Category: نوحے

  • (اگر کہیں نہ خداوند، کیا کہیں اُس کو( غالب

    (اگر کہیں نہ خداوند، کیا کہیں اُس کو( غالب

    سلام اسے کہ اگر بادشہ کہیں اُس کو
    تو پھر کہیں کچھ اِس سے سوا کہیں اُس کو

    نہ بادشاہ نہ سلطاں یہ کیا ستائش ہے
    کہو کہ خامسِ آلِ عبا کہیں اُس کو

    خدا کی راہ میں ہے شاہی و خسروی کیسی؟
    کہو کہ رہبرِ راہِ خدا کہیں اُس کو

    خدا کا بندہ، خداوندگار بندوں کا
    اگر کہیں نہ خداوند، کیا کہیں اُس کو؟

    فروغِ جوہرِ ایماں، حسین ابنِ علی
    کہ شمعِ انجمنِ کبریا کہیں اُس کو

    کفیلِ بخششِ اُمّت ہے، بن نہیں پڑتی
    اگر نہ شافعِ روزِ جزا کہیں اُس کو

    مسیحا جس سے کرے اخذِ فیضِ جاں بخشی
    ستم ہے کُشتۂ تیغِ جفا کہیں اُس کو

    وہ جس کے ماتمیوں پر ہے سلسبیل سبیل
    شہیدِ تشنہ لبِ کربلا کہیں اُس کو

    عدو کی سمعِ رضا میں جگہ نہ پاۓ وہ بات
    کہ جنّ و انس و ملَک سب بجا کہیں اُس کو

    بہت ہے پایۂ گردِ رہِ حسین بلند
    بقدرِ فہم ہے گر کیمیا کہیں اُس کو

    نظارہ سوز ہے یاں تک ہر ایک ذرّۀ خاک
    کہ لوگ جوہرِ تیغِ قضا کہیں اُس کو

    ہمارے درد کی یا رب کہیں دوا نہ ملے
    اگر نہ درد کی اپنے دوا کہیں اُس کو

    ہمارا منہ ہے کہ دَیں اس کے حسنِ صبر کی داد
    مگر نبی و علی مرحبا کہیں اُس کو

    زمامِ ناقہ کف اُس کے میں ہے کہ اہلِ یقیں
    پس از حسینِ علی پیشوا کہیں اُس کو

    وہ ریگِ لقمۂ وادی میں خامہ فرسا ہے
    کہ طالبانِ خدا رہنما کہیں اُس کو

    امامِ وقت کی یہ قدر ہے کہ اہلِ عناد
    پیادہ لے چلیں اور ناسزا کہیں اُس کو

    یہ اجتہاد عجب ہے کہ ایک دشمنِ دیں
    علی سے آکے لڑے اور خطا کہیں اُس کو

    یزید کو تو نہ تھا اجتہاد کا پایہ
    بُرا نہ مانیۓ گر ہم بُرا کہیں اُس کو

    علی کے بعد حسن، اور حسن کے بعد حسین
    کرے جو ان سے بُرائی، بھلا کہیں اُس کو؟

    نبی کا ہو نہ جسے اعتقاد، کافر ہے
    رکھے امام سے جو بغض، کیا کہیں اُس کو؟

    بھرا ہے غالب دِل خستہ کے کلام میں درد
    غلط نہیں ہے کہ خونیں نوا کہیں اُس کو

    غالب

  • اے چاند محرّم کے تو بدلی میں چلا جا

    اے چاند محرّم کے تو بدلی میں چلا جا

    اے چاند محرّم کے تو بدلی میں چلا جا
    تجھے دیکھ کے مر جائے نہ بیمار ہے صغرا

    گھر زہرا کا لٹنے کی خبر تو نے سنائی
    تجھے دیکھ کے روتی ہے محرّم میں خدائی
    چودہ سو برس بیتے سب کرتے ہیں شکوہ

    ملنے کےلئے بھائی کو بے چین بڑی ہے
    کب سے علی اکبر کی یہ راہوں میں کھڑی ہے
    بچھڑی ہے یہ مدّت سے اسے تو نہ نظر آ

    قاصد کو دیا خط میں یہ پیغام لکھا کے
    اک بار تو مل جا مجھے سینے لگا کے
    پتھرائی ہوئی نظریں کب دیکھیں گی چہرہ

    ویران گھروں میں نہ اسے نیند ہے آتی
    اکبر کی جدائی ہے اسے خون رلاتی
    قدموں کے نشاں ڈھانپ کے بیٹھی ہے سرِ راہ

    گن گن کے جو صغرا نے یہ دن ہے گزارے
    زندہ ہے تو اکبر کے وعدوں کے سہارے
    دن رات تڑپتی ہے اسے اور نہ تڑپا

    بھیا کی جدائی میں پریشان ہے رہتی
    ہر روز یہ نانا کو رو رو کے ہے کہتی
    اکبر نہ ملا نانا میں مر جاوؑں گی تنہا

    وعدہ جو کیا بہن کو سینے سے لگا کے
    میں شادی کروں گا تو تیرے پاس ہی آ کے
    میں سات محرّم کو لوٹوں گا نہ گھبرا

    رونے نہیں دیتے مجھے راتوں کو مسلماں
    بیماری سے بے حال ہوں کچھ روز کی مہماں
    ہر سمت سے ہے مجھ کو اب موت نے گھیرا

    بہنوں کا تو بھائیوں سے رشتہ ہی عجب ہے
    تم بھول گئے مجھ کو یہ کیسا غضب ہے
    اس آس پہ زندہ ہوں دیکھوں تیرا سہرا

    صغرا کے نصیبوں میں تو رونا ہی لکھا ہے
    سردار معصومہ کو ملی کیسی سزا ہے
    خط آیا نہ اکبر کا روتی رہی صغرا

  • زہراء زہراء پرسہ لو بہتر کا

    زہراء زہراء پرسہ لو بہتر کا

    کربل کی کہانی جب کوئی بھی سنائے گا
    دل والوں کی آنکھوں سے اک دریا بہائے گا
    وہ قافلہ سرور کا جو شان سے نکلا تھا
    صغراٰ کو خبر کیا تھی نہ لوٹ کے آئے گا

    زہراء زہراء پرسہ لو بہتر کا

    ٹوٹی ہے کمر شہ کی ، گھبرا نہ مگر اکبر
    فرزند نبی تیری میت کو اٹھائے گا
    زہراء زہراء پرسہ لو بہتر کا

    سوتے ہی نہ تھے اصغر ، جھولے میں تڑپتے تھے
    مادر کو خبر کیا تھی ، اک تیر سلائے گا
    زہراء زہراء پرسہ لو بہتر کا

    پامال ہوا قاسم جب گھوڑوں کی ٹاپوں سے
    کس طرح چچا تیری میت کو اٹھائے گا
    زہراء زہراء پرسہ لو بہتر کا

    تھا ہاتھوں کے کٹنے کا کچھ غم نہ دلاور کو
    سیدانیوں کا پردہ اب کون بچائے گا
    زہراء زہراء پرسہ لو بہتر کا

    سرور نے اٹھائے تھے سب ساتھیوں کے لاشے
    شبیر تیرا لاشہ اب کون اٹھائے گا
    زہراء زہراء پرسہ لو بہتر کا

     

  • اے چاند محرم تو ہی بتا خاتون کا چاند کہاں ہے

    اے چاند محرم تو ہی بتا خاتون کا چاند کہاں ہے

    اے چاند محرم تو ہی بتا خاتون کا چاند کہاں ہے
    آباد ہے دنیا ساری زیرا کا چمن ویران ہے
    اے چاند محرم تو ہی بتا

    کہتی تھی سکینہ عابد کو اس قید میں میں مر جاؤں گی
    چھوڑو نہ اکیلا بھائی تاریک بہت زنداں ہے
    اے چاند محرم تو ہی بتا

    دیکھا نہ سنا ظایر ایسا زخموں سے بدن ہے چور مگر
    جاری ہے زبان پہ ذکر خدا گردن پہ خنجر رواں ہے
    اے چاند محرم تو ہی بتا

    تو پر جبرئیل کی زینت کا کیوں لاشہ تیرا پامال ہوا
    بے گوروکفن ہو بھائی میرے زینب کو یہی ارماں ہے
    اے چاند محرم تو ہی بتا

    اے کوفیوں میں ہوں بنت علی اور وارث چادر زیرا کی
    دیکھو نا تماشا شرم کرو اب زینب سر عریاں ہے
    اے چاند محرم تو ہی بتا

    اولاد کا غم بھائیوں کے ورم کٹتا ہے کلیجہ قدم قدم
    ھائے کیسے اٹھائے خون بھری اکبر کی لاش جواں ہے
    اے چاند محرم تو ہی بتا

    شبیر چلے جب کربل کو صغری نے دامن تھام لیا
    سنبھال کے رکھنا بابا میرے علی اصغڑ بہت ناداں ہے
    اے چاند محرم تو ہی بتا

     

    تنویر اٹھا کے ہاتھوں میں سید نے سوال آب کیا
    تم بھی ہو مسلمان رحم کرو اصغر کی خشک زباں ہے
    اے چاند محرم تو ہی بتا