Author: Sajid Hussain

  • ہادی علی، رفیق علی، رہنما علی​

    ہادی علی، رفیق علی، رہنما علی​

    ہادی علی، رفیق علی، رہنما علی​
    یاور علی، ممد علی، آشنا علی​
    مرشد علی، کفیل علی، پیشوا علی​
    مقصد علی، مراد علی، مدعا علی​
    جو کچھ کہو سو اپنے تو ہاں مرتضیٰ علی​
    ​
    نورِ یقیں علی سے ہمیں اقتباس ہے​
    ایمان کی علی کی ولا پر اساس ہے​
    یوم التناد میں بھی علی ہی کی آس ہے​
    بیگاہ و گاہ نادِ علی اپنے پاس ہے​
    قبلہ علی، امام علی، مقتدا علی​
    ​
    دیوانگانِ شوق کا مت پوچھو معتقَد​
    فہم اس کا تب ہو روحِ قدس جب کرے مدد​
    ظاہر اُس ایک شان سے شانیں ہیں لاتعد​
    گہ احمد اس کو کہتے ہیں گاہے اسے احد​
    شایانِ حمد و قابلِ صلی علیٰ علی​
    ​
    نے شہ سے کچھ غرض ہے ہمیں نے وزیر سے​
    نے اعتقاد شیخ سے نے کچھ فقیر سے​
    رکھتے نہیں ہیں کام صغیر و کبیر سے​
    ہے لاگ اپنے جی کو اسی اک امیر سے​
    مولا علی، وکیل علی، پادشا علی​
    ​
    پہنچے ہے تیرے ہاتھ تلک کب کسو کا دست​
    کیا سمجھے شیخ حال کو فطرت ہے اس کی پست​
    ہوں جوں نصیر ساقئ کوثر کا محو و مست​
    مسکن علی نگر ہے میرا، میں علی پرست​
    پیغمبر اس جگہ کا علی، ہے خدا علی​
    ​
    شیوہ اگرچہ اپنا نہ یہ وعظ و پند ہے​
    پر اس کو سن رکھ اے کہ تو کچھ دردمند ہے​
    کیا ہے جو عرصہ تنگ ہوا کام بند ہے​
    دل جمع کر کہ ہمتِ مولیٰ بلند ہے​
    یعنی کرم شعار ہے مشکل کشا علی​
    ​
    اپنی بساط تو ہے علی، ہے وہی علیم​
    کس طور جیتے رہتے نہ ہوتا جو وہ کریم​
    دیکھیں ہیں اسکی اوَر جو ہم ہوتے ہیں سقیم​
    یاں کا وہی ہے شافی و کافی، وہی حکیم​
    عارض ہو کوئی درد ہمیں، ہے دوا علی​
    ​
    ہے دوستی علی کی تمنائے کائنات​
    بے لطف اُس بغیر ہے کیا موت کیا حیات​
    یعنی کہ ذاتِ پاک ہے اُسکی خدا کی ذات​
    کیا ان موالیوں کے تئیں ہے غمِ نجات​
    مرتے ہوئے جنہوں کے دلوں میں رہا علی​
    ​
    یہ کس طرح سے راز کہوں میں زبان سے​
    حالات اس روش کی پرے ہیں بیان سے​
    اک شب نبی جو نکلے زمان و مکان سے​
    ذاتِ مبارک آئی نظر اور شان سے​
    تھا بزمِ لامکاں میں بھی رونق فزا علی​
    ​
    خواہش مدد کی غیر سے، ہے یہ خیالِ خام​
    کرتا ہے کب قبول اسے عاقلِ تمام​
    کافی ہے دو جہان میں مولا کا میرے نام​
    لاریب اس پہ آتشِ دوزخ ہوئی حرام​
    یکبار بھی زبان سے جن نے کہا علی​
    ​
    سر تا قدم ثبات دل و جملگی ادب​
    صورت پکڑ کے سامنے آیا تھا لطفِ رب​
    ظاہر ہوئے ظہور جہاں میں عجب عجب​
    محراب میں نہ گرمِ بکا تھا کدام شب​
    ہنستا رہا نہ کون سے روزِ عزا علی​
    ​
    عنتر کو نارِ خشم نے اُس کے جلا دیا​
    اژدر کو چیر ایک ہی دم میں کھپا دیا​
    خورشید کو نکال دوبارہ دکھا دیا​
    ہنگامہ کفر و شرک کا آ کر مٹا دیا​
    تھا جانشین ختمِ رسل کا بجا علی​
    ​
    گو چشمِ دل کھلے نہ کسی رو سیاہ کی​
    اُس تک مجال کب ہے کسو کی نگاہ کی​
    اللہ ری بلندی تری قدر و جاہ کی​
    مر مر کے جبرئیل نے درباں سے راہ کی​
    شاہا ملک سپاہ جہانِ صفا علی​
    ​
    دشمن کو آگہی ہی کما ینبغی کہاں​
    قدرت سے اُس کے قدرتِ حق ہوتی ہے عیاں​
    زورآوری مزاج میں آوے تو الاماں​
    کچھ بھی نہیں ہے پھر یہ جو سب کچھ ہے درمیاں​
    ارض و سما کے دیوے قلابے ملا علی​
    ​
    دی تیغ ایسی کس کو کہ جیسی ہو ذوالفقار​
    مرکب کہاں ہیں اس کے سے، ویسے کہاں سوار​
    گزرے ہیں گرچہ مردمِ خوب آگے بھی ہزار​
    پر یہ شرف خدا کی طرف سے ہے یہ وقار​
    خلقت تو دیکھ کعبے میں پیدا ہوا علی​
    ​
    تھی حق کے ہاں سے احمدِ مرسل کو سروری​
    کہتی تھی ساری خلق خدا کی اُسے ولی​
    نسبت بغیر ہوتی ہیں نے اتحاد بھی​
    لطف و سخا و ہمت و حلم و حیا نبی​
    جود و عطا و جرأت و مہر و وفا علی​
    ​
    نزدیک سب کے اُس کو ہے درجہ قبول کا​
    ایک عندیہ ہے سید و شیخ و مغول کا​
    کب معتبر ہے حرف کسو بوالفضول کا​
    باطن علی ہے ظاہرِ خوبِ رسول کا​
    خاک اُس کے فرق پر جو کہے تھا جدا علی​
    ​
    ہر فرد کی زباں پہ علی کی ہے گفتگو​
    ہر شخص کے تئیں ہے علی ہی کی جستجو​
    عالم کو ہے علی کی تولا سے آرزو​
    اپنا ہی کچھ علی کی طرف کو نہیں ہے رو​
    مقصودِ خلق و مطلبِ ارض و سما علی​
    ​
    اک شوق ہے علی کا مرے قلب میں نہاں​
    شاید یہی نجات کا باعث بھی ہو وہاں​
    اب زیرِ لب ہے زیست میں جو میر ہر زماں​
    اس وقت میں کہ جان ہو یک دم کی میہماں​
    امید ہے کہ یوں ہی لبوں پر ہو یا علی​

    (میر تقی میر)

  • کاش میں دور پیمبر میں اٹھایا جاتا

    کاش میں دور پیمبر میں اٹھایا جاتا

    کاش میں دور پیمبر میں اٹھایا جاتا
    با خدا قدموں میں سرکار کے پایا جاتا

    ساتھ سرکار کے غزوات میں شامل ہوتا
    ان کی نصرت میں لہو میرا بہایا جاتا

    ریت کے ذروں میں اللہ بدل دیتا مجھے
    اور مجھے راہ محمد میں بچھایا جاتا

    خاک ہو جاتا میں سرکار کے قدموں کے تلے
    خاک کو خاک مدینہ میں ملایا جاتا

    مل کے سب لوگ مجھے مٹی سے گارا کرتے
    پھر مجھے مسجد نبوی میں لگایا جاتا

    کاش اے کاش میں ہوتا کوئی ایسی لکڑی
    جس کو سرکار کے منبر میں لگایا جاتا

    یا اترتا میں کسی نعت کے مصرعے بن کے
    روبرو ان کے میں ان کو ہی سنایا جاتا

    گھاس ہی ہوتا مدینے کے گلی کوچوں کی
    اور سرکار کے ناقے کو کھلایا جاتا

    ان کے روضے کے در و بام سجانے کے لئے
    روزنوں میں میری آنکھوں کو لگایا جاتا

    لایا جاتا سر دربار اسیروں کی طرح
    حکم پر ان کے میں آزاد کرایا جاتا

    ہوتے اس دور کا قصہ کوئی نور و فرحان
    آج کے دور میں بچوں کو پڑھایا جاتا

    کاش میں دور پیمبر میں اٹھایا جاتا

    سلام یا رحمة للعالمين صلي الله عليه وآله وسلم

  • مجھ کو معاف کرنا میں زندہ آیا ہوں کربلا سے

    مجھ کو معاف کرنا میں زندہ آیا ہوں کربلا سے

    تڑپتے لاشوں کو دیکھ کر بھی دعاؤں پر کیوں تلُی ہوئی تھیں
    میں تیرے زخمی بدن سے ہٹ کر کیوں اپنی سوچوں میں گم کھڑا تھا
    جہاں پر کنبہ قبیلہ سارا زمین پہ بکھرا ہوا پڑا تھا

    میں گنجِ شہداء کی بکھری لاشوں پہ اپنے ہوش و حواس میں تھا
    میں ٹھنڈا پانی بھی پی رہا تھا جہاں پہ اصغرؑ بھی پیاس میں تھا

    جہاں پہ قاتل نے ننھی دخترؑ کے منہ پہ اتنے تماچے مارے
    جلائے خیمے لگائے دُرّے تڑپتی بچی کے دُر اُتارے
    جہاں پہ اصغرؑ کے خون کو تُو جبینِ اقدس پہ مل رہا تھا
    جہاں پہ غازیؑ کے ہاتھ لے کر تُو دشمنوں میں بھی چُپ کھڑا تھا
    جہاں پہ تیری یہ ریشِ اقدس لہو میں اصغرؑ کے تر بتر تھی
    جہاں پہ اکبرؑ تڑپ رہا تھا تمام آنکھوں کی روشنی تھی
    تمام مقتل کی ہر جگہ پر غذا کی ہردم تلاش میں تھا
    دعاؤں میں تھا میں رزق و روزی اور فکرِ معاش میں تھا
    میں اپنے چہرے کی زیب و زینت میں انتہائی مگن رہا تھا
    شکستہ لاشوں کے درمیان بھی میں نرم بستر پر خوش پڑا تھا
    میں ایک رسمی سلام کر کے کیوں تیری تربت سے ہٹ گیا تھ
    میں فاصلوں سے بس آتے جاتے ہی تیرے روضے پہ جُھک رہا تھا
    دریدہ دہنی کی انتہا تھی میں اچھے کھانوں پہ لڑ رہا تھا
    کہاں کے آنسوں کہاں کا گریہ میں اس تردُّد میں کب پڑا تھا
    وہاں سے آکر میں ہر جگہ پر فضائل اپنے سنا رہا تھا
    ستائش باہمی میں اُلجھا میں داد بےحد ہی پا رہا تھا
    یہ میری آہیں یہ میرا گریہ بنامِ زہراؑ قبول کرلے
    ندامتوں کے یہ چند آنسو بطورِ گریہ قبول کرلے
    میں تیرا مجرم ہو میرے مالک تو مجھ کو پتھر سے دُر بنادے
    اے کربلا کے قدیم و قادر تو مجھ کو آسی سے حُر بنا دے
    میں اپنے قائمؑ کی خیر مانگوں ہرایک اپنی دعا سے پہلے
    حسینؑ۔۔۔۔
    حسینؑ۔۔۔۔
    حسینؑ۔۔۔۔
    مجھ کو معاف کرنا میں زندہ آیا ہوں کربلا سے

  • خدا کو ایک عدد پہ حسین(ع) لے آئے

    خدا کو ایک عدد پہ حسین(ع) لے آئے
    اسے مقام صمد پہ حسین(ع) لے آئے
     
    نبی کے ساتھ ہوئے ہیں ہزار حج اس کے
    جسے بھی اپنی لحد پہ حسین(ع) لے آئے
     
    فنا کی آخری حد پہ کھڑا تھا حر لیکن
    بقا کی آخری حد پہ حسین(ع) لے آئے
     
    کٹا کے سر کو جھکایا نہیں ہے کربل میں
    خود ہی خدا کے قد پہ حسین(ع) لے آئے
     
    پکارے خوف سے اصغر کو دیکھ کر شامی
    حسین اپنے ہی ید پہ حسین(ع) لے آئے
     
    وہ جس کے سامنے ممدوم حسن یوسف بھی
    وہ حسن جون کے قد پہ حسین(ع) لے آئے
     
    جنہوں نے حکم تولی بھلا دیا سن کے
    انہیں تبرے کے ذد پہ حسین(ع) لے آئے
     
    بلایا فرش پہ سجدہ دکھانے خالق کو
    یا خود کو عرش احڈ پہ حسین(ع) لے آئے
     
    یہ مجتبی کے قلم سے جو لفظ نکلے ہیں
    قبولیت کی سند پہ حسین(ع) لے آئے
  • قبر اصغر کی بنانے میں بہت دیر لگی

    قبر اصغر کی بنانے میں بہت دیر لگی

    قبر اصغر کی بنانے میں بہت دیر لگی

    شہ کو اک چاند چھپانے میں بہت دیر لگی
     
    گرم ریتی سے بدن ڈھانپ دیا شہ نے مگر
    چہرہ اصغر کا چھپانے میں بہت دیرلگی
     
    گھٹری جب لاشہ قاسم کی کھلی خیمے میں
    شہ کو ترتیب بنانے میں بہت دیرلگی
     
    چند سطریں تھیں مگر لاش علی اکبر پر
    شہ کو خط پڑھ کے سنانے میں بہت دیرلگی
     
    باپ کی لاش سے دروں کی اذیت دے کر
    ایک بچی کو ہٹانے میں بہت دیرلگی
     
    کچھ قدم دور ہے بازار سے دربار مگر

    پھر بھی شہزادی کو آنے میں بہت دیر لگی
     
    شہ نے ہر لاش کو جلدی سے اُٹھایا لیکن
    لاش اکبر کی اُٹھانے میں بہت دیر لگی
     
    ٹکڑے چُنتے ہوئے قاسم کے کہا مولا نے

    ہائے افسوس کہ آنے میں بہت دیرلگی
     
    اس قدر پیاس سے سوکھا تھا گُلِوئے سرور
    
شمر کو تیغ چلانے میں بہت دیر لگی
     
    کربلا جا کے تکلم نے یہ ہی پوچھا تھا
    مجھ کو سرکار بلانے میں بہت دیر لگی
     
    https://www.youtube.com/watch?v=cP_ZX-zfOaQ