہ کی طرح میں ایک لفظ بھی نہ بول سکا۔ جیسے میری زبان گنگ اور جسم پتھر کا ہو گیا ہو۔ وہ جا چکا تھا اور میں دروازے پہ کھڑا بے جان بت کی طرح تب تک ساکت رہا جب تک عدیل نظروں سے اوجھل نہی ہو گیا۔ لفافے کو کھولا تو اس پر چلی حروف سے “شادی مبارک” لکھا تھا۔ تو عدیل اور فریحہ کی شادی کا وققت آ گیا۔ میں نے غصے میں لفافے کو کارڈ سمیت دیوار پہ دے مارا۔ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر میں بستر پر گر گیا۔ ایک بار پھر آنسو میری آنکھوں سے نکل کر میرے گال بھگونے لگے۔ دل کے زخم پھر سے تازہ ہو گئے تھے اور میں دوبارہ مرنے کے طریقے سوچنے لگا۔ کہ نجانے کب میری آنکھ لگ گئی۔

    یکدم مجھے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے بہت سارے پرندے میرے جسم پر پھڑپھڑا رہے ہیں۔ سنسنی کی ایک تیز لہر میرے جسم میں دوڑ گئی۔ کیا میں مر گیا ہوں؟ خوابیدہ زہن میں سوال ابھرا۔ اس سے پہلے کہ میں مکمل ہوش میں آتا میری آنکھ کھل گئی۔ میرے سارے جسم کو جیسےبڑی بڑی سیاہ پروں والی چمگادروں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ میں نے غیر ارادی طور پر ہاتھ پاؤں جھٹکے اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔ جتنا میں ان کو اپنے سے دور کر رہا تھا نہ صرف ان کے پروں کی پھرپھڑاہٹ بڑھتی جا ر ہی تھی بلکہ ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ میرے زہن کے نہاں خانوں میں بس ایک ہی بات تھی کہ اب یہ میرا سارا خون چوس جائیں گی۔ میں کمرے میں بھاگ دور رہا تھا۔ اور چمگادڑیں اسی رفتار سے بڑھتی جا رہی تھیں کچھ میرے ساتھ چپکی ہوئی تھیں، کچھ کمرے میں دائرے کی صورت میں چکر کاٹ رہی تھیں۔ کمرہ ہلکےہلکے اندھیرے میں ہیبتناک صورت پیش کر رہا تھا۔ میں نے کوشش کی کہ کھڑکی سے باہر چھلانگ لگا دوں۔ ساتھ ساتھ میں چمگادڑوں کو ہاتھ سےدور کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور کھڑکی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ وہ میرا خون نہی چوس رہی تھیں لیکن خوف سے میری گھگھی بندھی ہوئی تھی۔ ایک ایک قدم مجھے ایک من کا لگ رہا تھا۔ آخر کار میں کھڑکی تک پینچنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ میں کھڑکی پر چڑھتا۔ سیاہ کالی بلیوں کا ایک جم گفیر کھڑکی کے راستے اندر داخل ہو گیا۔

    میں جیسے چمگادڑوں اور بلیوں میں گھر گیا تھا۔ رات کی سیاہی جیسے بڑھ گئی تھی۔ پڑوں کی پھڑپھڑاہٹ اور گول گول گھومتی گول آنکھوں نے مجھے چند لمحوں کے لئے ساکن کر دیا تھا۔ میری سمجھ نہی آ رہی تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ اوپر کا سانس اوپر اور نئچے کا نیچے رہ گیا تھا۔ میرا کمرہ چمگادڑوں اور بلیوں سے بھرتا جا رہا تھا۔ میرا دم گھٹنے لگا تھا سانس لینا مشکل ہوتا جا رہا تھا نجانے مجھ میں کسیے اتنی ہمت آ گئی کہ میں دروازے کی ظرف دوڑ پڑا۔ میرے پاؤں کے نیچے کئی بلیاں اور چمگادڑیں آ رہی تھیں ان کے خون کی چپپچپا ہٹ سے فضا میں عجیب سی سڑاند محسوس ہونے لگی تھی۔ دروازہ لگ رہا تھا بہت دور ہو گیا ہے میرے چہرے پر بدبودار خون کی چھینٹے پڑ رہے تھے۔ کچھ بلیاں اور چمگادڑیں کمرے میں چلنے والے پنکھے کی زد میں آ گئی تھی۔ مجھے ہوش آ رہا تھا سب سے اہم بات میرے زہن میں یہ تھی کہ دونوں مجھے نقصان نہی پہنچا رہی تھیں۔ اس لئے میں نے سوچا کہ مجھے یہاں سے دور بھاگ جانا چاہئے۔ بہت دور۔ زندگی سے دور۔ زندگی کی مصیبتوں سے دور۔ فریحہ اورعدیل سے دور۔

    جیسے ہی میں کمرے کے دروازے کے قریپ پہنچا، میرے سامنے دروازے پر جیسے فلم چلنے لگے تھی۔ دروازے پر وہ منظر میرے سامنے تھا جب میری پہلی بار فریحہ سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں میتھ ڈپارٹمنٹ میں آنے کے لئے آرٹس ڈپارٹمنٹ سے گزر رہا تھا لیڈیز روم کا دروازہ کھلا اور دھڑام سے میرے چہرے سے ٹکرایا۔ میں جو اپنی دھن میں آگے کی جانب بڑھ رہا تھا دروازہ مجھ سے ٹکرا کر دوبارہ وااپس اسی رفتار سے جس سے ٹکرایا وہ فریحہ تھی۔ ہم دونوں کی آنکھیں ملی۔ گہری سبز آنکھوں نے جیسے جادو کر دیا۔ درد اور وحشت محبت کی گود میں ہلکارے بھرنے لگی۔ فریحہ نے نقاب درست کیا اور ہم دونوں نے یک زبان ہو کر کہا “سوری”۔ وقت شائد ہمیں ملانا چاہتا تھا کہ پے در پے ہمارا آمنا سامنا ہونے لگا۔ کبھی لائبریری میں، کبھی یونیورسٹی آتے ہوئے، کبھی واپس پوائنٹ کی طرف جاتے ہوئے کہ چند دنوں میں ہم یک جان اور دو قالب ہو چکے تھے۔ ہماری محبت چودہویں کا چاند بن گئی تھی۔ ہم شائد ہی ایک دوسرے کے بغیر اب رہ سکتے تھے۔ محبت منصوبے بہت بناتی ہے اور ہم کبھی اس جگہ کبھی اس جگہ بیٹھ کر منصوبے بنا رہے تھے۔ منظر غائب ہو چکا تھا کیونکہ دروازہ یکدم کھل گیا تھا چھوٹے سے دروازے سے ایک دیو نما مخلوق اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ ساری بلیاں اور چمگادڑیں سجدہ ریز تھی۔ کچلی گئی بلیوں اور چمگادڑوں کا خون خود بخود اڑ اڑ کر اس مخلوق کی نکلی ہوئی لمبی زبان میں جزب ہو رہا تھا۔ “یا خدایا” میری زبان سے بلا ارادہ نکلا۔ یہ کہنا تھا کہ دیو نما مخلوق نے اپنی زبان سے مجھے اچھالا کہ میں دیوار پر جا لگا۔ دیوار سے چپکی چمگادڑیں کچھ پھڑپھڑا کر ادھر ادھر ہوگئیں اور کچھ مئرے جسمکے ساتھ چپک گئیں۔ قلابازیاں کھاتے ہوئے میں زمیین پر سجدہ ریز بلیوں کے اوپر گڑا۔ بدبودار خون سے میرے کپڑے رنگین ہو چکے تھے۔ دیو نما مخلوق نے مجھے چاٹنا شروع کیا۔ اور یکدم مجھے اپنین زبان میں لپیٹا اور باہر نکل گیا۔ کوریڈور بھیڑیوں سے بھرا ہوا تھا جو اپنے نوکیلے دانتوں سے عجیب و غریب آوازیں نکال رہے تھے میں نے آخری بار کا سوچ کر فریحہ کا نام لیا اور آنکھیں بند کر لیں کہ اب یا تو وہ دیو نما مخلوق مجھے کھا جائے گی ورنہ میں ضرور بھیڑیوں کی خوراک بنوں گا۔ جن کے نوکیلے دانت یوں چمک رہے تھے جیسے صدیوں سے انہوں نے کچھ نیہ کھایا اور آنکھیں مسرت سے جگمگا رہی تھیں جیسے بہت عرصے کے بعد انہیں کھانے کو کچھ ملے گا۔
    آہستہ آہستہ میں نے آنکھیں کھولیں تو سامنے دو رویہ قطاروں کے درختوں پر پتوں کی جگہ خون کی ڈوبی گردنیں لٹک رہی تیھں ان کی گردنیں ایسے جھکی ہوئی تھیں جیسے دیو نما مخلوق ان کا آقا ہو۔ آگے اگے بھیڑئے اور پیچھے پیچھے بلیاں چل رہی تھیں بلیوں کے اوپر چمگادڑیں اڑ رہی تھیں یہ سب مل کر ایسا ماحول بنا رہتے تھے جیسے کسی خوفناک سی بستی ہو جبکہ ہوسٹل سے ڈھابے کی طرف جانے والی سڑک کہیں کھو سی گئی تھی۔ میں ابھی تک زبان میں لپٹاہوا تھا کہ ڈھابے کےاوپر لگے بورڈ پر دوبارہ منظر جلوہ افروز ہو رہا تھا۔ ہر شے ساکن ہو گئی تھیں اور میں اور فریحہ یونیورسٹی سے گزرنے والی ندی کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے سب کچھ یاد آ رہا تھا۔ وقت جیسے پیچھے چلا گیا تھا۔

    “فریحہ” میرے لہچے میں جیسے پیار کی برسات تھی جس میں فریحہ بھیگ بھیگ جاتی تھی۔ اس کا ہمیشہ اصرار ہوتا پھر کہو نا فریحہ۔ اس نے میرے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ کچھ نہ کہو دیکھو منظر کتنا حسین ہو رہا ہے۔
    “تمہے تو ہر منظر حسین لگتا ہے جب میرے ساتھ ہو۔ چاہے وہ جون کی گرمی ہی کیوں نہ ہو” میں نے اس کے ہاتھوں کو چومنے ہوئے کہا۔ اس نے اپنے ہاتھ کھینچ لئے اور ہمیشہ کی طرح مجھے گھورنے لگی ۔
    میں نے جیب سے انگوٹھی نکالی اور پیار بھری نگاہوں سے فریحہ کو دیکھا۔ “یہ کیا ہے؟” فریحہ نے تجسس سے پوچھا۔ آج میں قسم کھاتا ہون کہ مجھے تم سے محبت ہے اور میں اس محبت کو ہمیشہ کےلئے حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے انگوٹھی پہناتے ہوئے اسے کہا۔ آج سے تم بس میری ہو۔
    اس نے سر میرے کندھے پر رکھ دیا۔ میں نے اس کے بالوں پر بوسہ دیا۔ اس کے ہاتھوں پر اپنے ہونٹؤں کی مہر ثپت کی۔ اور پھر نجانے کیا ہوا۔ وقت جیسے تیز ہو گیا۔ مجھے ہوش نہ رہا اور میں بڑھتا گیا۔ فریحہ روکتی رہی میں اصرار کرتا رہا۔ ندی کا کنارہ اور درخت جس کے نیچے ہم بیٹھے تھے ہماری محبت کا گواہ بن رہا تھا کہ اچانک درخت کےپیچھے سے عدیل آ گیا۔ جتنی دیر میں میں نے اپنے کپڑوں کو درست کیا فریحہ اتنی دیر میں عدیل کے ساتھ جا چکی تھی۔

    ہوا میں اچھلتے ہی جیسے یکبار منظر کہیں کھو گیا۔ اب میں چمگادڑوں کے اوپر فضا میں تھا اور چمگادڑیں مجھے نوچنے لگی تھیں مجھے ایسا لگ رہا تھا میرے جسم کا خون نچڑتا جا رہا ہے۔ بلیوں نے رونا شروع کر دیا تھا اور بھیڑئے غرا رہے تھے۔ درختوں سے لٹکی کھوپڑیاں اونچے اونچے قہقہے لگا رہی تھیں۔ موت میرے سامنے تھی۔میں تو ویسے بھی مرنا چاہتا تھا۔ کاش آخری بار میں فریحہ سے مل سکتا یہ سوچنا تھا کہ چمگادڑوں نے مجھے نیچے پھینک دیا مردہ لاش کی طرح اب میں بلیوں پر سواری کر رہا تھا خون کے بعد اب میرا گوشت کم ہوتا جا رہا تھا میں آہستہ آہستہ مر رہا تھا۔ نیم وا آنکھوں سے میں نے دیکھنے کی کوشش کی اور زور سے پکارا فریحہ۔ دور دور تک لگتا تھا کوئی بھی نیی سوائے خوف کی چادر کے۔ بلیاں چلنا رک گئین تھیں میں تو ندی کنارے درخت کے نیچے زمیں پر لیٹا تھا۔ اور درخت سے لٹکی کھوپڑیاں میرے قریپ ہوتی جا رہی تھیں کہ ایک کھوپڑی نے اپنا دہانہکھولا اور میرے سامنے فریحہ اور عدیل ڈپارٹمنت کے سامنے بیٹھے تھے۔ میں لرزتے قدموں کے ساتھ ان کے قریب گیا۔ یمہشہ کی طرح میری زبان گنگ ہو گئی تھی نجانے عدیل میں ایسا کیا جادو تھا۔ کچھ عرصہ پہلے ہی فریحہ نے بتایا تھا کہ اس کا داخلہ اس کی کلاس میں ہوا ہے اور وہ اس کا بہت اچھا دوست ہے۔ بہت خیال رکھتا ہے۔ مجھے دیکھ کر عدیل نے غصے سے گھورا میں سر سے پاؤں تک کانپ گیا تھا۔ اور اٹھ کر کچھدور جا کر کھڑا ہو گیا تھا۔ میں فریحہ کے پاس بیٹھ گیا۔ چند لمحے ہم دونوں خاموش رہے آخر میں نے کانپتے لہچے میں کہا “میں معافی مانگوں بھی تو تمہے مجھے معاف نہی کرنا چاہے۔ مجھے ایسا نیہ کرنا چاہئے تھا” ابھیمیں یہ ہی کہ پایا تھا کہ آنسو میرے آنکھوں سے رراں تھے میں معافی مانگنا چاہ رہا تھا میں نے دیکھا کہ فریحہ بھی رو رہی تھی شائداس نے مجھے معاف کر دیا تھا اس سے پہلے کہ میں کوئی اور بات کرتا۔ عدیل واپس آ گیا۔ میں بہت کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن عدیل نے یکدم میرا ہاتھ پکڑا مجھے ایسا لگا کسی مظبوط سانجے میں میرا ہاتھ آ گیا ہو۔ “دفعہ ہو جاؤ اور پھر کبھی فریحہ سے ملنے کی کوشش نہ کرنا” اس نے پھنکارا۔

    میں نے بھیگی آنکھوں سے فریحہ کی طرف دیکھا۔ جیسے وہ بھی مجھے کچھ کہنا چاہ رہی تھی کہ اس نے عدیل کی طرف دیکھا اور سر جھکا لیا۔ میں واپس لٹے ہوئے دل کے ساتھ ہوسٹل کے کمرے میں آ گیا۔ کمرے کا دروازہ بند ہوتے ہی وہ دہشت ناک دہانہ خون سے بھر گیا۔ میں جیسے گندگی سے بھر گیا میں اٹھا اور پچھلے قدموں بھاگنے لگا کہ اچانک ایک پتھر سے ٹکرایا اور زمین بوس ہو گیا۔ میرے سامنے آسمان نہی فریحہ تھی دلہن کے لباس میں وہ خوبصورت لگ تہیتھی لیکن اس کی آنکھوں میں اداسی کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا جیسے کہ رہا ہو۔ ہمت ہے تو میری آنکھوں کی مسکراہٹ لوٹا دو۔ میں نے اٹھنے کی کوشش کی کہ فریحہ کاہاتھ پکڑ لوں۔ ہاتھ میرے ہاتھوں میں آیا اس نے وہی انگوٹھی پہن رکھی تھی جو میں نے اسے پہنائ تھی کہ اچانک پھر عدیل اس کے آگے آ گیا۔ انگوٹھی میرے ہاتھ میں رہ گئی اور فریحہ عدیل کے پیچھے چلی گئی۔ آج میں تمہے چھوڑوں گا نہی۔ میں نے پختہ ارادہ کیا۔ جس پتھر سے ٹکرا کر میں گرا تھا وہی میں نے اٹھایا اور ہمت کر کے عدیل کو دے مارا۔ عدیل آگے سے ہٹ گیا اور پتھر فریحہ کے سر پر جالگا۔ فریحہ کےسر سے خون بہ رہا تھا اور وہ لمحہ لمحہ مر رہی تھیں اور میں کچھ نہی کر سکتا تھا۔

    آنکھ کھلی تو کمرہ دن کی روشنی سے بھرا ہوا تھا۔ میرا ہم حجرہ شائد ڈپارٹمنٹ جا چکا تھا۔ زہن میں ہلچل تھی کیا حقیقت کیا افسانہ۔ کیا میں نے کوئی خواب دیکھا تھا؟ شائد۔ یہی سوچ کر جلدی جلدی تیار ہو گر فریحہ کے ڈپارٹمنٹ میں پینچا۔ وہاں سب سوگوار تھے۔ فریحہ کو کسی نے رات کو مار ڈالا۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ فریحہ نہی مر سکتی۔ نہی ایسا نہی ہوسکتا۔ ایسا نہی ہو سکتا۔ مجھے یاد آیا کہ جو کپڑے پہن کررات میں سویا تھا صبح وہ نہی تھے۔ میں بھاگتا ہوا اپنے کمرے میں واپس آیا۔ جلدی جلدی میں نے سامان ادھر ادھر کیا۔ کھڑکی کے نیچے میز پر وہ کپڑے پڑے تھے میں نے انہیں اٹھایا تو اس کی جیب سے خون رس رہا تھا۔ جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس میں وہی انگوٹھی تھی جو فریحہ کو میں نے پہنائی تھی۔ کیا خواب نہی حققیت تھا۔ یہی سوچتے ہوئے میرے دل میں عدیل کا خیال آیا۔ میں تیزی سے دوڑتا ہوا فریحہ کے ڈپارٹمنٹ میں پینچا میرا سانس دھونگی کی طرح چل رہا تھا۔ “عمیر ! عمیر ” میں نے فریحہ کےکلاس فیلو عمیر کو آواز دی۔ عمیر نے آ کر میرے کندے پر ہاتھ رکھا اور افسوس کرنے لگا۔ “وہ عمیر عدیل کہاں ہے؟” میں نے کانپچی ہوئی آواز میں پوچھا۔ “عدیل! کون عدیل” عمیر نے حیرانگی سے پوچھا۔ “تمہارا کلاس فیلو” میں نے بے صبری سے کہا۔ “ہمارا تو ایسا کوئی کلاس فیلو نہی” عمیر نے دوبارہ حیرانگی سسے کہا۔
    میں سر پکڑ کر وہی کاریڈور بیٹھ گیا۔ کہ اچانک سامنے کی جھاڑیوں سے سر سراہٹ محسوس کر کے میں نے سر اٹھایا تو سامنے دو کالی بلیاں سبز آنکھوں سے مجھے گھور رہی تھیں۔

  • لالچ بری بلا ہے

    ایک جنگل میں ایک سفید برف جیسا خرگوش رہتا تھا۔ جسے اس کے والدین گگلو کہ کر پکارا کرتے تھے۔ گگلو کے 5 بہن بھائی تھے۔ اٹلو، شٹلو، مٹلو، ببلو اور شٹالو، پہلے چار بھائیوں کے ساتھ شٹالو بہن کا ساتھ گھر کو گھر بناتا تھا۔
    سب بہن بھائی ماں باپ کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہے تھے . گگلو کو گاجر کھانا بہت پسند تھا۔ اسے جب جہاں گاجر مل جاتی وہ فٹا فٹ کسی کونے کھدرے میں گاجر سمیت چھپ جاتا اور مزے لے لے کر کھاتا جاتا تھا۔ ساتھ ساتھ وہ گنگناتا بھی جاتا تھا۔ “لال لال گاجر، مزے مزے کی گاجر، جب بھی کھاتا ہوں میں، مزے سے کھاتا ہوں میں” کبھی کبھی تو ایسا ہوتا کہ اسے چھپے ہوئے اتنی دیر ہو جاتی کہ ماں باپ پریشان ہو جاتے اور سارے بہن بھائی اسے ڈھنڈنے نکل جاتے۔ کیونکہ گلگو چھوٹآ بھی تھا ور اسی وجہ سے سب اسے بہت پیار کرتے تھے۔ صرف سمجھا کر چھوڑ دیا جاتا تھا ورنہ گلگلو کے ابا بڑے غصہ والے تھے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ وہ بہن بھائیوں کے حصے کی گاجر بھی کھا جاتا۔ لیکن چھوٹا ہونے کی وجہ سے کوئی اسے کچھ نہی کہتا تھا۔
    ایک دفعہ اسیا ہوا کہ گگلو کو بہت بھوک لگی ہوئی تھی۔ اس نے گھر میں دیکھا کہ کہیں اسے گاجر مل جائے اور وہ اپنی پسندیدہ جگہ پر جا کر خوب مزے لے کر اسے کھائے لیکن اس کی یہ خواہش شرمندہ تعبیر نہ ہو سکی۔ وہ اداس گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ ماں نے بہت سمجھایا کہ کچھ اور کھا لے ابا شام کو لے آئیں گے لیکن گلگو نے تو ضد ہی پکڑ لی کہ اسے صرف گاجر چاہئے۔ شٹالو نے بڑے پیار سے سبزیوں کا متنجن تیار کیا تھا اور اس کی خواہش تھی کہ گگلو اسے کھائے لیکن گگلو نے اسے بھی انکار کر دیا۔ اسی اداسی میں وہ گھر سے نکل آیا اور باہر گھومنے لگا۔ ان کے ہمسائے میں بٹآلو فیمیلی رہا کرتی تھی۔ گگلو کو اندازہ تھا کہ ان کے ہاں گاجروں کا سٹاک ہوتا ہے اگر وہ چپکے سے ایک آدھ چوری کر لے گا تو کسی کو پتہ نہی چلے گا ور اس کی خواہیش بھی پوری ہو جائے گی۔ اس نے سرنگ بنانی شروع کی۔ آخر کافی محنت کے بعد وہ بٹالو کے گھر میں داخل ہو چکا تھا اس کا پہلا منصوبہ کامیاب ہوچکا تھا۔ دوسرا اس نے گاجر کی خوشبو کو سونگھ کر وہ جگہ ڈھونڈ لی جہاں گاجریں رکھیں تھیں۔ اس نے اس میں سے ایک گاجر نکالی اور واپس غلطی سے سرنگ کی بچائے دروازے سے نکلنے لگا کہ شٹالوں کو دروازے پر دیکھ کر اس کی گھگھی بندھ گئی۔ شٹالوں سبزیوں کا منتنجن دیتےا ور ان سے ایک گاجر گگلو کے لئے لینے آئی تھی۔
    گگلو کے ابا نے گلگو کو خوب مارا۔ وہ ہر بات برداشت کر سکتے تھے لیکن چوری کو برداشت نہی کرسکتے تھے کبھی ایسا نہی ہوا تھا کہ کسی اور نے ایسا کام کیا ہو۔ سب بہن بھائیوں کے ماں سمیت دل دکھے ہوئے تھے لیکن سب جانتے تھے کہ اسی میں گلگلو کی بہتری ہے۔ گگلو روتی آنکھوں اور اداس چہرے کے ساتھ اپنی پسندیدہ جگہ پر آ گیا۔ کب سے وہ بھوکا تھااور اب تو بھوک کے مارے اس کا برا حال تھا۔ کسی نے اس سے کھانے کو نہی پوچھا کاش اسے وہی گاجر مل جاتی جو بٹالو انکل نے شٹالو کو دے دی تھی۔
    یہی سوچتے سوچتے اس کی آنکھ سے آنسو نکلنے لگے۔کہ کاش وہ ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہوتا۔ پھر وہ بہن بھائیوں کی گاجریں بیھ وہیکھا جاتا کاش دنیا میں کوئی نہ ہو اور وہ ساری گاجریں کھا جائے۔ وہ یہی سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ایک پری کے پر پھرپھرانے کی آواز آئی۔ اندھیرے میں اچانک روشنی دیکھ کر گگلو گھبرا گیا۔ پری نے بہت پیار سے گگلو کی طرف دیکھا ور بولی “مجھ سے مت ڈرو۔ میں تمہے نقصان پہچانے نیہ تمہاری خوایش پوری کرنے آئی ہوں۔ بولو کیا خواہش ہے؟
    گگلو نے پہلے تو سوچا کہ وہ گاجر مانگ لے لیکن پھر یہ سوچ کر کہ گاجر ختم ہو گیئ تو پھر کون گاجر دے گا۔ اس نے پری سے کہا کہ اے پیاری پر ایسا کرو کہ سارے خرگوشوں کو ختم کر دو اور میں ہوں اور گاجریں ہی گاجریں۔
    پری نے دکھ بھری آنکھوں سے گگلو کی طرف دیکھا اور بولی “گلگلو سوچ لو میں تو تمہاری خواہش پوری کر کے چلی جاؤں گا بعد میں تمہے افسوس نہ ہو”
    گگلو نے ایک جست لگائی اور پری کے قریپ پہنچ گیا اور بولا “اچھی پری کیا تم میری یہ خواہش واقعی پوری کر سکتی ہو۔؟”
    پری نے اپنی چھڑی ہلائی اور ہر طرف روشنی بکھر گئی۔ گگلو نے سر اٹھا اٹھا کر دیکھنا شروع کیا۔ ہر طرف گاجریں ہی گاجریں تھیں۔ اس نے کانپتے کانپتے ہاتھوں سے ایک گاجر اٹھائی اور چاروں طرف دیکھتے دیکھتے کھانے لگا۔ کہیں کوئی نہی تھا وہ اکیلا تھا ور گاجریں اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ اس کی سب سے بڑی خواہش پوری ہو چکی تھی۔ اب وہ اتنی گاجریں کھائے گا کہ ابس کھاتا ہی جائے گا۔ گاجریں کھاتا جاتا تھا اور گاجروں میں کوئی کمی نہ تھی۔ جب گگلو کا پیٹ بہت زہادہ پھر گیا تو اسے نیند آنے لگی۔ اور وہ سونے لگا لیکن اچانک اسے ماں کی یاد آنے لگی۔ ماں اسے لوری گا کر سنایا کرتی تھی۔ سو جا رے دلارے، سو جا چاند اور تارے اور آج کوئی اسے لوری سنانے والا نہ تھا۔ اب اسے نیند کیسے آئے گی۔ جب تک شٹالو اس کے ماتھے پر پوسہ نہی دیتی تھی وہ سوتا نہی تھا۔ اب وہ شٹالو کو کہاں سے لائے۔ اچانک اس کے پیٹ میں درد شروع ہو گیا۔ اسے تکلیف محسوس ہونے لگی تھی۔ زیادہ گاجریں کھانے سے اس کی طبیعت بگڑنے لگی تھی۔ اوہ اسی لئے ماں اسے مناسب مقدار میں کھانے کو دیتی تھی۔ تکلف بڑھتی جا رہی تھی اور چاروں طرف گاجروں کے سوا کچھ نہ تھا۔ گگلو دھاڑیں مار مار کر رونے لگا اور سوچنے لگا کہ اس نے لالچ میں آ کر یہ خواہش کر دی۔ اور اب وہ اکیلا ہے کیا اکیلے بھی زندگی زندگی ہے۔ کاش اس کے ماں باپ بہن بھائی سب دوبارہ آ جائیَ لیکن رو رو کر وہ جپ ہو چکا تھا دور دور تک سوائے گاجروں کے کچھ نہی تھا۔
    اچانک اسے ایسا محسوس ہونے لگا اس کا پیٹ پھٹ جائے گا۔ اس نے تھوڑا بہت چلنے کی کوشش کی تو اسے قے شروع ہو گئیں۔ قے کر کے وہ نڈھال گر چکا تھا۔ گاجریں اسے خوفناک ہیولے دکھائی دے رہے تھے۔ خاندان کی یاد اسے جھنجھوڑ رہی تھی۔ ماں کی بات اچانک اس کے زہن میں آئی کہ جب بھی کوئی مصیبت ہو فورا سر کو سجدے میں رکھ کر اللہ تعالی سے دل سے دعا مانگو وہ ضرور پوری ہو گی۔ گگلو نے ہمت کر کے زاروقطار روتے ہوئے سر کو سجدے میں رکھا اور اللہ تعالی سے اپنے لالچ کی معافی مانگی۔ ابھی دعا پوری نہی وہئی تھی کہ وہی پری دوبارہ حاضر ہوئی اب وہ بہت خوش تھی۔ کہ گگلو کو احساس ہو چکا تھا کہ ماں باپ، بہن بھائی اور عزیز رشتہ داروں کے بغیر زندگی کچھ نہی۔ سب کے ساتھ مل جل کر رہنے میں ہی زندگی کا راز چھپا ہے۔ پری نے چھڑی ہلائی اور سب کچھ پھر ویسے ہو گیا۔ شٹالوں گاجر اور سبزیوں کا متنجن لئے اس کے سامنے کھڑی تھی۔

  • رکشہ کہانی نمبر۴، نیکی

    ٍ
    بخشو نے پانی کی بوتل کو منہ لگایا اور گٹا گٹ کئی گھونٹ پی گیا۔ نام تو ااس کا اللہ بخش تھا لیکن بخشو کے نام سے جانا جاتا تھا، آج گرمی کافی زیادہ تھی۔ لو چل رہی تھی اس لئے وہ بچیوں کو لینے جلدی پہنچ گیا تھا۔ اس نے رکشہ سے اتر کر طائرانہ نگاہوں سے پارکنگ میں نگاہ دوڑائی اور ایسی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں چھاوؐں ہو۔ اس وقت پارکنگ خالی تھی۔ “ابھی سکول میں چھٹی ہو جائے گی تو کچھ دیر کو یہاں تل دھرنے کو جگہ نہ ہو گی” شہادت کی انگلی سے ماتھے کا پسینہ جھٹکے سے زمین ببوس کرتے ہوئے اس نے سوچا۔ بائیں طرف اسے اونچی دیوار کا سایہ نظر ٓایا۔ اس نے رکشہ چھاوؐں میں کھڑا کیا اور رکشہ کے پچھلے حصے سے کاندھے جوڑ کر آنکھیں موند لی۔ ایک سکون کی لہر اس کے اندر سرایت کر گئی۔ بعض اوقات زندگی میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں کہ لگتا ہے کہ اب سکون ہی سکون ہو گا مگر عموما اسیے لمحوں کے بعد ہی پریشانیوں کا آتش فشاں پھٹ جاتا ہے۔
    پندرہ سال ہو گئے تھے بچیوں کو سکول چھوڑتے ہوئے۔ ابھی کل کی بات لگتی ہے۔ سرکاری محکمے میں چپراسی کی نوکری کرتے ہوئے گھر کا خرچہ چلانا مشکل تھا۔ ایک غربت اس پر سات بچوں کا ساتھ۔ جب بقایا جات حاصل کر کے نوکری چھوڑنے کی بات چلی تو تو جیسے یہ بخشو کے دل میں تھا۔ صاحب لوگوں کی گالیاں سن سن کر بخشو بھول ہی گیا تھا کہ وہ بھی ایک عزت دار انسان ہے۔ اس نے فورا درخواست دے دی۔ درخواست منظور ہو گئی۔ اس نے کچے کمرے کو پکا کروایا۔ ایک رکشہ خریدا اور دن گزرنے لگے۔ شروع شروع میں کچھ دقت ہوئی پھر سکول اور اکیڈمی لگا لی۔ بڑے خرچے اس سے نکل آتے تھے اور کچھ دیہاڑی لگا کر دن کا خرچہ نکال لیتا تھا۔ اس کی سوچ بھی آہستہ آہستہ رکشہ والوں جیسی ہو گئی تھی کہ دن کا خرچہ پورا ہوا اور گھر کا رخ کیا۔ بچے بڑے ہو گئے تھے بیٹیاں سمندر کے بہاؐو کی سی تیزی سے بڑی ہو چکی تھی۔ بیٹیوں کا خیال آتے ہی باپ کا دل محبت سے لبریز ہو جاتا ہے مگر ساتھ ہی ان کی شادیوں کی فکر اور جدائی آنکھ میں آنسو بھر دیتی ہے۔ بخشو انہی خیالوں میں تھا کہ گاڑی کی بریک لگنے کی زوردار آواز سنائی دی۔ بخشو نے یکدم آنکھیں کھول دی۔
    آنکھیں صرف کھلی ہی نہی بلکہ حیرانگی سے پھیل گئیں۔ گاڑی کی فرنٹ سیٹ سے زرمینہ اتر رہی تھی۔ زرمینہ گاڑی سے اترتے ہی سکول کا دروازہ عبور کر گئی۔ گاڑی ایک نوجوان لڑکا چلا رہا تھا۔ بخشو صرف یہ ہی دیکھ سکا کہ اس نے پونی میں بال باندھ رکھے تھے کیونکہ گاڑی گھوم کر واپسی کے لیے مڑ چکی تھی۔بخشو تین لڑکیوں کو سکول لاتا تھا ایک لڑکی کچھ مہینے پہلے آنا شروع ہوئی تھی اور دو پندرہ سالوں سے آ رہی تھیں تینوں بخشو کے لیے بیٹیوں کی طرح تھیں۔ پچھلے پندرہ سالوں میں بخشو ان کے لئے باپ جیسا ہی تھا بچپن کی شرارتوں سے لے کر عزت و احترام تک بخشو نے کئی پل ان کے ساتھ گزارے تھے۔ان کے والدین، قریبی عزیز رشتہ دار اور بچیوں کی زیادہ تر سہیلیوں کے بارے میں کافی معلومات تھیں لیکن گاڑی والے کو وہ نہی جانتا تھا۔
    سکول میں چھٹی ہوئی تو تینوں لڑکیاں زرمینہ سمیت یکے بعد دیگرے آ کر سلام کے بعد رکشہ میں بیٹھ گئیں۔ زرمینہ سر جھکائے اپنے موبائل میں مصروف تھی۔ “نہی ! نہی میں غلط سوچ رہا ہوں” بخشو نے رکشہ سٹارٹ کرتے ہوئے سوچا۔بخشو کے دل میں عجیب و غریب خیالات آ رہے تھے۔ وہ زرمینہ کو بیٹی کی طرح سمجھ کر گھبرا رہا تھا۔ خود کو سوچنے سے منع کر رہا تھا۔ ہو سکتا یے سکول کے کام سے گئی ہو۔ لیکن وہ لڑکا واپس کیوں چلا گیا۔ بخشو کا زہن سوال و جواب سے لڑ رہا تھا کہ اسے راحیلہ کی آواز سنائی دی “زرمینہ۔۔۔ زرمینہ آج کل موبائل ہم سے اچھا ہو گیا ہے۔ “ارے نہی بس وہ” زرمینہ نے جھینپتے ہوئے کہا۔ “آج تو ایک بھی پیرئیڈ فری نہی تھی اس لیے تھوڑا تھک گئی ہوں” زرمینہ نے موبائل کو بیگ میں رکھتے ہوئے کہا۔ بخشو کے دل میں شک کے ناگ پھن پھیلا چکے تھے۔ شک بھی کیسا عمل ہے زہن تیز اور سوچ تیز ترین ہو جاتی ہے اور جب بات عزت کی ہو افسوس کے سنبوئیے ڈسنے لگتے ہیں اور بخشو کے ساتھ یہی سب گزر رہا تھا۔
    بخشو کو ساری رات نیند نہی آئی کبھی اپنی بیٹیوں کو دیکھتا کبھی زرمینہ کے بارے میں سوچتا۔ اسے ایسا ہی لگ رہا تھا زرمینہ اس کی بیٹی ہی تو ہے۔ نا معلوم کب سے یہ سب چل رہا ہے۔ نہی مجھے اس کے والدیں کو بتانا چاہیے۔ نہی کوئی بات کرنے سے پہلے مجھے کنفرم کرنا چاہئے ایسا نہ ہو کچھ غلط ہو جائے ایسی کوئی بات ہو ہی نا۔ مگر زرمینہ نے سہیلیوں سے جھوٹ کیوں بولا۔اگلے دو دن بخشو جلدی پہنچ جاتا وقت سے بیت پیلے مگر زرمینہ چھٹی کے وقت ہی سکول سے نکلی۔ بخشو نے سکون کا سانس لیا شکر ادا کیا کہ ایسی کوئی بات نہی تھی۔ خود لو لعنت ملامت کرتا رہا کہ اس نے بیٹی پر شک کیا۔ چند دن خاموشی سے گزر گئے۔ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ ایک دن دونوں لڑگیاں چھٹی کے بعد آ گئیں مگر زرمینہ نہ آئی۔ صبح وہ ان کے ساتھ آئی تھی اور کبھی اس کے والدین چھٹی سے پہلے لے جاتے تو فون کر دیا کرتے تھے۔ آج کوئی فون نہی آیا تھا۔ اب تو زرمینہ کے پاس بھی فون تھا لیکن اس نے بھی نہی کیا تھا۔ پارکنگ چھٹی کے دس منٹ کے اندر ہی خالی ہو گئی تھی۔ بخشو کے پاس موبائل نہی تھا جس میں زرمینہ کے گھر کے نمبر تھے۔ راحیلہ زرمینہ کا نمبر ملا رہی تھی مگر بند جا رہا تھا۔ دوسری لڑکی سکول سے ہو آئی تھی اندر بھی نہی تھی۔
    بخشو نے رکشہ سٹارٹ کیا ہی تھی کہ وہی گاڑی سکول کے دروازے سے تھوڑی دور تیزی سے آ کر رکی۔ زرمینہ گھبرائی ہوئی نظرئں چراتی رکشہ میں آٓ کر بیٹھ گئی، “گزن ہے مییرا” گھبرائے ہوئےہی اس نے سانس درست کرنے ہوئے کہا۔باقی دونوں لڑکیاں آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرنے لگیں۔ بخشو کی سمجھ میں کچھ نہی آ رہا تھا۔ “بیٹا کہاں گئی تھی؟” بخشو نے پیچھے مڑ کر پوچھا اسی اثنا میں گاڑی واپس جا چکی تھی۔ “اپ ا[نے کام سے کام رکھیں” زرمینہ نے تحکم سے کہا۔ بخشو سر جھکا کر رکشہ چلانے لگا مگر دل غصے اور پریشانی سے لبریز تھا اسے ایسا ہی لگ رہا تھا کہ اس نے اپنی بیٹی ہی کو کسی غیر مرد کے ساتھ دیکھا دو آنسو اس کے گالوں سے پھسل کر گم ہو گئے۔
    صبح اٹھ کر وہ ایک فیصلہ کر چکا تھا زرمینہ کے والدین کو سب کچھ آگاہ کرنے کا۔ دروازہ بجانے پر زرمینہ کا چھوٹا بھائی آیا۔ “خان صاحب ہیں، مجھے ملنا ہے” بخشو نے کانپتے دل سے کہا۔ لڑکا اسے “بیٹھک” میں بٹھا کر خود اندر چلا گیا۔ ابھی ایک منٹ ہی گزرا تھا کہ اندر سے زرمینہ کے رونے کی آواز بضشو کے کانوں سے ٹکرائی۔ چند لمحوں میں زرمینہ کے ابا، ماموں اور بھائی غصے سے کمرے میں داخل ہوئے۔ان کے پیچھے زرمینہ ماں کے ساتھ آنسو بہاتی داخل ہوئی، “یہ کہ رہے تھے میں نے کچھ بتایا تو مجھے بدنام کر دیں گے” زرمینہ نے روتے ہوئے کہا “زرمینہ نے کل بھی بتایا تھا کہ اس نے الٹی سیدھی حرکت کی تھی۔ “ نے غیرت، بچیوں جیسی ہے تیرے لئے” ماں نے دھاڑتے ہوئے کہا بخشو حیران و پریشان تھا وہ تو نیکی کرنے آیا تھا اس کی سمجھ میں کچھ نہی آ رہا تھا۔ اس نے بات کرنے کی بہت کوشش کی مگر اسے اس کا موقع ہی نہ ملا۔ بخشو کی آنکھ کھلی تو وہ اپنی پامال عزت کے ستھ ہسپتال کے بستر پر دراز تھا”۔