Author: Sajid Hussain

  • ہم نے چوہا بھگایا

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    میں آفس سے گھر آیا تو بجے ہمیشہ کی طرح بڑے باادب ہو کربیٹھے تھے۔ سارا دن جو اچھل کود کریں میرے گھر آنے پر ایسے معصوم بن کر بیٹھ جاتے تھے جیسے انہوں نے کچھ کیا ہی نہی۔ شام کے سات بجنے والے تھے۔ اور لائٹ جانے والی تھی۔ قسیمہ اور غازیاپنی کلاس ٹو کی کتابیں سنبھالے تھے اور عون اور جون کارٹون مزے لے رہے تھے۔سات بجتے ہی لائٹ چلی گئی۔ میں منہ یاتھ دھو، کپڑے بدل کر جب آیا چارجنگ لائٹ سے پالا پڑا۔ کہ یکدم جون بھاگتا ہوا میرے پاس آیا۔ بابا جی بابا جی “چوہے کی آواز آ رہی ہے۔” چوہے کی میں نے حیرانی سے پوچھا۔ یہاں کہاں سے آ گیا۔ میں نے کرسیوں کے نیچے۔ بیڈ کے نیچے، ٹی وی ٹرالی کھسکا کر، ٹیبل کے اردگرد نظر ماری۔ نہی بیٹا جو اس وقت قسیمہ غآزی اور عون کے ساتھ بیڈ پر چڑھے خوف کی حالت میں کھڑے تھے۔ تم سب کو کیا ہوا ہے۔ میں نے حیرانی سے پوچھا۔ کچھ نہی ہے۔ آرام سے بیٹھ جاؤ۔ لیکن بچوں نے ان سنی کر دی وہ ایسے ہی بیڈ پرکھڑے تھے جیسے ابھی دوڑ لگانے والے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے نا بیٹا۔ کچھ نہی ہے۔ بچے بیٹھ گئے۔ کتاب لے کر میں نے ان سے سننا شروع کر دیا۔ لائٹ نہ ہونے کا بچوں کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ لکھنا نہی پڑتا۔ کچھ دیر ہی گزری تھی کہ اچانک چوچی جو چی کی آواز پھر سنائی دی۔ ادھر میرے کان کھڑے ہوئے ادھر بچے پھر سہم کر بیڈ پر کھڑے ہو گئے۔ جون نے چیخیں مارنا شروع کر دیں۔ چوہا آ گیا چوہا آ گیا۔ چپ میں نے انہیں ڈانٹآ۔ چارجنگ لائٹ لے کر میں نے بیڈ کے پچھلی طرف دیکھا۔ ارے یہ کیا۔ اتنا موٹا تازہ چوہا۔ سیاہ رنگ کا اور کانٹوں والا یہ تو مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ اسے گیس کہتے ہیں۔ بڑے آرام سے آرام فرما رہا تھا۔ اتنا موٹا تازہ چوہا دیکھ کر دل میرا بھی کچھ کچھ دھڑکنے لگا۔ میں نے بچوں کو ہانگ لگائی بستر سے نہ اترنا۔ قسیمہ غازی ڈرتے ڈرتے چوہا دیکھنے بیڈ کی پچھلی سائڈ پر آ گئے عون اور جون نے دھاڑیں مار کر رونا شروی کر دیا۔ میں بے بیگم کو آواز دی کہ جلدی سے وائبر لے آؤ اور بچے باہر لے جاؤ۔ لیکن بچوں نے بستر سے اترنے سے انکار کر دیا۔ میں نے وائپر سے چوہے کو ٹھوکا دیا تو وہ خرگوش جیسا کچھوے کی رفتار سے بیڈ کے پیچھے سے نکل کر میری طرف ہی آنے لگا میں نے جلدی سے وائپر پھینک اور بچوں کے ساتھ بستر پر چڑھ گیا۔ بیگم نے حیرانی سے مجھے دیکھا اسی اثنا میں چوہا ٹی وی ٹرالی کے نیچےخراماں خراماں چلتے ہوئے گھس چکا تھا۔ ہی ہی یہ۔۔۔۔۔یہ چوہا چلتا کیسے ہے۔ اتنی آہستہ۔ بچے مجھ سے چمٹ چکے تھے اور زور زور سے پکار رہے تھے بابا موٹا چوہا بابا موٹا چوہا۔ ہٹو پیچے میں نے غصے سے کہا۔ بابا موٹآ چوہا ہے کہا۔ چپ کرو۔میں نے گرجتے ہوئے کہا۔ بیگم جو ٹیبل کے پاس تھی وہ بیڈ کے پاس آئی اور وائپر اٹھانے لگی کہ چوہا ٹی وی ٹرالی سے نکلا اور واپس بیڈ کی طرف آنے لگا اب بیگم کی باری تھی بیڈ پر چڑھنے کہ آپ پہلی بار بیگم کو ہم نے اتنی تیزی سے بیڈ کی جانب آتے دیکھا حالانکہ چوہا نجانے کیوں بڑی آہستہ رفتار سے چل رہا تھا۔ شکر ہے وائپر اٹھا لیا تم نے میں نے اپنا خوف چھپاتے ہوئے کہا۔ ہاں ورنہ چوہا وائپر ہی نہ جائے اس لئے اٹھا لیا۔ بیگم نے کچھ طنزیہ لہچے میں کہا اب بچے مکھے چھوڑ کر ماں کے گرد ہو چکے تھے یہ لیں وائپر اور نکالیں اسے۔ بیگم نے تحمکانہ لہجے میں حکم دیا۔ اور بیگم کے حکم پر تو چوہا بھی شیر بن جائے ہم کہاں کے غازی تھے جو بحث کرتے لیکن خبیث چوہا بھی ہمیں اس وقت ہاتھی دکھائی دیتا تھا۔ کھا کھا کر اتنا موٹا ہو چکا تھااور اوپر سے اس کے جسم پر کانٹے کراہت الگ ہو رہی تھی۔

    بچوں کو باہر لے جاؤ۔ میں نے بیگم سے کہا۔ لیکن بچوں نے باہر جانے سے انکار کر دیا۔ جون ماں کی گود میں چڑھ چکا تھا۔ عون نے ماں کا بازو پکڑا ہوا تھا اور غازی نے ڈوپٹہ۔ قسیمہ نے جھٹ سے وائپر لیا اور بولی۔ بابا چوہے کو میں مارتی ہوں۔ نہ بیٹا آپ ادھر ہی رہو۔ میں نے پدرانہ لہجے میں کہا۔ بچوں کے سامنے بہادر تو بننا پڑے گا۔ وائپر لے کر میں بیڈ سے نیچے اترا۔ دھڑکتے دل اور کانپتے ہاتھوں سے وائپر مارنے لگا چوہے کو بھی احساس ہو چکا تھا کہ اب خیر نہی۔ اس نے ٹیپل کی جانب جانے کی کوشش کی ہم نے وائپر دے مارا چوہا گولا سا بن گیا۔ ہائےےےےےےےےے میری بیگم نے اب کے چیخ ماری جو بچوں سے زیادہ خطرناک تھی۔ یہ چوہا نہی کچھ او رہے ماریں ماریں زور سے ماریں چوہا گولا بنا چلتا جا رہا تھا اور میں مارتا لیکن چوہے پر کچھ اثر نہی تھا۔ میں نے اسے گھسینٹا شروع کر دیا بچے ماں سمیت دیکھنے کے لئے نیچے اتر آئے لیکن اچانک چوہے نے باہر جانے کی بچائے واپس اند آنے کی کوشش کی وائپر کا پچھلا کونا ٹھا کر کے ٹی وہ پر پڑا، چھناکے کی آواز آئی عون مئرے ساتھ چپک گیا، جون ماں کی گود میں تھا، قسیمہ چلدی سے بیڈ پر چڑھ گئی اور وائپر گھومتے ہوئے غازی کے چہرے سے ٹکرایا کچھ خود کچھ درد سے اس کی کراہیں پورے گھر میں گونچنے لگی۔ باہر کا دروازپیٹا جانے لگا شائد شور کی آوازوں سے محلے والوں نے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا تھا۔ بھاگو بھاگو باہر بھاگو میں نے بلند آواز سے کہا سارے باہر کی طرف بھاگے دروازہ کھولا اور گلی میں باہر ساتھ والے انکل دروازہ بچا رہے تھےبیوی بچوں کو بھاگتا دیکھ کروہ بھی بھاگنے لگے اور میں پریشان ہو گیادروازے پر آوازیں دینے لگا کہ اس سے پہلے دیر ہو جائے رک جاؤ۔ بیوی بچوں کو ہمسائے کے گھر بٹھایا اور انکل کے ساتھ مل کر چوہے کو گھسیٹ کر باہر نکالا باہر نکلتے ہی وہ یہ جا وہ جا۔ مڑا پھر بھی نہی کیونکہ جب اسے مارنے لگتے وہ گولا سا بن جاتا۔ اس طرح ہم نے چوہا بھگایا۔

  • شادی

    سنا کرتے تھے ایک نیام میں دو تلواریں نہی رہ سکتی۔ یہ بات واقعی سچ ہی لگتی تھی۔ ہے سے ابھی اتفاق نہی ہے اس کے لئے آپ کو یہ پورا خاکہ زبان من سے ازبر کرنا پڑے گا۔ خیالوں کی دنیا میں دو تلواروں کو ایک نیام میں ڈالنے کی کوشش بھی کی تو دونوں تلواریں اکٹھی نہی ہو سکیں۔ ایک تو ٹکرائی بہت دوسرا نیام کا جو حال ہوا سو ہوا۔

    کبھی کسی نے سنا ہے کہ زمین کے دو سورج ہو سکتے ہیں۔ جناب ایک نہی سنبھالا جا رہا دو ہو گئے تو الامان الحفیظ۔! کبھی میدانی علاقوں میں ایک ہی سورج کی تباہ کاریاں تو دیکھیں۔ دن بھر ایسی لو چلتی ہے کھال پگھل جائے۔ آپ سب کو تو معلوم ہی ہے کہ ایک صوفی بزرگ کو بھوک لگی تو گوشت بھوننے کے لئے انہوں نے سورج کو اپنے پاس بلا لیا اور تب سے ہر سال سورج تجدید عہد وفا کے لئے اتنا نزدیک آتا ہے کہ جسم کا گوشت جلنے لگے بھلا ہم بھی کوئی صوفی ہیں۔ جوصرف بوٹی بھون سکیں اور اپنے جان ناتواں کو بچا سکیں۔ لیکن سورج کیسے سمجھے۔

    زمانے کا یہی دستور رہا ہے چال چلن بھی کہ سکتے ہیں کہ جوان ہوتے ہی لڑکا اور لڑکی کو ایک دوسرے کے پلے باندھ دیا جائے لیکن ایک بیگم کا مل جانا بھی آج کے دور میں ملنا مشکل سے مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔۔ میاں بیوی کے رشتے کو دنیا بھر میں سب سے قریبی رشتہ سمجھا جاتا ہے کہ اور عام طورپر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی بات کسی اور کی نسبت کہیں زیادہ بہتر انداز میں سمجھ لیتے ہیں۔ یقنناً آپ کی بھی یہی رائے ہوگی ، مگرایک حالیہ سائنسی تحقیق اس نظریے کی نفی کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ دو اجنبی شخص ایک دوسرے کی بات سمجھ سکتے ہیں ، مگر میاں بیوی یا شریک زندگی کے طورپر ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والے جوڑے نہیں۔ میاں بیوی کارشتہ سب سے پکا رشتہ ہوتا ہے ٹہرئے بلکہ سب سے کچا ہوتا ہے۔ سب سے لطیف اور بسا اوقات سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتاہے۔ یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ لطیفوں کی دنیا میں سب سے زیادہ لطیفے میاں بیوی سے ہی منسوب ہیں ۔ اور یہ بھی عام مشاہدے کی بات ہے کہ اکثر بیویاں اپنے شوہروں کے بارے میں یہ کہتی پائی جاتی ہیں کہ وہ ان کی نہیں سنتے اور اکثر شوہروں کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ بیگم ان کی بات پر دھیان نہیں دیتی۔ ان دنوں فاصلوں کے درمیان جو چیز اپنا وجود رکھتی ہے، اس کے بارے میں نفسیاتی ماہرین کا کہناہے کہ وہ ہے ایک دوسرے کے بارے میں نہ جاننا۔ تبھی تو جب ایک بیوی نے شوہر سے پوچھا کہ آپ کو میری خوبصورتی اچھی لگتی ہے یا عقل مندی تو میاں جی تھوڑا سا مسکرائے بلکل “ان” کی طرح اور برجستہ بولے۔ تمہارے مزاق کرنے کی عادت۔ اسی طرح ایک صاحب نے جی “انہوں” نے ہی دوسرے صاحب سے پوچھا کہ جناب خوشیاں کیا ہوتی ہیں دوسرے صاحب بولے بھائی ہمیں کیا معلوم ہماری تو کم عمر میں شادی ہو گئی تھی۔

    تو ہم بات کر رہے تھے جب ایک تگنی کا ناچ نچا سکتی ہے تو دوسری کی خواہش کون کافر کر سکتا ہے۔ اور خوایش کر کے اسے پایہ تکمیل تک پہنچا بھی لے تو وہ کون سا ناچ نجائے گئی یہ سوچ کر ہی دل وحشی کو غوطے آنے لگتے ہیں اگر کسی کا ارادہ ہے بھی تو اس وقت سے ڈرئے جب دونوں مل کر ناچ کی بچائے ناکوں چنے چبوائیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے کہ بات ہے کہ شوہر صاحب دوسری منکوحہ کے ساتھ مارکیٹ میں ٹامک ٹؤئیاں مار رہے تھے کہ پہلی والی اچانک وارد ہو گئیں پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ اسے لوڈ شیڈنگ سے براہ مہربانی نہ جوڑا جائے۔ جب شوہر صاحب کی مزاج پرسی کے لئے ہم گئے تو انہوں نے برجستہ کہا۔”محبت اور جنگ میں سب جائز ہے” اب نجانے یہ محبت تھی کہ جنگ جس میں نقصان اپنا ہی ہوتا ہے۔ اور اگر میں آپ سے کہوں کہ ایک شخص کی کئی بیویاں ہیں تو اوپر سے آپ مسکرائیں گے لیکن دل ہی دل میں بے چارے پر فاتح پڑھیں گے اور سوجیں گے کہ ساری کی ساری گنگی بہری ہونگیں تبھی تو ابھی تک ہیں۔ ہم نے تو جناب بڑے بڑے لوگ دیکھیں ہیں۔ نہی نہی عالم چنا جیسے بڑے نہی “بڑے بڑے” سے مراد “بڑے بڑے” ایک تو آپ ہر لفظ کو شاعروں کی طرح تولنے لگ جاتے ہیں دہی بڑے والے بڑے بھی نہی۔ بڑے بڑے۔ جیسے اب ان کو ہی دیکھئے
    میاں بیوی سونے کی تیاری کر رہے تھے۔ اچانک بیوی بولی

    بیوی: سنو ! کیا تم میرے مرنے کے بعد دوسری شادی کر لو گے ؟؟
    شوہر: نہیں‌بیگم۔ تمہیں پتہ ہے میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں۔ میں دوسری شادی نہیں کرونگا۔
    بیوی: لیکن تم اتنی لمبی زندگی تنہا بھی تو نہیں‌گذار سکتے ۔ شادی تو تہمیں کرنا ہو گی
    شوہر: دیکھا جائے گا ۔ اگر ضروری ہوا تو کر لوں گا!!
    بیوی: (دکھ بھری آواز میں ) کیا تم واقعی دوسری شادی کر لو گے ؟
    شوہر: بیگم ! ابھی تم خود ہی تو زور دے رہی تھی۔
    بیوی: اچھا کیا تم اسے اسی گھر میں لاؤ گے ؟
    شوہر: ہاں۔ میرا خیال ہے ہمارا گھر کافی بڑا ہے اور اسے یہیں رہنا ہو گا
    بیوی: کیا تم اسے اسی کمرے میں رکھو گے
    شوہر: ہاں کیونکہ یہی تو ہمارا بیڈ روم ہے
    بیوی: کیا وہ اسی بیڈ پر سوئے گی
    شوہر: بھئی بیگم ظاہر ہے اور کہاں سوئے گی
    بیوی: اچھا کیا وہ میری جیولری استعمال کرے گی؟؟
    شوہر: نہیں اس جیولری سے تمہاری سہانی یادیں وابستہ ہیں ۔ وہ یہ استمعال نہیں کرسکے گی
    بیوی: اور میرے کپڑے ؟؟
    شوہر: پیاری بیگم ! اگر مجھے شادی کرنا ہوئی تو وہ کپڑے بھی خود ہی لے کر آئے گی۔
    بیوی: اور کیا وہ میری گاڑی بھی استعمال کرے گی ؟؟
    شوہر: نہیں ۔ اسے گاڑی چلانا نہیں آتی۔ بہت دفعہ بولا لیکن وہ سیکھنا ہی نہیں چاہتی ۔

    مگر مجال ہے کہ ہم آج تک جان سکیں ہو کہ میاں کوں ہیں اور بیویاں کون یا بیوی کون اور میاؤں کون چھوڑیں جناب آج کل تو سب چلتا ہے۔ ہمیں تو ان پر ناز ہے مجال ہے نو نو بیویوں کے ہوتے ہوئے انہوں نے ہمیں لفٹ نہ کروائی ہو۔ ہمیں ہی کیا اتنے بڑے دل کے مالک ہیں کہ سب کو اپنی بانہوں میں چھپا سکتے ہیں۔ لیکن جسے پیا چاہے وہ بننے میں تو ابھی زمانہ ہے۔ کیونکہ ان کی سب سے اچھی منکوحہ ہر فن مولا ہے نظروں کے ایسے ایسے تیر چلاتی ہے کہ کسی کی کیا مجال بچ کر نکل جائے ادب کی کون سی صنف نہی جو پر عبور نہ ہو۔ دوسری بیوی چاہتی تو بہت کچھ کرنا ہے لیکن کیا کرے بڑی آپا کی سوتن ہونے کی وجہ سے دبی دبی رہتی ہے۔ تبھی تو کبھی کسی کو ڈسلائک نہی کرتی حتی کہ خود کو بھی نہی۔ تیسیری کے تو مزاج ہی انوکھے ہیں۔ میاں کے ادھر ادھر ہونے کی وجہ سے اس نے اپنی دینا آپ بنا ڈالی ہے اور چوبیس گھنٹے مجال ہے سکون کا سانس لے۔ جب کچھ کرنے کو نہی ہوتا تو مادری زبان کے چٹخارے لینا معمول بنا لیا ہے۔ چوتھی کا کیا بتائیں۔ دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں۔ چہرے پر ایسی معصومیت کہ نطریں تعظیم کے لئے چھک جائیں اند خانے معلوم نہی کرتوت کیسے ہونگیں۔ ماشااللہ پانجویں اور چھٹی تو ٹون لگتی ہیں نجانے کیسے پتہ چلاتے ہونگیں کہ کون سی والی ہے شائد بلیک اینڈ وائٹ سے۔ ساتویں کو تو سنگھارسے ہی فرصت نہی ملتی، گنگی چوٹی سے جان چھوٹے تو کوئی کام کرے اور ہمیں بھی معلوم ہو کہ کیا گن آتے ہیں۔ باقی دو کچھ عرصے کے لئے دور دور ہیں بہانا تو یہ بنایا ہوا ہے کہ وقت نہی ہوتا لیکن وقت کب نہی ہوتا شائد کسی اور ڈائمنشن میں رہتی ہوں۔ ہم نے کہا تھا کہ ہم بتائیں گے ایک نیام میں بہت سی تلواریں کیسے رہ سکتی ہیں تو جناب اب آپ ہی فیصلہ کیجئے یہ نیام کی اچھائی ہے یا تلواروں کی۔

    ہم نے بھی بہت عشق لڑائے مگر کیا کریں ہر جگہ سوکنوں کی فوج در موج نے ہمیں “ان” سے ایسے جدا کیا جیسے کوئی حسینہ دل چرا کر لے جائے اور آپ کو پتہ ہی نہ لگے۔ ابھی ہم ایجاب و قبول کے مرحلے سے کوسوں دور ہوتے تھے کہ پٹخ دئے جاتے تھے۔ ہمت ہم نے بھی نہی ہاری اور نہ ہارنے کا ارادہ ہے “وہ” زندہ صحبت باقی بس اسی سہارے پر ہے زندگی۔

  • رکشہ کہانی سکستھ روڈ

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    صبح سے کوئی خاص سواری نہی ملی تھی۔ جب سے گیس، پٹرول اور ایل پی جی کی قیمتوں میں تصادم ہوا ہے کرایوں میں اضافہ بھی بے ترتیب ہو گیا ہے۔ گیس والے رکشہ بھی وہی کرایہ مانگتے ہیں جو پٹرول والے رکشہ کا ہے۔ پٹرول والے ایل پی جی (LPG)۔ بہت سارے لوگ تو جانتے بھی نہی ہونگیں کہ ایل پی جی ہے کیا؟ اسے liquid petroleum gas کہتے ہیں یہ وہ گیس ہے جو معدنی تیل (پٹرولیئم) سے حاصل ہوتی ہے اور بطور ایندھن گاڑیوں اور چولہوں میں استعمال ہوتی ہے۔ سلنڈر کے اندر دباؤ کے تحت یہ گیس مائع میں تبدیل ہو جاتی ہے اس لئے اسکا نام LPG ہے اور اسکا سلنڈر سیدھا رکھا جاتا ہے تا کہ مائع کے اوپر کی گیس استعمال ہو سکے۔ یہ مائع جب گیس بنتا ہے تو اسکے حجم میں لگ بھگ ڈھائی سو گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسکے برعکس CNG اپنے سلنڈر کے اندر بھی گیس ہی رہتی ہے اور مائع میں تبدیل نہیں ہوتی۔ کرایوں میں اضافے کی وجہ مہنگائی اور مہنگائی میں اضافے کی وجہ ہمارے منتخب کردہ نمائندے۔ کاش ہم ووٹ ڈالتے وقت ایک لمحے کے لئے سوچیں کہ جسے ووٹ ڈال رہے ہیں کیا وہ ہمارے لئے، ہمارے ملک کے لئے اچھا ہے کہ نہی۔ بات دور نکل گئی۔ صبح سے ایک ہی سواری ملی تھی اور اب میں انتظار میں کھڑا تھا۔ دائیں بائیں لاتعداد لوگ آ جا رہے تھے زہن کی حالت بدلنے کے لئے میں نے آتے جاتے لوگوں کا معائنہ شروع کر دیا ابھی ہو سکتا تھا کہ میں اسی میں کھو جاتا کہ اچانک یونیورسٹی کی بس سٹاپ پر رکی۔ دل میں امید جاگی کہ بندیا تیار ہو جا سواری آنے لگی ہے اور واقعی اس سے اترنے والی سواریوں میں سے ایک لڑکی عمر کوئی ہو گی اٹھارہ سے بائیس سال۔ رنگت تھوڑی گندمی لیکن بلا کی پرکشش۔ آنکھیں تھیں کہ کوئی بھی ڈوب ڈوب جائے۔ چال ایسی مستانی کہ کیا میرے رکشہ کی ہو گی۔ وہ جب میرے قریب آئی تو یوں لگا خوشبوؤں کی کشش مجھے کھینچنے لگی ہے۔

    “th6 روڈ جائیں گے ” اس نے ایک ادائے دلبری سے پوچھا۔
    دل تو چاہا کہ کہہ دوں کہ کون نہی چاہے گا آپ کو لے جانا۔ لیکن پھر اپنی اوقات یاد آ گئی۔ ہوش کر بندیا رکشہ ڈرائیور ہے تو۔ روزی روٹی کما تو کن چکروں میں پڑنے لگا ہے۔ لیکن دل تو دل ہی ہوتا ہے چاہے رکشہ ڈراہئور کا ہو یا صدر پاکستان کا۔ خواہشیں تو یہ نہی دیکھتی کہ دل پر جامہ کون سا ہے۔
    “جی جی بی بی جی” میں نے ادب سے کہا۔
    کتنا کرایہ ہو گا؟ اس نے بالوں کی لٹ کو چہرہ چومنے سے روکتے ہوئے کہا۔

    یہی کوئی جی 120 روہئے دے دیں میں نے بغیر جھجھکے کہا۔ اس نے فون کان پر لگایا اور بولی 120 مانگ رہے ہیں۔ یہ لیں بات کریں جو جگہ بتائیں وہاں جانا ہے۔

    میں نے فون اس سے لیا تو اس کی انگلیوں کا کرنٹ میرے جسم پر یوں لگا جیسے نئی نئی جوانی آنے پر کپڑا بھی چھو جائے تو انسان محسوس کرتا ہے۔ اف! یہ وقت رک کیوں نہی جاتا۔ فون کو میں نے کان سے لگایا تو سرگوشیاں کرنے لگا۔ لیکں تراخ کی آواز نے ساری نغمگی دھول کر دی۔ th6 روڈ لے آئیں اور کرایہ 100 روپئے ہو گا۔

    “جی جناب” میں نے فون واپس کیا اس طرح کہ کرنٹ کا جھٹکا دوبارہ محسوس ہو۔ اور وہی ہوا تماما جسم ایسا لگا کہ ہلکا پھلکا ہو گیا ہو اور آسمان کی وسعتوں میں کھو رہا ہو۔

    رکشہ سٹارٹ کر کے میں چل پڑا اور جب بھی موقع ملتا رہا میں شیشے میں اس موہنی صورت کا دیدار کرتا رہا۔ دل تو چاہ رہا تھا کہ سفر ختم ہی نہ ہو لیکن th6 روڈ آگیا۔ th6 آنے پر رکشہ روکا۔ th6 روڈ آ گیا ہے۔ میں نے بڑے ادب سے کہا۔

    اس نے رکشہ کے اندر بیٹھے بیٹھے باہر دائیں اور بائیں دیکھا دور دور تک کوئی نہی تھا۔ “نہی نہی۔۔۔۔یہ th6 روڈ نہی ہے” اس نے کچھ غصے اور خوف سے کہا۔

    “یہی th6 روڈ ہے” آپ نے آگے کہاں جانا ہے۔ میں نے پھر بڑے ادب سے کہا

    یہ th6 روڈ ہے۔ اس نے گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے خود کلامی کی۔ پھر وہ کیوں نہی آیا۔ مجھے واپس یونیورسٹی بھی جانا ہے۔ فون نکالا اور نمبر ملانے لگی۔ لیکن نمبر لگ نہی رہا تھا۔

    “کیا یہ واقعی th6 روڈ ہے” اس نے یقینی اور ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔ کوئی اور بھی ہے th6 روڈ۔

    “نہی بی بی جی” یہی ہے ایک ہی۔ میں پریشان ہو گیا کہ شائد کوئی مسلہ ہے۔ کہ اچانک دور سے ایک شخص منحنی سے جسم کا شکل پر بارہ بچے ہوئے، ایک بار دیکھ کر دوبارہ دیکھنے کی خوایش نہ ہو آتا دکھائی دیا۔ اس پر نظر پڑتے ہیں ہو چلائی ہاں ہاں یہی th6 روڈ ہے یہی th6 روڈ ہے۔ اور جیسے بہت خوش ہو گئی۔ اور میں حیران تھا اسے کیا ہوا۔

    وہ شخص رکشہ میں بیٹھا اور قریب گلی میں جانے کے لئے کہا۔ لڑکی بے پھر ادائے دلبری سے اس شخص سے مخاطب ہوئی۔ تم نے دیر کیوں کر دی۔ پیمنٹ کر دو پہلے اور مجھے چلدی جانا ہے۔ اس شخص نے جیب سے پرس نکالا اور کچھ رقم اس کو دے دی۔ ایک گھر کے قریب جسے تالہ لگا ہوا تھا رکشہ روکا اور ایک سو پچاس نکال کے مجھے دئے اور بولا عیش کریں۔ اور خود تالا کھول کر لڑکی سمیت اند گم ہو گیا۔

  • میری گڑیا

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    بابا جی آپ نے وعدہ کیا تھا آج مجھے گڑیا ضرور لا کر دینی ہے۔ وہ بڑی سی۔ آپ گندے ہو۔ آپ مجھے گڑیا لا کر نہی دیتے۔ آپ اللہ قسم کھاؤ آج ضرور لاؤ گے۔ عبدل الباری ناشتہ کرتے ہوئے بیٹی کی یہ گفتگو سن کر دل ہی دل میں سوچنے لگا۔ زندگی کیسے کیسے رنگ دکھاتی ہے۔ یا خدایا ! ایک آہ سے دل سے نکلی کہ وہ اپنی بچی کی ایک چھوٹی سی خوایش پوری نہی کر سکتا۔ آج تو ضرور لا دوں گا اپنی نیناں کو۔ نیناں جو کبھی دائیں طرف آ کر ناراض چہرے سے باپ کو دیکھتی، کبھیی بائیں طرف آ کر منہ چوم کر کہتی۔ دیکھا بابا۔ میں نے میٹھا اپا کر دیا۔ کھاؤ نا اللہ قسم۔ عبدل الباری نے اپنی آنکھوں سے آنسوؤں کو روکتے ہوئے اسے اٹھایا اور گود میں بٹھا کر پیار کرنے لگا۔ بلکل آج بابا ضرور لائیں گے۔ وعدہ۔؟ نیناں نے رسان سے پوچھا۔ اللہ قسم وعدہ عبدل الباری نے بیٹی کا منہ چومتے ہوئے کہا۔

    آج کا دن بھی عبدل الباری کے لئے روزآنہ جیسا ہی تھا۔ اس بیل کی طرح جو کولہو چلانے کے لئے دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ اس کا گھومنا اور عبدل الباری کا دن گزارنا ایک جیسا ہی تو تھا۔ بوڑھی ماں، معزور بھائی۔ کرایہ کا گھر اور پھر فیکٹری کے دن رات۔ جب رات گئے وہ گھر آتا تو اسے ایسا لگتا کہ شائد اس کی زندگی میں اتنی فرصت بھی نہی جتنی کولہو کے بیل کو مل جاتی ہے۔ شائد وہ تو کبھی کبھی آرام کر لیتا ہو گا لیکن عبدل الباری۔

    فیکٹری کے معمولات میں کوئی تبدیلی نہی تھی۔ تبدیلی تھی تو بس اتنی آج اسے کچھ وقت فالتو مل گیا تھا۔ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے لائٹ نہی تھی اور جنریٹر خراب تھا اور اسے ٹھیک ہونے میں کچھ وقت لگنا تھا۔ اس نے اپنے ایک دوست کو ساتھ لیا اور فیکٹری ایریا کی مارکیٹ میں چلا گیا۔ ویاں جب اس نے سجی سجائی گڑیا دیکھنی شروع کی تو کئی خواب اس کی آنکھوں میں سج گئے۔ یہ گڑیا لے یا وہ۔ نہی نیناں کو یہ پسند آئے گی اس نے ایک گڑیا ہاتھوں میں اٹھاتے ہوئے سوچا۔ کیونکہ نیناں کو ڈانس کرتی گڑیا اچھی لگتی ہیں۔ وہ مسکرایا کہ غریبوں کی بچیاں بھی تو ان ڈانس کرتی گڑیا کی طرح ہی ہوتی ہیں۔ چابی بھری اور جب تک چابی چلے گی گڑیا ڈانس کرے گی۔ چابی بھرتے رہو اور گڑیا چلاتے رہو۔ کیا سوچنے لگے اس کے دوست نے پوچھا۔ کچھ نہی بس ایسے ہی۔ عبدل الباری نے جواب دیا۔

    تین سو کی گڑیا خرید کر ایک لمحہ عبدالباری نے سوچ کہ اس نے کوئی غلطی تو نہی کر لی۔ اتنی رقم میں تین سے زیادہ دن ان کے گھر میں شوربہ پک سکتا تھا۔ یہ ان کا پسندیدہ سالن بن چکا تھا کیونکہ جتنا پانی چاہے ڈال دو اور سب کو مل جائے۔ لیکن جب نیناں کی خوبصورت باتیں اسے یاد آئی تو اس نے دل کو تسلی دی۔ نہی اس کے سامنے تو یہ کچھ بھی نہی۔ اور کون سا نیناں روز روز ضد کرتی ہے۔ وہ تو جب سے اس نے ہمسائیوں کے گھر ٹی وی پر ایک بچی کے پاس دیکھی تھی تب سے وہ ایک گڑیا چاہتی تھی۔ اور اس بات کو بھی دو مہینے ہو چکے تھے۔ پہلے تو عبد الباری ٹالتا رہا۔ پھر روز وعدے کرتا رہا لیکن آج جس طرح سے نیناں نے کہا تھا اس کے دل کو چین نہی آ رہا تھا۔ آخر گڑیا لے کر ایک عجیب سی طمانیت اس کے رگ و پے میں اتر گئی ایسی طمانیت جیسے اس نے اپنی زندگی کا آخری اور بہترین کام کر لیا ہو۔

    فیکٹری واپس آیا تو جنریٹر ٹھیک ہو چکا تھا۔ تمام لوگ کام شروع کر چکے تھےعبدل الباری بھی کام میں جت گیا۔ کیونکہ کچھ بھی ہو کام تو پورا کرنا پڑتا تھا چاہے لیٹ کام کرنا پڑے۔ کہ اچانک ایک افرا تفری سی پھیل گئی۔ سب ایک دوسرے کو پوچھنے لگے کہ کہا ہوا۔ کچھ لوگ ابھی بھی آرام سے کام کر رہے تھے انہیں معلوم تھا یہ تو تقریبا روز کا معمول ہوتا جا رہا تھا کہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کبھی جنریٹر کی وجہ سے آگ لگ جاتی تھی اور پھر بچھا بھی دی جاتی تھی۔ لیکن شائد آج یہ نہی بچھ سکی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پوری فیکٹری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ابھی جہاں سب کام کرنے والے کام کے ساتھ ساتھ ہنسی مزاق کر رہے تھے۔ ویاں موت کا سناٹا چھانے لگا۔ دروازے لوکڈ ہو چکے تھے دھواں بڑھتا جا رہا تھا۔ گوشت چلنے کہ بو دھوئیں مین اس طرح شامل تھی جیسے وقت کے آتش میں درد کے الاؤ پکتے ہیں۔ عبدل الباری نے جب دیکھا کہ دھواں ان کے فلور پر بڑھتا جا رہا ہے تو اس نے سب سے پہلے گڑیا اٹھائی اسے کپڑے میں لپیٹا اور دروازے کی طرف بھاگا۔ لیکن لوگوں کی افرا تفری اور دھوئیں کی وجہ سے لوگ مشکل ہو رہی تھی دروازہ ایک تھا اور مزدور سو سے زیادہ اور آگ کو لگتا تھا جیسے چند سیکنڈ میں پورے فلور کو نگل لے گی۔ چیخ و پکار کے بیچ میں عبدل الباری کو اتنا یاد رہا کہ اس نے گڑیا سینے سے ایسے لگا لی تھی جیسے نیناں کو پیار کرتے ہوئے لگاتا تھا۔ زندگی کی آخری سانوسوں میں اسے ایسے ہی لگا جیسے اس کی بیٹی جیتے جی مر گئی۔
    نیناں گھبرائے ہوئے پورے گھر میں گھوم رہی تھی۔ آج کوئی بھی اس کی بات سننے کو تیار نہی تھا۔ ماں دھاریں مار مار کر رو رہی تھی۔ دادی چارپائی پر بیٹھے بیٹھے کبھی بیہوش ہو جاتی کبھی ہوش میں آ جاتی۔ چاچوں کے آنسو رکتے ہی نہی تھے۔ یہ صرف ان کے گھر میں نہی تھا بلکہ محلے کے کافی گھروں میں اسی طرح کی چیخ و پکار تھی۔ لیکن نیناں کو معلوم تھا یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے یقینا اس کی آرزو کے آگے کچھ نہی۔ میری گڑیا ضرور آئے گی آج بابا جی نے اللہ قسم وعدہ کیا تھا۔ بابا جی کہتے ہیں اللہ قسم وعدہ نہی توڑتے۔ نہی۔۔۔۔نہی آج ضرور آئے گی۔ جیسے دل کے کسی کونے میں یہ دھڑکا بھی تھا کہ جب گھر میں ایسی افراتفری ہو تو کھانے کو کچھ نہی ملتا۔ گڑیا کیسے ملے گی۔ کہ اس نے ماں کی صدا سنی۔۔ ہائے نیناں کے ابا۔ ہمیں کس کے سہارے چھوڑے جا رہے ہو۔ نیناں بھاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی اور دوڑتی ہوئی دروازے کی طرف گئی جہاں کچھ لوگ ایک چادر میں لپٹی لاش کو اندر لا رہے تھے۔ لیکن بچی کو دیکھ کر رک گئے۔ کیا بابا آ گئے۔ نیناں نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے بابا کو نا پا کر پوچھا۔

    ہاں بیٹی تیرے باپ نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ اللہ قسم جو کھائی تھی۔ دیکھ باپ کی چلی ہوئی لاش کی بانہوں میں اپنی ادھ جلی گڑیا یہ کہتے ہی ماں کی چیخ بلند ہو گئی کیونکہ نیناں سانس لینا بھول گئی تھی۔

  • حسرت

    آج بچے پھر پوچھ رہے تھے، بابا نتیجہ آ گیا- بیٹی نے کہا میں نے تھرڈ پوزیشن لی ہے، بیٹا بولا ٹیچر نے آج میرے لیے تالیاں بجوائی ہے . آپ ہمیں کیا تحفہ دیں گیں. آپ روزانہ کہتے تھے جو اچھے نمبروں سے پاس ہو گا اس کو اچھا سا تحفہ ملے گا. ایک یاس بھری آہ کے ساتھ میں نے جواب دیا بکلل بیٹا، تحفہ تو ضرور ملے گا. اچھے نمبروں سے پاس جو ہوۓ ہو. اور میں نے فون بند کر کے واپس دفتر کے کاموں میں مصروف ہو گیا. لکین دل تھا جو سوچ رہا تھا کے کیا کیا جاۓ. چھٹی ہوتے ہے میں ایک کھلونوں کی دکان میں چلا گیا. ایک کھلونے کی قیمت اتنی تھی جتنی میری جیب میں رقم نہ تھی . دکان سے نکلتے ہوۓ ایک خیال زہن میں آیا اور سوچا بچے تو معصوم ہوتے ہیں کچھ ایسا کیا جے کے بہل جائیں. جب میں نے گھر کی گھنٹی بجائی، تو ایسا لگا جیسے بچے انتظار میں ہوں، دروازہ کھلنے سے پہلے ہی بابا تحفہ لاۓ، بابا تحفہ لاۓ کی آوازوں نے میرے پائوں جکڑ لیے. گھر کے اندر جاتے ہے میں نے کشی سے صدا بلند کی. سب بچے آنکھیں بند کر لیں. آج میں سب سے پیارا تحفہ لایا ہوں. میرے باپ نے بھی یہی تحفہ مجھے دیا تھا اور آج میں بھی اپنے بچوں کو یہی دوں گا.میں نے تھیلے سے گلاب کے ہار علیدھا کیے اور بچوں کی گلے کی زینت بنا دیے.گھر کے باقی افراد نے زور زور سے تالیاں بجائیں. پھولوں کی خوشبو سے بچے خوش ہو گے. اور میں نے کہا، بچوں کھلونے لاتا تو آپ توڑ دیتے ہو. لکین یہ خوشبو صدا آپ کے ساتھ رہے گی، کتنا اچہ تحفہ ہے، بچوں نے سمجھا یاں نہیں سمجھ لکین وو خوش تھے. حتیٰ کے سونے سے پہلے بھی وہ ہار انہوں نے گلے سے نہیں اتارے اور سو گۓ .بچے تو خوش ہو کر سو گے لکین، رات گے تک میں اپنی حسرتوں کے پھول چنتا رہا . پؤ پھٹے تک جاگتا رہا. اور آنسو بہاتا رہا.