Blog

  • لاحاصل

    میزبان نے چہرے سے اداسی کے تاثرات ظاہر کرتے ہوئے مائیک کو اپنے قریب کیا اور دکھ بھرے لہجے میں گویا ہوا “سنا ہے آپ محبت ہار گئے؟” اور مایئک کا رخ سرفراز کی طرف کر دیا۔ میزبان کی پوری کوشش تھی کہ سننے والے نہ صرف متوجہ ہوں بلکہ ان کی ہمدردیاں بھی سمیٹ سکے۔ سرفراز کے چہرے پر دکھ کے سائے لہرائے اس کی درد بھری آہ نے سب کو ان کی طرف متوجہ کر دیا۔۔ سکوت کے چند لمحوں نے جیسے محبت کے جنازے کو کندھا دیا اور آہ کے سوکھے ہوئے پھول چار سو بکھر گئے۔ “محبت!” سرفراز نے آنسوؐوں کے گھونٹ پیتے ہوئے میزبان کی طرف دیکھا۔” آج کل کے نوجوان کیا جانیں محبت کیا ہے۔ محبت ایک پاکیزہ چادر ہے جس پر دل نماز عشق ادا کرتا ہے۔ محبت وہ روشنی ہے جو ہوس کے اندھیروں کو نگل لیتی ہے۔ محبت وہ چشمہ ہے جس میں بھیگ کر “میں” میں نہی رہتی تم ہو جاتی ہے۔ انا کے سارے سنپولئیوں کو جزبہ عشق نگل لیتا ہے۔” سرفراز کی آنکھیں چمک اٹھی تھیں ابھی وہ کچھ اور بھی بولنا چاہ رہیے تھے کہ میزبان نے یکدم مایئک اپنی طرف کرتے ہوئے پوچھا “آپ کیا سمجھتے ہیں آج کا نوجوان کیا سمجھتا ہے محبت کو؟” “ہوس صرف ہوس: سرفراز نے ایک لمحہ بھی سوچنے میں نہی لگایا۔ “آج کا نوجوان جوانی کے جسمانی تقاضوں کو محبت سمجھتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جس کے لئے ان تقاضوں میں جتنی شدت ہو گی محبت اتنی زیادہ ہو گی” سرفراز کے چہرے پر غصے کے آثار نمایاں تھے۔ اس سے پہلے کہ سرفراز کچھ اور بولتے میزبان نے مائیک ساتھ بیٹھے شخص کی طرف کیا اور پوچھا “ماشااللہ یہ تو کافی بہتر ہیں” اس سے پہلے کہ وہ شخص جواب دیتا سرفراز نے گھور کر نوجوان کو دیکھا “ کیوں مجھے کیا ہوا ہے؟ کون کہتا ہے میں بیمار ہوں؟” میزبان سٹپٹا گیا اس کی سمجھ میں اور تو کچھ نہ آیا کہ وہ بات سنبھال سکے اس نے یکدم سوال داغ دیا” ک ک کوئی ن نہی۔ کچھ اپنی محبت کا سنائیں تاکہ آج کے نوجوان محبت کے معنی سمجھ سکیں”۔ سرفراز نے مائیک میزبان کے ہاتھوں سے پکڑ لیا چند سیکنڈ کے لئے اپنی آنکھیں موند لی اور جب کھولی تو ان میں دو موتی جگمگا رہے تھے۔
    ٍ
    گاوؑں کی پرسکون فضا میں آنکھیں کھولی میں نے۔ ماں، باپ، ٓاپی، بڑے بھائی، چاچو اور چاچی جیسے رشتوں کی انمول چاہتوں سے زندگی کا آغٓاز ہوا۔ ماں بتایا کرتی تھی کہ میں ساڑھے تین سال کا تھا جب چچا کے ہاں ماہ پارہ کی آمد ہوئ۔ آنکھ کھلی تو گھر میں کافی گھما گہمی تھی۔ ماں بہت خوش تھی “تمہاری چچی کو بڑی پری رات کو چھوٹی پری دے گئی ہے۔ تم اس کے ساتھ کھیلنا مگر اسے تنگ مت کرنا”منہ ہاتھ دھلاتے ہوئے ماں نے ہدایات دینی شروع کی۔ “منہ تو خشک کر لو” ماں نے پکارا کیونکہ میں تو یکدم چچی کے کمرے کی طرف بھاگ چکا تھا۔ ماہ پارہ پر نظر پڑی وہ تو واقعی پری تھی اور ایک اور محبت کا اضافہ ہو گیا۔ دل محبت سے لبریز ہو گیا ۔ محبت ایسے ہی ہوتی ہے بغیر سیاق و سباق کے بس ہو جاتی ہے۔ مجھے ایک جیتا جاگتا کھلونا مل گیا تھا اس لیے اگلی صبح میں نے اپنی ہر پیاری شے جس میں سیلوں سے چلنے والی کار، چھڑوں والی بندوق، ٹوٹا ہوا بیٹ اٹھایا اور سب چچی کے کمرے میں لے جا کر ماہ پارہ کو دے دیا کیونکہ اب میرے دل میں کسی شے کی کوئی اہمیت نہی تھی کیونکہ ساری جگہ تو ماہ پارہ نے گھیر لی تھی۔ اور آج میں سوچتا ہوں کاش اگر ہم محبت کا دعوی کریں کسی سے تو دل کو فقط اس کی محبت سے بھر لیں چاہے وہ خدا سے ہی کیوں نہ ہو۔ میں نے بھی ربیکا کی پوچا شروع کر دی تھی۔ “ربیکا” میزبان نے حیرت سے پوچھا۔ “ہاں ربیکا محبت کی دیوی” سرفراز نے اس عمر میں بھی سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ کہا۔ “ہر شخص کی زندگی میں کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں ربیکا کا جادو سر چڑھ کے بولتا ہے کچھ پار لگ جاتے ہیں کچھ ڈوپ جاتے ہیں اور کچھ نہ ڈوبتے ہیں نہ پار اترتے ہیں میری طرح۔ سرفراز یکدم خاموش ہو گیا۔ کمرے میں سکوت طاری تھا۔ “پھر کیا ہوا؟” میزبان کی بجائے ایک اور شخص نے تجسس سے پوچھا۔
    ٍ
    جب میں پانچ سال کا ہوا تو مجھے سکول داخل کروا دیا گیا۔ شروع شروع میں مجھے بلکل اچھا نہی لگا۔ ماہ پارہ سے جدا ہونا ایسا ہی تھا جیسے میرا سانس کسی نے بند کر دیا ہو۔ سوائے سونے کے جو ماں مجھے نیند میں اٹھا کر لے جاتی تھی میرے شپ و روز چچی کے کمرے میں گزرتے تھے۔ ماہ پارہ اب چلنے لگی تھی کچھ لفظ بولنے لگی تھی ایسے میں دن کے چار پانچ گھنٹے ماہ پارہ سے جدا رہنا مشکل ترین وقت تھا۔ ماں کہتی تھی سکول جاوؐ گے تو ماہ پارہ سے کھیلو گے ورنہ ماہ پارہ کو فرید شہر لے جائے گا۔ فرید ماہ پارہ کی خالہ کا بیٹا تھا میرا ہم عمر تھاا اور مجھے اچھا نہی لگتا تھا کیونکہ وہ جب بھی آتا تھا ماہ پارہ کے ساتھ اس کا کھیلنا مجھے ایک آنکھ نہی بھاتا تھا۔ یوں مجھے سکول اچھا لگنے لگا۔ دینو،پھجا اور پھیرو میرے دوست بن گئے وہ دل جہاں صرف ماہ پارہ تھی وہاں دین محمد، فیض الدین اور شکور کی محبت گھسنے لگی، ہم خوب پڑھتے، خوب کھیلتے اور خوب لڑتے ماہ پارہ سے کھیلنے کے شوق میں مجھے سب کے ساتھ کھیلنا پڑتا۔ آج تینوں اس دنیا میں نہی ہیں یہ کہ کر سرفراز نے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔ تمام افراد کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔ تمام لوگوں کے دل میں ایک ہی بات تھی کہ سرفراز چپ نہ ہو بولتا رہے اور سب سنتے رہیں۔ میزبان نے پہلو بدلا، مائیک لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ سرفراز کی گرجدار آواز گونچی “ نہی آج مجھے سب کہنے دو آج مجھے کوئی مت روکے۔” سرخ آنکھوں میں تیرتی آنسووؐں کی کشتیوں نے میزبان کو ساکن کر دیا۔ اس نے ایک لمبا سانس کھینچا، کھنگھار کر گلا صاف کیا اور صرف اتنا ہی کہ سکا “پھر کیا ہوا؟”
    ٍ
    وقت کو جیسے پر لگ گئے سچ کہتے ہیں وصل کے لمحے اونچی اڑان بھرتے ہیں جبکہ ہجر کے پل رینگتے ہیں۔ وصال ہی وصال تھا۔ سکول علیہدہ تھے مگر ہم اکٹھے آتے جاتے، اکٹھے پڑھتے اکٹھے رہتے جیسے ہوا بغیر سانس لینا مشکل ویسے ماہ پارہ کے بغیر زندگی مشکل لگتی۔ ہم دور دور تک پکڈنڈیوں پر چلتے جاتے رات کو ہم اکٹھے ستارے گنتے کھیتوں میں اگر کبھی بابا کام کے لئے لے جاتے تو ماہ پارہ ضد کر کے ساتھ ہو لیتی درخت کی چھاوؐں میں پڑی چارپائی پر بیٹھی مجھے تکتی رہیتی ہمارے والدین کیا سارے گاوؐں کو معلوم تھا ماہ پارہ سرفراز کی ہے مگر عجیب بات تھی ہم دونوں جسمانی تبدیلیوں سے گزر رہے تھے ہمارے دل ایک دوسرے کی محبت میں شرسار تھے مگر کبھی ایک دوسرے کے جسمانی لمس کی ضرورت محسوس نہ ہوئی محبت تو عبادت ہے اور عبادت میں جسم نہی روح سرشار ہوتی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ سے محبت کے لئے جسم کتنا ضروری ہوتا؟ ہر سال جب گاوؐں میں میلہ لگتا تو اس کے لیے سبز رنگ کی چیزیں خریدتا کبھی سبز چوڑیاں، کبھی سبز پراندے اور کبھی سبز ڈوپٹہ۔ اس پر سبز رنگ خوب جچتا تھا۔ اور اس کی پسند ہی تو میری پسند تھی۔ میرے دل میں جہاں صرف ماہ پارہ ہی ماہ پارہ تھی وہاں ماں، باپ، بہن ، بھائی ، موسم، سب جگہ بنا رہے تھے مگر اب بھی باقی محبتیوں پر ماہ پارہ ھاوی تھی اور پھر وہ ہوا جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے دادا جی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ ابھی چالیسواں بھی نہی ہوا تھا کہ بٹوارے ہو گئے گھر میں دیواریں کھینچ دی گئیں زمیں کے ٹکڑے کر دئے گئے اور ہجر کے موسموں نے ہماری منڈیڑوں پر ڈیرے جما لئے۔ ایک دوسرے کی ایک جھلک دیکھنا مشکل ہونے لگا آنسو ماہ پارہ کی آنکھوں سے نکلتے اور بہتے میری آنکھوں سے تھے۔ آہ وہ بھرتی تھی کلیجہ میرا جلتا تھا۔ سانس اس کی رکتی تھی دم میرا نکلنے لگتا تھا منتیں مانگ مانگ کر ہاتھ چھلنی ہونے لگے تھے مرادوں کی چوکھٹ عبور کرنا ناممکن لگ رہا تھا وہ لمحہ قیامت سے کم نہ تھا جب یہ اطلاع پہنچی کہ ماہ پارہ فرید جیسے امیر گھر میںبیہائی جائے گی۔ وہ محبت جس میں لمس کو گزر نہ تھا اب ہوس کا شکار ہونے لگی تھی۔ نہی ماہ پارہ کا جسم بھی میرا نہی تو کسی کا نہی۔ ثواپ کی دیواروں پر گناہ کی دراڑیں پڑنے لگی تھیں اس سے پہلے کہ کہ شیطان دل پر غلبہ پا لیتا اور محبت اغوا ہو جاتی ماں نے دودھ کی قسمیں دی اور باپ نئے سر کی پگڑی قدموں میں ڈال کر مجھے شہر بھجوا دیا اس وعدے کے ساتھ کہ میں تعلیم حاصل کر کے بڑا آدمی بن جاوؐں ماہ پارہ میری ہے میری ہی رہے گی۔ کاش میں شہر نہ آیا ہوتا۔
    ٍ
    ابا کے دوست کے گھر رہتے ہوئے مجھے تیسرا مہینہ تھا۔ میری ساری توجہ پڑھائی کی طرف تھی مجھے شہر یا کالچ کی آذادانہ زندگی سے کیا سروکار ابھی تک میرے دل کے زیادہ تر حصے پر ماہ پارہ قابض تھی۔ مگر ایک دن آپی کی کال نے زندگی اندھیر کر دی۔ چچا کی فیملی فرید کے شہر شفٹ ہو گئی تھی اور ماہ پارہ سادگی کے ساتھ فرید کی ہو گئیی تھی۔ کچھ دن تو دنیا اندھیر ہو گئی میں گاوؐں واپس آ گیا جیسے سب کچھ ختم ہو گیا باپ کی شرمندہ آنکھیں اور ماں کی بے وجہ مصروفیت سمجھ آ رہی تھی۔ ایک ایک جگہ اس کی یادیں بکھری ہوئ تھیں۔ موت واحد حل نظر آ رہا تھا سارا سارا دن میں کھیتوں، پگڈنڈیوں اور گلیوں میں آوارہ پھرتا کہ ایک دن ایک مزار کے احاطے میں بزرگ نے مجھے روک لیا۔ “محبت مرنا سکھاتی ہے یا جینا؟” انہوں نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔ “اگر جسم سے محبت کرتےتھے تو مر جاوؐ اور اگر روح سے تو جیو جب تک اللہ چاہے” بس اس دن کے بعد میں نے سب کچھ دل سے نکال دیا سوائے پیسے کی محبت کے۔ دولت نے میری دنیا اجاڑی تھی سو میں دولت میں بہ جانا چاہتا تھا۔ سرفراز خاموش ہو گیا مایئک میزبان کو پکڑایا اور سر جھکا لیا۔ تمام سننے والے مبہوت تھے۔ محبت کا یہ انجام کیا ہمیشہ آنسو ہی رہیں گے۔
    ٍ
    “آپ یہاں کیسے آئے؟ “ میزبان نے بھیگی آنکھوں سے پوچھا۔ “سرفراز نے سر اٹھایا اس کی آنکھیں چھلکنے کو تیار تھیں۔ “پھر میں شہر کا ہی ہو گیا۔ دولت کے حصول میں سب کچھ کیا حتی کہ امیر گھرانے میں شادی بھی کر لی تین بیٹے ہوئے۔ زندگی نوٹوں کے گرد کولہو کابیل بن گئی۔ بچے اسی دولت کو استعمال کرتے ہوئے باہر کے ملکوں میں سیٹ ہو گئے۔ بیوی کچھ عرصہ پہلے فوت ہو گئی سب سے چھوٹا بیٹا مجھے ادھر چھوڑ کرخود دبئی شفٹ ہو گیا وہ سمجھے ہیں میرا زہنی توازن خراب ہے۔” سرفراز کا لہجہ بھیگ چکا تھا۔ میزبان نے اپنا رخ کیمرے کی طرف کیا اور لہجے میں درد لاتے ہوئے گویا ہوا “ عید کی خوشیوں میں اپنوں کو مت بھولئے۔ ہم بھی گزار رہے ہیں آج کا دن جن کے اپنے انہیں بھول چکے ہیں۔ یہاں لیتے ہیں ایک بریک۔ ملتے ہیں بریک کے بعد۔” کیمرہ نے فوکس کیا سرفراز کی آنکھوں سے دو آنسو گالوں سے پھسلتے ہوئے کہیں کھو گئے لیکن سرفراز یہ نہی جانتا تھا کہ اب بھی اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو کہیں کھوئے نہی سبز ڈوپٹے میں جذب ہو گئے۔ ماہ پارہ نے ٹی وی کا سوئچ آف کر دیا۔

  • چی چوں

    میرے لئے جان بچانا مشکل ہو رہا تھا۔ میں اس وقت کو کوس رہا تھا جب ماں کے کہنے پر میں نے گھونسلے سے چھلانگ لگائی تھی۔ “کیا ماں میری دشمن ہے؟” میں نے روتی آنکھوں کے ساتھ سوچا۔ “نہی نہی! ایسا نہی ہو سکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو اس وقت ماں اور بابا ہمسائیوں کے ساتھ مل کر چیخ کیوں رہے ہوتے۔ “بچو چی” ماں نے پوری قوت سے چیخ کر کہا۔ منڈیر سے اڑتی ہوئی اس بچے کے سر سے گزر گئی تاکہ وہ مجھے پتھر نہ مار سکے۔ مگر اس سے پہلے کہ میں بچنے کی کوشش کرتا پتھر اڑتا ہوا میری دائیں پسلیوں پر لگا تکلیف کی شدت اور موت کے خوف سے چند لمحوں کے لئے میں ساکن ہو گیا۔ میری آنکھیں آنسووؐں سے بھر چکی تھیں مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ ہر شے دھندلی ہو گئی ہے۔ ماں بے چینی سے دائیں بائیں اڑ رہی تھی۔ بابا بار بار کہ رہے تھے “بچے ہمت سے کام لو۔ اڑنے کی کوشش کرو۔ پر پھیلاوؐ ۔ اڑنے کی کوشش کرو”۔ بے بسی ان کے چہرے سے عیاں تھی۔ آسمان پر اڑنے والے ماں بابا اور سب کا بس نہی چل رہا تھا کہ مجھے اپنے پروں میں چھپا کر واپس گھونسلے میں لے جائیں۔ مگر لگتا تھا اب یہ ممکن نہی۔
    ٍ
    مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں نے چونچ مار کر انڈے کے خول کو توڑا تھا تو سب سے پہلے ماں کا مسکراتا چہرہ نظر آیا تھا۔ “ماں آپ کی آنکھوں میں آنسو؟” میں نے گردن باہر نکالتے ہوئے پوچھا۔ “باہر آؐو میرے چاند” یہ خوشی کے آنسو ہیں۔ ہم تو تم سے نا امید ہو چکے تھے۔ دو دن ہو گئے تمہارے بھائیوں کو باہر آئے ہوئے۔ میرا سر چومتے ہوئے ماں نے بتایا۔ “ناہر آو نا، ہاں ہاں کوشش کرو” میں نے اپنا پورا زور لگایا مگر میں خول کو مکمل توڑ کر باہر نہ آ پایا۔ یکدم بابا آگے بڑھے اور انہوں نے مجھے سر سے بڑے پیار سے پکڑا اور باہر کھینچ لیا۔ باہر نکلا تو دو اور بچوں کو اپنے سامنے پایا۔ ” یہ دونوں تمہارے بھائی ہیں۔ یہ چا چوں اور یہ چو چوں ہے” بابا نے میرا تعارف کروایا۔ میں بہت خوش تھا مجھے جیسےسارے جہاں کی دولت مل گیئ ہو۔
    ٍ
    چند دن ایسے ہی گزر گئے۔ ماں بابا چلے جاتے اور آتے جاتے رہتے۔ جب بھی آتے ہمارے لئے کھانے کو ضرور لاتے۔ ان کی آہٹ سنتے ہی ہم منہ کھول دیتے خوراک ملتے ہی ہم سب چوں چوں کا شور مچا دیتے۔ ماں مجھے زیادہ پیار کرتی تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ میں باقی دونون بھائیوں کی نسبت کمزور ہوں۔ میرے دونوں بھایئ اب گھونسلے کی منڈیر پر جا کھڑتے ہوتے۔ اپنے پر پھیلاتے سمیٹتے اور اس عمل کو بار بار دہراتے جیسے جلد ہی وہ ماں بابا کی طرح اڑان بھر سکیں گے اور میں ان کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا رہتا۔ میں بھی یہ سب کرنا چاہتا تھا ان جیسا بننا چاہتا تھا مگر کوشش کے باوجود نہ کر پاتا۔ رات کو جب ماں کی آغوش میں سوتا تو ماں مجھے بہادر ی اور ہمت کے قصے سنایا کرتی تھی۔ وہ کہتی چی تم کوشش کیا کرو۔ ہمت کیا کرو تم بھی ہم جیسے ہو بس تھوڑتے کمزور ہو لیکن ہمت اور حوصلہ سے انسان ناممکن کو ممکن کر دیتا ہے اور مجھے یقین ہے تم ایسا کر سکتے ہو۔ اور نیند کی وادیوں میں کھونے سے پہلے میں خود کو بہت مظبوط خیال کرتا تھا اور خود سے عہد کرتا تھا کہ کچھ بھی ہو میں ہمت اور حوصلہ نہی ہاروں گا۔
    ٍ
    میں روزآنہ اسی کوشش میں لگ گیا کہ مجھے گھونسلے کے کناروں پر کھڑے ہونا ہے اور چند کوششوں کے بعد میں اداس ہو گیا کہ میں یہ نہی کر سکتا۔ میں ایک گونے میں بیٹھ کر رونے لگا چا اور چو میرے قریب آ گئے۔ “رونا مسائل کا حل نہی ہوتا چی” چا نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ “دیکھو میری طرح پر پھیلاوؐ کاندھے کے زور سے خود کو اوپر اٹھاوؐ اور کنارے پر پاوؐں جماؐو” چو نے کر کے دکھایا اور کنارے پر بیٹھ کر میری ہمت بندھانے لگا۔ چا بھی اس کے قریب جا بیٹھا تھا۔ میں نے پھر کوشش کرنے کی ٹھانی اور پانچویں بار میں اپنے بھائیوں کے ساتھ کنارے پر بیٹھا تھا سچ کہا تھا ماں نے حوصلہ اور ہمت کبھی نہی ہارنی چاہیے مسلسل کوشش سے ہم ناممکن نظر آنے والا کام بھی کر سکتے ہیں۔ میں بہت خوش تھا۔ میں واپس گھونسلے میں گیا پھر کوشش کی۔مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ لیکن اب مجھے معلوم تھا میں یہ کر سکتا ہوں سو ایک دو کوششوں کے بعد میں کنارے پر بیٹھ جاتا ۔ ماں بابا آیئ تو وہ مجھ سے بھی زیادہ خوش ہوئے جب انہوں نے مجھے گھونسلے کے کنارے پر پر پھیلائے دیکھا۔
    ٍ
    چند دنوں کے بعد دونوں بھائی ماں بابا کے ساتھ پرواز کرنے لگے تھے۔ ان کی پہلی اڑان بہت خوبصورت تھی۔ انہوں نے گھونسلے سے چھلانگ لگاتے ہی پر پھیلا دئے یکدم وہ نیچے کی جانب جانے لگے انہوں نے اپنے پاوؐں ملایے اور پرون کو اوپر نیچے کر کے ہوا کو تسخیر کرنے لگے۔ بابا نے جیسے سکھایا تھا انہوں نے بلکل ایسا ہی کیا اور کچھ لمحوں کے بعد وہ ہواوؐں کا سینہ چیڑ رہے تھے اور میں ایک بار پھر سوچ رہا تھا کہ کیا میں کر پاوؐں گا۔ بھائیوں کے ساتھ میں بھی پرواز کرنا چاہ رہا تھا مگر ماں نے کہا کہ ابھی مجھے سیکھنا چاہئے۔ والدیں کتنے اچھے اور باخبر ہوتے ہیں کہ اپنے بچوں کے دل کا حال بھی جانتے ہیں۔ میں جانتا تھا کہ شائد میں اڑ نہ پاوؐں۔
    ٍ
    آج میری باری تھی۔ دو دن سے مجھے سکھایا جا رہا تھا۔ دونوں بھائی اب کم کم آتے تھے اور آ کر کئی قصے سناتے تھے۔ میرا حوصلہ بڑھانے کے لیے وہ بھی موجود تھے۔ ” چی لمبا سانس لو اور کود جاوؐ” ماں نے کہا۔ میں نےساری ہمت جمع کی اور گھونسلے سے چھلانگ لگا دی مگر یہ کیا میرے پر ہوا کے ساتھ مقابلہ نہی کر پائے اور میں قلابازیاں کھاتا ہوا زمیں پر گرا میرے پاوؐں پر شدید چوٹ آئی تھی۔ سب کو ایک لمحے کے لئے جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ ماں فورا میرے قریب آئی ” میرے چاند کوو زیادہ چوٹ تو نہی آئی” ماں نے میرا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔ “فکر نہ کرو سب ٹھیک ہو جائے گا” ماں نے میرا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی۔ باقی سب میرے اوپر منڈلا رہے تھے۔ “اٹھو شاباش کوشش کرو” بابا نے پریشان لہجے میں کہا۔ ابھی میں تکلیف برداشت کرتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ دو بچوں کی نظر مجھ پر پڑ گئی۔
    ٍ
    دونوں مجھے غور سے دیکھنے لگے ماں اڑ کر دیوار پر جا بیٹھی تھی اس کے چہرے پر یکدم پریشانی ہویدا تھی۔ ابھی میں سنبھلنے بھی نہ پایا تھا کہ ایک بچے سے اسکیل سے مجھے دھکا سا دیا دوسرا بچے نڈر معلوم ہوتا تھا وہ مجھے پکڑنے کی کوشش کرنے لگا۔ میں پھدک کر تھوڑا آگے ہو گیا اسی اثنا میں چند اور بچے بھی اکٹھے ہو گئے تھے وہ سب مجھے پکڑنا چاہتے تھے میرے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا تھا۔ جان بچانا مشکل لگ رہا تھا۔ کوئی ڈنڈیا مار رہا تھا کوئی پتھر کہ یکدم ایک بچہ لنگڑاتا ہوا آگے بڑھا موت کے خوف سے میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ یکدم جیسے مجھے کسی نے دبوچ لیا ہو۔ تکلیف اور مرنے کے احساس نے مجھے گنگ کر دیا تھا کہ وہ بچہ لنگڑاتا ہوا بھاگ گھڑا ہوا۔ قریب ہی ایک گھر کے دروازے کو دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہو گیا۔ “اماں اماں” اس نے سانس درست کرتے ہوئے پکارا۔ ماں کو دیکھتے ہی وہ آنسو بہاتا اس سے لپٹ گیا ” اماں اسے کہیں سے پولیو کے قطرے پلوا دو ورنہ یہ میری طرح لنگڑاتا پھرے گا اور روز روز مرتا رہے گا”

  • میرا بچہ

    “میرا بچہ”

    حیدر بہت خوش تھا۔ فییکٹری میں کام کرتے ہوئے وہ پھولے نہی سما رہا تھا۔ جلد از جلد اپنا کام نمٹا رہا تھا۔ کام کیا نمٹانا وہ اپنے دوست عمر کو کہ رہا تھا۔ یار زرا سنبھال لینا۔ مجھے گھر جلدی جانا ہے۔ عمر جانتا تھا جب سے گھر سے فون آیا ہے حیدرکے پاؤں زمین پر نہی ٹک رہے۔ دس سال ہو گئے تھے حیدرکی شادی کو اور آج وہ مبارک گھڑی آ پہنچی تھی جب اس کے سونے آنگن میں بھی کلکاریاں گونجنے لگیں۔ کیا آرزو ہوتی ہے جوان ہوتے ہی۔ پہلے انجانے میں نوجوان اپنے آنگن چوڑیوں کی کھنک سےسجا ہوا دیکھتا ہے اور جب دکھ سکھ کا ساتھی مل جائے تو خواہش ہوتی ہے کہ جلد از جلد غوں غوں کی آوازوں سے سارا گھر روشن ہو جائے۔ نعمت ہو یا رحمت ماں باپ کے لئے تو جان کا ٹکڑا ہوتے ہیں۔

    یہ سوچتے ہوئے عمر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔۔ہاں! ہاں۔۔یار تو چل میں سنبھال لوں گا۔ حیدر نے جب عمر کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو اس نے اسے گلے لگا لیا۔ نہ بھیا۔ روتے نہیں۔ اس نے عمر کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا۔ زندگی اللہ کی دین ہے امانت ہے جب چاہے واپس لے لے۔ اسی میں بہتری ہو گی۔ ناں یار۔۔بس کر دے۔ اب تو چالیسواں بھی ہو چکا نوید کا۔ نوید عمر کا نوجوان بیٹا تھا یہی کوئی 15 سال عمر ہو گی۔ میٹرک کا طالب علم۔ پڑھائی میں تیز۔ ماں باپ کا اکلوتا بیٹا۔ بڑھاپے کے خوابوں کی تعبیر۔ لیکن شہر کے حالات اسے کھا گئے۔ ان دیکھی گولی اسے چاٹ گئی۔ ہنتے بستے گھر پر قیامت ٹوٹ گئی۔ عمر ہمیشہ شکوہ کرتا تھا کہ جب لے ہی لینا تھا تو دیا کس لئے تھا۔ بے جرم قتل۔ اب تو اس شہر کو عادت ہو تی جا رہی ہے ہر روز جنازہ کی نمازیں پرھنے کی جیسے یہ نماز بھی فرض نمازوں میں شامل ہو گئیں ہوں۔ کون سی مسجد ہے جہاں روزآنہ بے جرم و بے گناہ بندوں کی نماز جنازہ نہی پڑھی جا رہی۔ حیدرکے حوصلہ دینے سے عمر نے اپنی آنکھیں صاف کی۔ اور لجاجت سے بولا۔ بیٹے کو میری طرف سے بھی پیار کرنا۔ کیا کروں یار۔ نوید بھولتا ہی نہی۔ کیسے بھول سکتا ہوں۔ جب تک اس کے قاتل نہی پکڑے جائیں گے۔ کس نے مارہ، کیوں مارہ، کسے ہوا سب؟ یہ سب سوال۔ سب جانتے ہیں کیا ہو رہا ہے لیکن زندگی کا خوف قاتل کا نام لینے سے گریزاں ہے۔ گریزاں ہی رہے گا۔ بوڑھے باپ جوان بیٹوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔ بیٹیاں عزتیوں لٹواتی رہیں گی۔ ان دیکھے ہاتھ کو اب دیکھنا ہو گا۔ نام لینا ہو گا ورنہ یہ ہوتا رہے گا۔ آج میرے گھر میں جنازہ ہے کل تمہارے گھر میں ہو گا اور پھر گھر گھر میں ہو گا۔ یار وعدہ کر۔۔ عمر نے یاسیت سے کہا۔۔اپنے بچے کو کسی دوسرے شہر لے جائے گا۔ میرا پیارا شہر تو اب قبرستان میں بدلتا جا رہا ہے۔ اور قبرستان بھی کوئی رہنے کی جگہ ہے۔ ہاں! ہاں ضرور حیدرنے بڑے پیار سے کہا۔ جیسے ہی کوئی بندوبست ہوا۔ چھوڑ دوں گا۔

    حیدرمتوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے باپ نے اچھے وقتوں میں دو کمروں کا چھوٹا سا ایک فیلٹ خرید لیا تھا وہی اس کی جمع پونچی تھی۔ بوڑھی ماں اور بیوی کے ساتھ گزر بوسر ہو رہی تھی۔ شادی کے دس سال کے بعد ہو باپ بنا تھا۔ صبح گھر سے نکلتے ہوئے وہ سوچ بھی نہی سکتا تھا کہ آج آنے والا ا جائے گا۔ ابھی دی گئی تاریخ میں پندرہ بیس دن باقی تھی۔ ہمیشہ کی طرح اس نے اپنی بیگم کے پیٹ پر یاتھ رکھ کر اپنے بیٹے کو پیار کیا۔ اور ہمیشہ کی طرح باپ کا ہاتھ محسوس کرتے ہی بیٹے نے گھمن گھیڑیاں شروع کر دیَ۔ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا دیئے ایسی خوشی کہ وہ اپنی رگ رگ میں مسرت کا دریا بہتا محسوس کرتا رہا۔ جب بھی اسے بیٹے پر پیار آتا وہ یہی کرتا اور اس کے جواب میں بیٹے کی گمن گھیریوں سے محظوظ ہوتا۔

    فیکٹری سے نکلتے ہوئے وہ بہت مسرور تھا۔ بڑے بڑے منصوبے بنا رہا تھا۔ اپنے خواب اپنے بیٹے کی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور امید کر رہا تھا اس کی تعبیر ضرور ممکن ہو گی۔ اپنے آپ سے وعدہ کر رہا تھا کہ وہ بچے کی تمام خواہیشیں پوری کرنے کی کوشش کرے گا کہ اچانک بس کو جھٹکا لگا۔ اوہ ٹریفک جام۔ اس نے دائیں بائیں دیکھا۔ مختلف آوازیں اور ہارن شروع ہو گئے۔ آگے فائرنگ ہو رہی ہے۔ کنڈیکٹر نے بڑے آرام سے کہا جیسے معمول کی بات ہو۔ معمول ہی کی تو تھی۔ جب چاہےکسی کو بھی مار دیا جاتا تھا۔ یا اللہ رحم کر ہمارے شہر پر۔ حیدرنے دل سے دعا مانگی۔ کتنی آسانی سے انسان انسان کا قتل کر دیتا ہے۔ ساتھ رہتے ہیں ساتھ جیتے ہیں پھر بھی۔ رحم میرے مالک رحم۔

    بس سے اتر کر گھر کی جانپ جا ہی رہا تھا کہ مغرب کی آذان ہونے لگی۔ آذان کی آواز سنتے ہی حیدرکو خیال آیا کہ کیوں نہ پہلے نماز پڑھ لے اور شکرانے کے نفل بھی۔ منتوں کی نمازیں تو بعد میں پڑھی جا سکتی ہیں۔ بیس قدم کی دوری پر اپنے فلیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے بچے کو خیالوں میں بوسے دیتے ہوئے حیدرمسجد میں داخل ہو گیا۔ نماز پڑھ کر دعا کرتے ہوئے اس نے بہت سی دعائیں کی۔ عمر کے لئے بھی کہ اللہ اسے صبر دے اور اپنے لئے بھی کہ اب اسے اپنے بچے کے لئے زندگی چاہئے کوئی ایسا بندوبست ہو جائے کہ وہ شہر سے چلا جائے یا شہر کی قتل و غارت ختم ہو جائے۔ نماز اور شکرانے کے نفل پڑھنے کے بعد جب حیدر مسجد سے باہر نکل رہا تھا تو ایک زور دارد دھماکا اس کا منتظر تھا۔ آخری منظر جو حیدرکی آنکھوں میں جذب ہو گیا وہ انسانی اعضا کافضا میں اچھلنا تھا جس میں اس کے اپنے بھی شامل تھے کوئی ہوتا تو سنتا کہ آخری الفاظ حیدرکے “میرا بچہ” تھے۔

    افراتفری کا بازار جب ختم ہوا تو لوگوں نے دیکھا کہ سامنے والے فلیٹوں میں آگ لگ چکی تھی اور ایک اجڑی ہوئی ماں، حیدر کی بیوی، جسے نہ اپنی نسوانیت کا ہوش تھا نہ اپنی حالت کا ایک بچے کھچے بچے کو اٹھائے جس کی ایک ٹانگ غائب تھی چہرہ چھلس چکا تھا اور وہ کبھی بھاگتے ہوئے آگے جا رہی تھی۔ کبھی بھاگتے ہوئے پیچھے۔ کبھی بیٹھ جاتی کبھی کھڑی ہو جاتی۔ لوگوں کے لئے تماشا بنی ہوئی۔ کیمروں کے لئے انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ لیکن کاش کوئی اس کے بھی قریب جاتا تو سنتا کہ وہ ایک ہی جملہ بڑبڑا رہی تھی “میرا بچہ”۔