ایک جنگل میں ایک سفید برف جیسا خرگوش رہتا تھا۔ جسے اس کے والدین گگلو کہ کر پکارا کرتے تھے۔ گگلو کے 5 بہن بھائی تھے۔ اٹلو، شٹلو، مٹلو، ببلو اور شٹالو، پہلے چار بھائیوں کے ساتھ شٹالو بہن کا ساتھ گھر کو گھر بناتا تھا۔
سب بہن بھائی ماں باپ کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہے تھے . گگلو کو گاجر کھانا بہت پسند تھا۔ اسے جب جہاں گاجر مل جاتی وہ فٹا فٹ کسی کونے کھدرے میں گاجر سمیت چھپ جاتا اور مزے لے لے کر کھاتا جاتا تھا۔ ساتھ ساتھ وہ گنگناتا بھی جاتا تھا۔ “لال لال گاجر، مزے مزے کی گاجر، جب بھی کھاتا ہوں میں، مزے سے کھاتا ہوں میں” کبھی کبھی تو ایسا ہوتا کہ اسے چھپے ہوئے اتنی دیر ہو جاتی کہ ماں باپ پریشان ہو جاتے اور سارے بہن بھائی اسے ڈھنڈنے نکل جاتے۔ کیونکہ گلگو چھوٹآ بھی تھا ور اسی وجہ سے سب اسے بہت پیار کرتے تھے۔ صرف سمجھا کر چھوڑ دیا جاتا تھا ورنہ گلگلو کے ابا بڑے غصہ والے تھے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ وہ بہن بھائیوں کے حصے کی گاجر بھی کھا جاتا۔ لیکن چھوٹا ہونے کی وجہ سے کوئی اسے کچھ نہی کہتا تھا۔
ایک دفعہ اسیا ہوا کہ گگلو کو بہت بھوک لگی ہوئی تھی۔ اس نے گھر میں دیکھا کہ کہیں اسے گاجر مل جائے اور وہ اپنی پسندیدہ جگہ پر جا کر خوب مزے لے کر اسے کھائے لیکن اس کی یہ خواہش شرمندہ تعبیر نہ ہو سکی۔ وہ اداس گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ ماں نے بہت سمجھایا کہ کچھ اور کھا لے ابا شام کو لے آئیں گے لیکن گلگو نے تو ضد ہی پکڑ لی کہ اسے صرف گاجر چاہئے۔ شٹالو نے بڑے پیار سے سبزیوں کا متنجن تیار کیا تھا اور اس کی خواہش تھی کہ گگلو اسے کھائے لیکن گگلو نے اسے بھی انکار کر دیا۔ اسی اداسی میں وہ گھر سے نکل آیا اور باہر گھومنے لگا۔ ان کے ہمسائے میں بٹآلو فیمیلی رہا کرتی تھی۔ گگلو کو اندازہ تھا کہ ان کے ہاں گاجروں کا سٹاک ہوتا ہے اگر وہ چپکے سے ایک آدھ چوری کر لے گا تو کسی کو پتہ نہی چلے گا ور اس کی خواہیش بھی پوری ہو جائے گی۔ اس نے سرنگ بنانی شروع کی۔ آخر کافی محنت کے بعد وہ بٹالو کے گھر میں داخل ہو چکا تھا اس کا پہلا منصوبہ کامیاب ہوچکا تھا۔ دوسرا اس نے گاجر کی خوشبو کو سونگھ کر وہ جگہ ڈھونڈ لی جہاں گاجریں رکھیں تھیں۔ اس نے اس میں سے ایک گاجر نکالی اور واپس غلطی سے سرنگ کی بچائے دروازے سے نکلنے لگا کہ شٹالوں کو دروازے پر دیکھ کر اس کی گھگھی بندھ گئی۔ شٹالوں سبزیوں کا منتنجن دیتےا ور ان سے ایک گاجر گگلو کے لئے لینے آئی تھی۔
گگلو کے ابا نے گلگو کو خوب مارا۔ وہ ہر بات برداشت کر سکتے تھے لیکن چوری کو برداشت نہی کرسکتے تھے کبھی ایسا نہی ہوا تھا کہ کسی اور نے ایسا کام کیا ہو۔ سب بہن بھائیوں کے ماں سمیت دل دکھے ہوئے تھے لیکن سب جانتے تھے کہ اسی میں گلگلو کی بہتری ہے۔ گگلو روتی آنکھوں اور اداس چہرے کے ساتھ اپنی پسندیدہ جگہ پر آ گیا۔ کب سے وہ بھوکا تھااور اب تو بھوک کے مارے اس کا برا حال تھا۔ کسی نے اس سے کھانے کو نہی پوچھا کاش اسے وہی گاجر مل جاتی جو بٹالو انکل نے شٹالو کو دے دی تھی۔
یہی سوچتے سوچتے اس کی آنکھ سے آنسو نکلنے لگے۔کہ کاش وہ ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہوتا۔ پھر وہ بہن بھائیوں کی گاجریں بیھ وہیکھا جاتا کاش دنیا میں کوئی نہ ہو اور وہ ساری گاجریں کھا جائے۔ وہ یہی سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ایک پری کے پر پھرپھرانے کی آواز آئی۔ اندھیرے میں اچانک روشنی دیکھ کر گگلو گھبرا گیا۔ پری نے بہت پیار سے گگلو کی طرف دیکھا ور بولی “مجھ سے مت ڈرو۔ میں تمہے نقصان پہچانے نیہ تمہاری خوایش پوری کرنے آئی ہوں۔ بولو کیا خواہش ہے؟
گگلو نے پہلے تو سوچا کہ وہ گاجر مانگ لے لیکن پھر یہ سوچ کر کہ گاجر ختم ہو گیئ تو پھر کون گاجر دے گا۔ اس نے پری سے کہا کہ اے پیاری پر ایسا کرو کہ سارے خرگوشوں کو ختم کر دو اور میں ہوں اور گاجریں ہی گاجریں۔
پری نے دکھ بھری آنکھوں سے گگلو کی طرف دیکھا اور بولی “گلگلو سوچ لو میں تو تمہاری خواہش پوری کر کے چلی جاؤں گا بعد میں تمہے افسوس نہ ہو”
گگلو نے ایک جست لگائی اور پری کے قریپ پہنچ گیا اور بولا “اچھی پری کیا تم میری یہ خواہش واقعی پوری کر سکتی ہو۔؟”
پری نے اپنی چھڑی ہلائی اور ہر طرف روشنی بکھر گئی۔ گگلو نے سر اٹھا اٹھا کر دیکھنا شروع کیا۔ ہر طرف گاجریں ہی گاجریں تھیں۔ اس نے کانپتے کانپتے ہاتھوں سے ایک گاجر اٹھائی اور چاروں طرف دیکھتے دیکھتے کھانے لگا۔ کہیں کوئی نہی تھا وہ اکیلا تھا ور گاجریں اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ اس کی سب سے بڑی خواہش پوری ہو چکی تھی۔ اب وہ اتنی گاجریں کھائے گا کہ ابس کھاتا ہی جائے گا۔ گاجریں کھاتا جاتا تھا اور گاجروں میں کوئی کمی نہ تھی۔ جب گگلو کا پیٹ بہت زہادہ پھر گیا تو اسے نیند آنے لگی۔ اور وہ سونے لگا لیکن اچانک اسے ماں کی یاد آنے لگی۔ ماں اسے لوری گا کر سنایا کرتی تھی۔ سو جا رے دلارے، سو جا چاند اور تارے اور آج کوئی اسے لوری سنانے والا نہ تھا۔ اب اسے نیند کیسے آئے گی۔ جب تک شٹالو اس کے ماتھے پر پوسہ نہی دیتی تھی وہ سوتا نہی تھا۔ اب وہ شٹالو کو کہاں سے لائے۔ اچانک اس کے پیٹ میں درد شروع ہو گیا۔ اسے تکلیف محسوس ہونے لگی تھی۔ زیادہ گاجریں کھانے سے اس کی طبیعت بگڑنے لگی تھی۔ اوہ اسی لئے ماں اسے مناسب مقدار میں کھانے کو دیتی تھی۔ تکلف بڑھتی جا رہی تھی اور چاروں طرف گاجروں کے سوا کچھ نہ تھا۔ گگلو دھاڑیں مار مار کر رونے لگا اور سوچنے لگا کہ اس نے لالچ میں آ کر یہ خواہش کر دی۔ اور اب وہ اکیلا ہے کیا اکیلے بھی زندگی زندگی ہے۔ کاش اس کے ماں باپ بہن بھائی سب دوبارہ آ جائیَ لیکن رو رو کر وہ جپ ہو چکا تھا دور دور تک سوائے گاجروں کے کچھ نہی تھا۔
اچانک اسے ایسا محسوس ہونے لگا اس کا پیٹ پھٹ جائے گا۔ اس نے تھوڑا بہت چلنے کی کوشش کی تو اسے قے شروع ہو گئیں۔ قے کر کے وہ نڈھال گر چکا تھا۔ گاجریں اسے خوفناک ہیولے دکھائی دے رہے تھے۔ خاندان کی یاد اسے جھنجھوڑ رہی تھی۔ ماں کی بات اچانک اس کے زہن میں آئی کہ جب بھی کوئی مصیبت ہو فورا سر کو سجدے میں رکھ کر اللہ تعالی سے دل سے دعا مانگو وہ ضرور پوری ہو گی۔ گگلو نے ہمت کر کے زاروقطار روتے ہوئے سر کو سجدے میں رکھا اور اللہ تعالی سے اپنے لالچ کی معافی مانگی۔ ابھی دعا پوری نہی وہئی تھی کہ وہی پری دوبارہ حاضر ہوئی اب وہ بہت خوش تھی۔ کہ گگلو کو احساس ہو چکا تھا کہ ماں باپ، بہن بھائی اور عزیز رشتہ داروں کے بغیر زندگی کچھ نہی۔ سب کے ساتھ مل جل کر رہنے میں ہی زندگی کا راز چھپا ہے۔ پری نے چھڑی ہلائی اور سب کچھ پھر ویسے ہو گیا۔ شٹالوں گاجر اور سبزیوں کا متنجن لئے اس کے سامنے کھڑی تھی۔
Blog
-
لالچ بری بلا ہے
-
بچے ہمارے عہد کے
آج صبح بیگم نے اتنی زور زور سے آوازیں دے کر اٹھایا کہ میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ عموما بچے سکول چلے جاتے ہیں تو تیار ہونے کی میری باری ہوتی ہے اس لئے میں سویا پڑا رہتا ہوں اور بیگم بچے تیار کر کے بھیچ دیتی ہے۔ لیکن آج میں خوفزدہ سا ہو گیا۔
“کیا ہوا؟ کیا زلزلہ آ گیا ” میں نے غصے سے پوچھا
“اس گھر میں تو سکون کی نیند ہی نہی ہے” سوالیہ نگاہوں سے میں نے بیگم کو گھورا
“پندہ منٹ گزر گئے ابھی تک رکشہ والا نہی آی زرا فون کر کے پوچھیں” بیگم نے کہا اور “ان کی تو نیند ہی پوری نہی ہوتی جب دیکھو سونا سونا سونا” بڑبراتے ہوئے بیگم نے کچن کا رخ کیا۔
“غازی” میں نے اپنے بیٹے کو آواز دی۔” زرا میرا فون دینا”
وہ فون لے کر آیا۔ میں نے جمائیاں لیتے ہوئے نمبر ڈھونڈ کر ملایا اورفون ملے ہی میں نے سلام کیا۔
“آئے نہی ۔۔ابھی تک” میں نے رکشہ والے سے پوچھا
“جی۔۔۔۔۔۔۔۔” ایک لمبی سی جی کہ کر رکشہ والے نے کہا
“میں تو بچوں کو لیکر سکول پینچ گیا ہوں”
“سکول پہنچ گئے؟” میرے لہچے میں حیرانی تھی۔
“جی۔ صبح غازی نے فون کیا تھا کہ آج چھٹی کریں گے” رکشہ والے نے جواب دیا
میں نے فون چارپائی پر پھینگا اور چلایا “غازییییییییییییییییییییییییییییییی”
غازی تو کمرے میں گھس گیا تھا۔ بیگم نے آ کر حیرانی سے مجھے دیکھا میں نے اسے دیکھا اب اس عمر میں صرف دیکھنا ہی تو رہ جاتا ہے۔ اوراشارے سے کہا “کچھ کہئے گا نہی” جی اب وہ اشارے کہاں جن سے دل میں ہلچل مچا کرتی تھی
چلیں اشارے نے زرا غصہ کم کیا۔ میں نے غآزی کو پھر صدا لگائی اور بلایا
“تم نے فون کیوں کیا تھا” میں نے رعب سے پوچھا
“وہ ماما سو رہی تھی میں نے سوچا آج چھٹی کروانی ہو گی” اس نے سر جھکائے جواب یدا
میری بیگم نے پھر آنکھوں آنکھوں میں اشارہ کیا کہ کچھ نیہی کہنا۔ میں نے ہمیشہ کی طرح اشارہ مان لیا۔ فون اٹھایا قریپ رکشہ والے کھڑے ہوتے ہیں جن کے ساتھ عموما میں آفس آتا ہوں۔ وہ باہر ہی تھا گلی کی موڑ پر۔ اسے بلایا بچوں کو بٹھایا اور سکول بھیچ دیا۔ بچے ہکا بکا مجھے دیکھ رہے تھے۔ انہیں آج پتہ چلا ہوا گا کہ وہ سر ہیں تو ہم سوا سیر ہیں آخر باپ ہیں
-
نیا سال مبارک
آج چھٹی کا دن تھا، باہر کے سارے کام نمٹا کر جب گھر واپس آیا تو اچھا سا، مزیدار سا، معصوم سا پکا ہوا مرغا ہمارا منتظر تھا، خوب جی بھر کر کھایا اور اتنا کھایا کہ دل چاہ رہا تھا آذان دی جائے لیکن اس سے پہلے کہ بے وقت کی راگنی اپنا جلوہ دکھاتی ہم نے سوجا تھکے ماندے آئے ہیں، پیٹ پوجا تو ہو گئی اب کام دوجا شروع کیا جائے اور پرانے وقتوں کے ایک اہم کام کو سر انجام دیا جائے، سنتے تھے کہ دوپہر کے کھانے کے بعد ہمارے بزرگ قیلولہ کیا کرتے تھے، سو ہم بھی لیٹ گئے اور پھر کیا تھا جونکہ زیادہ کھانے سے جسم بھاری ہو گیا تھا چناچہ روح کو ملا موقعہ اور وہ ہوئی فرار۔
جمعہ کے مبارک دن کی شروعات ہونے والے تھی تاریخ بدلے والی تھی، جنوری 1، 2010 شروع ہونے ہی والی تھی اور ہم نے بھی منصوبوں کی شروعات شروع کی، یہ منصوبہ وہ منصوبہ، ایسا منصوبہ ویسا منصوبہ، ہمارا منصوبہ تمہارا منصوبہ اور ایک پر ایک یعنی نہلہ پہ نہلہ اور دھلہ پہ دھلہ منصوبہ بنایا جانے لگا۔ جب کافی تگ و دو کے بعد سالانہ چارٹ بناچکے، میرا مطلب ہے پیس سے پچیس صفحے برباد کرنے کے بعد ہمارا سر فخر سے بلند ہو گیا۔ اور ہمارے پیارے اور خوبصورت منہ سے نکلا- واہ۔! بس ایک سال کی بات ہے ہم کہاں سے کہاں ہونگیں جہاں سے ہمیں ہماری آواز بھی سنائی نہ دے گی اور سہانے خواب دیکھتے دیکھتے ہم خواب خر اور گوش کے مزے لینے لگے۔
یکدم ایسا لگا جیسے کہ زلزلہ آ گیا ہو، آنکھ کھلی ہمارے لخت جگر آپس میں چنگی مشکیں کر رہے تھے۔ سب سے چھوٹے والا تو ایسے رو رہا تھا جیسے بہادر شاہ ظفر آخری وقتوں میں رویا کرتے تھے، ہم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے ہم نے اسے بلایا، بلا کر بٹھایا، بٹھا کر پچکارا مگر اس نے تو جیسے قسم کھا لی تھی کہ جب تک کشمیر آزاد نہی ہو گا چپ نہی ہو گا۔ مگر ہم بھی آخر باپ تھے اس کے، ہم نے اس سے بھی زیادہ چیخ چیخ کررونا شروع کیا تو وہ ہمیں حیران پریشان دیکھنے لگا اور بس پھر کیا تھا ہم نے سب کو لائین حاضر کیا پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہئ، ادھر لائیٹ گئی اور ادھر سب بچے بایر کی طرف اس طرح دوڑے جیسے مرغی کے ڈربے سے چھوٹے چھوٹے چوزے صبح صبح دروازہ کھلنے پر دوڑتے ہیں۔
ہوش ٹھکانے آنے پر، ہم نے پھر سے دھیان دینا شروع کیا، جی ہاں جناب، ہم نے پھر سےمنصوبہ بندی شروع کی، بیگم نے سنا تو کافی ناراض ہوئی لیکن ہم نے انہیں سمجھایا کہ یہ نئے سال 2012 کی منصوبہ بندی ہے تم فکر نہ کرو۔ یہ سننا تھاک وہ یکدم غائب ہو گئی جیسے گدھے کے سر سے تاج اور جب وارد ہوئی تو ان کے ہاتھوں میں ہماری پچھلے سال کی ڈائری تھی۔ کبھی ہم ان کو دیکھتے رہے اور کبھی ڈائری کو، اے یاد رفتگاں مجھے تنہا نہ کر ابھی۔ کیا کریں سارے پچھلے کیئے گئے وعدے ہماری ٹانگوں سے لپٹ لپٹ کر رونے لگے، ہم کبھی ایک کو دلاسہ دیتے تھے کبھی دوسرے کو، کبھی ایک کو سینے سے لگاتے تھے کبھی دوسرے کو اور پھر عہد کرتے جاتے تھے اس سال ایسا نہی ہو گا۔اور ہم نے نئی ڈائری اٹھائی اور نئے سرے سے لکھنے کا سوچنے لگے۔کیا ایک اور رات ایسے ہی برباد ہو جائے گی یہ سوچتے سوچتے ہم نے پچھلے سال کے لکھے ہوئے صفحے پرانی ڈائری سے نکالے اور نئی ڈائری میں سجا لئے۔ اور مزے سے پھر سو گئے یہ گاتے گاتے کہ ۔
آپ سب کو نیا سال مبارک ہو
-
قصور کس کا
ّّّ
میرا نام عبداللہ ہے یعنی اللہ کا عبد نام رکھتے ہوئے میرے والدین نے سوچا بھی نہی ہو گا کہ میرا تعلق سافلین میں سے ہو جائے گا۔ اپنے رب سے سارے ناطئے توڑ کر شیطانیت کی گہری کھائی میں جا گروں گا اور یہ تو کوئی بھی نہی جانتا کہ وقت اور حالات کب بدل جائیں اور کب انسان صراط مستقیم کو چھوڑ دے اور کب سیدھی راہ پر آ جائے لیکن گزرے وقت کی کربناک پرچھائیاں ہمیشہ پیچھا کرتی رہتی ہیں اور جو گزرر گیا اسے بدلنا زندگی میں تو ناممکن ہے اور زندگی کے بعد سراب لگتا ہے۔
زندگی واقعی خوبصورت ہے جب انسان کو نہ کوئی فکر ہو نا پریشانی ورنہ خاردار ہو جاتی ہے گلزار سے۔ میری زندگی بھی حسین تھی۔ والدین کی آغوش میں گزرے پل نایاب اور یادگار ہی تو ہوتے ہیں۔ ابا کی الیکٹرک کی دکان تھی۔ کام اچھا اتھا۔ ابا کے ایک ہی بڑے بھائی تھے۔ گھر اپنا تھا دونوں اکٹھے رہتے تھے۔ گزر اوقات اچھی تھی۔ ہم دو بہن بھائی ہی تو تھے۔ میں کالچ میں پڑھتا تھا اور بہن آٹھویں جماعت میں۔ آسو کیا ہوتے ہیں؟ ٓٓہیں کسے کہتے ہیں؟ درد کیسا ہوتا ہے؟ تکلیف کیسے سہتے ہیں؟ مجھے معلوم نہی تھا کہ ایک دن ابا مال خریدنے بڑے بازار گئے اور پھر واپس نہ آئے۔ جیگتے جاگتے ابا کے بدلے دو لاکھ اور جسم کے کچھ چیھتڑے واپس آئے جو دفنا دئے گئے۔ بم دھماکے نے نجانے کتنے گھر اجاڑ دئیے تھے۔ نجانے کتنی سہاگنوں کو بیوگی کی چادر اوڑھا دی تھی۔ کتنی بہنوں کی آس آنسوؐں میں بدل دی گئی اور ہماری طرح کتنے بچے یتیم ہو گئے،
وقت کب رکتا ہے بلکہ انسان کا زور اگر کسی شے پر نہی تو یہ وقت ہی ہے ورنہ اپنے سے کمزور، ناتواں اور لاچار کو تو یہ انسان قدموں تلے روند دیتا ہے۔ باپ کی موجودگی میں دنیا پھولوں کا مسکن تھی سکون ہی سکون تھی مگر باپ کا سایہ سر سے اٹھتے ہی عزاب ہو گئی۔ سیاہ رات کے بادل فقط آنسو برسانے لگے۔ یکدم تایا اجنبی ہو گئے۔ چالیسواں ہوتے ہی اماں کو گھر بدر کا حکم مل گیا۔ میں نے بات کرنے کی کوشش کی تو گھر کے کاغذات کی کاپیاں میرے منہ پر مار دی گئیں۔ دونوں بڑے چچازاد نے اسے بدتمیزی گردانا اور میری درگت بنا ڈالی۔ اماں نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور گھر چھوڑنے کا عندیہ دیا تو مجھے چھوڑا گیا۔ جو لوگ اتنی جلدی گھر کے کاغذات بدلوا سکتے تھے وہ مجھے مروا یا پکڑوا بھی سکتے تھے۔ بس یہی خوف تھا جو ماں نے مجھے اپنی قسم دے کر چپ کروا دیا اور ہم خاموشی سے اجڑ گئے۔
حالات اچھے تھے تو بہت سارے اپنے تھے حالات بگڑے تو اپنے بھی پرائے ہو گئے۔ ابا قرضدار نکل آئے۔ ان کی وفات پر ملنے والے دو لاکھ اور اماں کا زیور بیچ قرض اتارے اور میں نے دکان سنبھال لی۔ تجربہ نہ ہونے کی بنا پر پہلے دو سال تو کسمپرسی میں گزر گئے پھر آہستہ آہستہ گھر کا خرچہ، مکان کا کرایہ اور دوسرے اخراجات کا جن بوتل میں قید ہونے لگا۔ حالات ابھی سنبھلنے بھی نہ پائے تھے کہ ماں نے شادی کی رٹ لگا دی۔ کچھ ماں کا اصرا ، کچھ جسمانی تقاضوں کا شور میں نے سادگی سے شادی کا عندیہ دے دیا۔ شادی تو ہو گئی مگر سہاگ رات کا سرور سادگی کے قرضوں کی نظر ہو گیا۔ زینت کا ساتھ خوشی کے ساتھ پریشانیوں سے بھی مزین تھا۔ یعض اوقات انسان کتنا مجبور ہو جاتا ہے سوچتا کچھ ہے، چاہتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے۔ گھر میں ایک اور کے اضافے نے اخراجات بڑھا دئیے جس سے زندہ رہنے کی چنگ اور زوروں سے شروع ہوگئی۔ انہی حالات میں میں گھر میں پہلی بیٹی فرحت، پھر دوسری بیٹی راحت اور ایک بیٹے ثنااللہ کا اضافہ ہو چکا تھا معلوم ہی نہ ہو سکا کہ سات سال گزر گئے،
زندگی واپس اپنی ڈگر پر آنے لگی تھی۔ صبح اٹھتے ہی فرحت کے پیار، راحت کے نخروں اور ثنااللہ کی قلقاریوں نے زخم مندمل کرنا شروع کر دئے تھے۔ دن دکان پر نکل جاتا، شام ماں کی دعاوؐں بہن کی محبت اور بچوں سے خوشگوار ہو جاتا اور رات زینت کے پہلو نشین رہنا اچھا لگتا تھا۔ مگر خوشیاں کب کسی گھر میں مستقل قیام کرتی ہیں۔ ہمیشہ درد و غم ہی بن بلائے مہمان بنے رہتے ہیں۔ کوئی مہینہ پہلے کی بات ہے ایک وکیل کو الیکٹرک کا سامان مہیا گیا گفتگو کے دوران ابا کے مکان کا ذکر نکل آیا کہ ہمارا انصاف کا نظٓم کیسا ہے۔ وکیل نے حوصلہ دیا کہ یوں تو ایسے مقدمات ساری زندگی چلتے رہتے ہیں لیکن اگر کچھ رقم لگا دی جائے تو کام بن جاتا ہے اور یقینا اس گھر میں تمہارا حصہ بنتا ہے کوشش کرو کسی طرح پانچ لاکھ کا بندوبست کر لو۔ زہن میں امید جاگی کہ ہم اپنا گھر حاصل کر سکتے ہیں۔ میں نے کیس داخل کرنے کی اجازت دے دی۔ ادھر بہن کے رشتہ کے لئے ماں نے ہاں کر دی اس کی شادی کا بندوبست کرنا میرے لئے زیادہ اہم تھا۔ کم از کم دو چار لاکھ روپئے تو اس کے لئے بھی درکار ہونگیں۔ میں اسی ششو پنچ میں تھا کہ وکیل کو منع کر دوں کسی نہ کسی طرح پہلے بہن کی شادی کروں جس نے ہمیشہ مجھے باپ سمجھا۔ کچھ سمجھ نہی آ رہی تھی۔ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ساری رات آنکھوں میں کٹ گئی۔باہر برسات ہوتی رہی اور میرے اندر آنسووں کی بارش۔ ادھر صبح کی اذان سنائی دی اور ادھر فون کی گھنٹی بجی۔ اس وقت کس کا فون ہو سکتا ہے؟ خدا خیر کرے؟
مارکیٹ کی یونین کے چئیرمین دولت خان کا فون تھا۔ “یارا عبداللہ! بری خبر ہے۔ بارش کے پانی سے سپارک ہوا اور کئی دکانیں جل گئیں ہیں جس میں تمہاری دکان بھی ہے”۔ یہ چند لفظ سنتے ہی جیسے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ماوؐف زہن سے لبوں تک ایک ہی صدا بلند ہوئی یا خدایا! دو ہفتے ایسے گزرے کہ ہر لمحہ اذیت ناک بن گیا۔ کس کس کے آگے ہاتھ نہی پھیلائے مگر لگتا تھا ہر شخص کی دکان جل گئی ہو۔ کس کس کے آگے نہی گرگڑایا مگر بے سود۔ کتنے طویل سجدے کئے مگر سب بیکار۔کبھی ماں کے سفید بالوں سے خون رستا دیکھا اور کبھی زینت کے چہرے پر بیوگی کا استعارہ۔ کبھی بہن کے ارمانوں کا جنازہ اٹھتے دیکھا تو کبھی بچوں کی معصومت کو غربت کے ناگ سے ڈستے ہوئے۔ سوچیں انگارے بن کر جسم کو ڈس رہی تھیں۔ ایک ایک لمحہ اذیت ناک بنتا جا رہا تھا۔ پڑھا لکھا تو تھا نہی چھوٹی موٹی نوکری ملنا بھی محال ہو گیا تھا۔ اگر ایسے ہی کوئی کام نہ ملا تو یقینا بات فاقوں تک پہنچ جائے گی۔ گھر کا ہر فرد حیران نگاہوں سے مجھے دیکھتا تھا۔ چھوٹی موٹی اشیا بکنے لگی تھی۔دل چاہتا تھا سب کچھ ختم ہو جائے زندگی تمام ہو جائے کہ ٹی وی دیکھتے ہوئے ایک خبر نے مجھے چونکا دیا۔ بارش کی زیادتی سے ایک گھر کی دیوار گرنے سے ایک بچی وفات پا گئی تھی۔ مقتدر اعلی سیلاب سے گزر کر ان کے گھر گئے سارا کا سارا میڈیا ان کے ارد گرد تھا۔ ہر چینل ایک ہی خبر دے رہا تھا کہ حکومت نے دس لاکھ کا چیک اس غریب خاندان کو دیا۔
بح اٹھا تو میں سب کچھ سوچ چکا تھا۔ میرا اچھا برتاوؐ دیکھ کر سب خوش تھے۔ “آج فرحت کو سکول کے لئے تیار کر دینا بہت چھٹیاں ہو گئیں” میں نے آنکھیں چراتے ہوئے زینت سے کہا۔ “اور ہاں آج میں نوکری ڈونڈ کر ہی آؐوں گا” میں نے چہرے پر جھوٹی مسکان سجاتے ہوئے ماں کے ہوتھوں پر بوسہ دیا۔ فرحت بہت خوش تھی۔ اسے سکون جانا ہمیشہ بہت اچھا لگتا تھا۔ اس نے آ کر میرے گلے میں بانہیں ڈال کر میرے گالوں پر پیار کر کے بولی “بابا بہت اچھے ہیں۔ ہیں نا اماں” ماں کی طرف دیکھتے ہوئے معصومت مسکرائی۔ میں نے سائیکل نکالی۔ فرحت کا سکول بیگ ہینڈل پر لٹکایا اور گھر سے نکل گیا۔ اب مجھے چار پانچ گھنٹے کہیں گزارنے تھے۔ میں نے فرحت کے سر کو چوما اور جب اسے یہ بتایا کہ پہلے ہم چڑیا گھر جائے گے تو پہلے تو وہ بہت خوش ہوئی پھر اداس ہو گئی۔ “ٹیچر ناراض ہوتی ہے لیٹ جانے پر” اس نے بہت ارمان سے کہا۔ “کچھ نہی کہے گی ٹیچر۔ میں ہوں نا” یہ کہتے ہوئے سائیکل کا رخ میں نے چڑیا گھر کی طرف موڑ دیا۔ چڑیا گھر میں فرحت زیادہ خوش نہی تھی۔ “ میرے بچے کو پسند نہی آیا چڑیا گھر” میں نے اسے سینے سے لگاتے ہوئے پوچھا۔ “نہی بابا!” وہ چند لمحے رکی اور پھر بولی “ ہوم ورک نہی کیا نا۔ مجھے سکول کا اتنا کام کرنا ہے۔ ٹیچر ناراض ہو گی” اس نے بیگ کھولتے ہوئے کہا۔ فٹ پاتھ کے قریپ ایک دال بیچنے والا بیٹھا تھا اس نے سنا تو وہ مجھ سے بولا۔ بچی کو ادھر فوم پر بٹھا دو، اللہ اس کے علم کی دولت میں اضافہ کرے” اور اٹھ کر قریپ ہی بیٹھ گیا۔ میں نے ایسے میں اس کی تصویر بنا لی کیونکہ مجھے ایسی ہی کسی ٹصویر کی ضروت تھی۔
مجھے شام ہونے کا انتظار تھا۔ شام ہوتے ہی میں نے گھر کا رخ کیا۔ گھر کے باہر لوگ جمع تھے سب کچھ میرے منصوبے کے مطابق ہو رہا تھا۔ محلے والوں کےدرمیان راستہ بناتے میں گھر میں داخل ہوا تو صحن میں چارپائی پر فرحت کی لاش پڑی تھی۔ زینت لاش سے اٹھ کر بھاگتی ہوئی مجھ سے لپٹ گئی۔ اس کے بین مجھے ڈگمگا رہے تھے : کدھر تھے فون بھی بند ہے آپ کا۔ ٓاپ کی لاڈو چلی گئی” اس نے دھاڑیں مارتے ہوئے کہا۔ “اوہ فون کی بیٹری ختم ہو گئی تھی”” میں نے رونے کی اداکاری کرنے لگا۔ “وہ صاحب لائے ہیں اس کیا لاش۔ سکول کی کاپی پر ایڈریس دیکھ کر “۔ “ہائے میری بچی کو اغوا کر کے کسی نے مار ڈالا” میں منہ پر تھپڑ مارتے ہوئے چیخا۔ سامنے والے کا فون لے کر میں نے چینل والوں کو فون کر دیاجو مجھے دلاسہ دے رہا تھا۔ پولیس کے پہننچنے سے پہلے چینل والے موجود تھے۔ اپنے فون کو چارج کر کے میں نے فرحت کی تصویر بھی انہیں دے دی اور میں اعلی عیہددار کا انتظار کرنے لگا جو آ کر ایک بڑی رقم کا اعلان کرے گا۔ ہر چینل پر فرحت کی سکول کی کاپیوں پر کام کرتے ہوئے تصویر بار بار دکھائی جا رہی تھی۔ فرحت جو میری جان تھی میرا خون تھی ۔ میں نے سوچا تھا کہ اگر ایک کے مر جانے سے حالات ٹھیک ہو سکتے ہیں تو سب کیوں مریں۔
آج جیل کی کوٹھری میں موت کی دعائیں مانگتے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ قصور کس کا ہے، تقدیر کا، لالچ کا، میڈیا کا یا میرے ہونے کا، -
رکشہ کہانی نمبر۴، نیکی
ٍ
بخشو نے پانی کی بوتل کو منہ لگایا اور گٹا گٹ کئی گھونٹ پی گیا۔ نام تو ااس کا اللہ بخش تھا لیکن بخشو کے نام سے جانا جاتا تھا، آج گرمی کافی زیادہ تھی۔ لو چل رہی تھی اس لئے وہ بچیوں کو لینے جلدی پہنچ گیا تھا۔ اس نے رکشہ سے اتر کر طائرانہ نگاہوں سے پارکنگ میں نگاہ دوڑائی اور ایسی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں چھاوؐں ہو۔ اس وقت پارکنگ خالی تھی۔ “ابھی سکول میں چھٹی ہو جائے گی تو کچھ دیر کو یہاں تل دھرنے کو جگہ نہ ہو گی” شہادت کی انگلی سے ماتھے کا پسینہ جھٹکے سے زمین ببوس کرتے ہوئے اس نے سوچا۔ بائیں طرف اسے اونچی دیوار کا سایہ نظر ٓایا۔ اس نے رکشہ چھاوؐں میں کھڑا کیا اور رکشہ کے پچھلے حصے سے کاندھے جوڑ کر آنکھیں موند لی۔ ایک سکون کی لہر اس کے اندر سرایت کر گئی۔ بعض اوقات زندگی میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں کہ لگتا ہے کہ اب سکون ہی سکون ہو گا مگر عموما اسیے لمحوں کے بعد ہی پریشانیوں کا آتش فشاں پھٹ جاتا ہے۔
پندرہ سال ہو گئے تھے بچیوں کو سکول چھوڑتے ہوئے۔ ابھی کل کی بات لگتی ہے۔ سرکاری محکمے میں چپراسی کی نوکری کرتے ہوئے گھر کا خرچہ چلانا مشکل تھا۔ ایک غربت اس پر سات بچوں کا ساتھ۔ جب بقایا جات حاصل کر کے نوکری چھوڑنے کی بات چلی تو تو جیسے یہ بخشو کے دل میں تھا۔ صاحب لوگوں کی گالیاں سن سن کر بخشو بھول ہی گیا تھا کہ وہ بھی ایک عزت دار انسان ہے۔ اس نے فورا درخواست دے دی۔ درخواست منظور ہو گئی۔ اس نے کچے کمرے کو پکا کروایا۔ ایک رکشہ خریدا اور دن گزرنے لگے۔ شروع شروع میں کچھ دقت ہوئی پھر سکول اور اکیڈمی لگا لی۔ بڑے خرچے اس سے نکل آتے تھے اور کچھ دیہاڑی لگا کر دن کا خرچہ نکال لیتا تھا۔ اس کی سوچ بھی آہستہ آہستہ رکشہ والوں جیسی ہو گئی تھی کہ دن کا خرچہ پورا ہوا اور گھر کا رخ کیا۔ بچے بڑے ہو گئے تھے بیٹیاں سمندر کے بہاؐو کی سی تیزی سے بڑی ہو چکی تھی۔ بیٹیوں کا خیال آتے ہی باپ کا دل محبت سے لبریز ہو جاتا ہے مگر ساتھ ہی ان کی شادیوں کی فکر اور جدائی آنکھ میں آنسو بھر دیتی ہے۔ بخشو انہی خیالوں میں تھا کہ گاڑی کی بریک لگنے کی زوردار آواز سنائی دی۔ بخشو نے یکدم آنکھیں کھول دی۔
آنکھیں صرف کھلی ہی نہی بلکہ حیرانگی سے پھیل گئیں۔ گاڑی کی فرنٹ سیٹ سے زرمینہ اتر رہی تھی۔ زرمینہ گاڑی سے اترتے ہی سکول کا دروازہ عبور کر گئی۔ گاڑی ایک نوجوان لڑکا چلا رہا تھا۔ بخشو صرف یہ ہی دیکھ سکا کہ اس نے پونی میں بال باندھ رکھے تھے کیونکہ گاڑی گھوم کر واپسی کے لیے مڑ چکی تھی۔بخشو تین لڑکیوں کو سکول لاتا تھا ایک لڑکی کچھ مہینے پہلے آنا شروع ہوئی تھی اور دو پندرہ سالوں سے آ رہی تھیں تینوں بخشو کے لیے بیٹیوں کی طرح تھیں۔ پچھلے پندرہ سالوں میں بخشو ان کے لئے باپ جیسا ہی تھا بچپن کی شرارتوں سے لے کر عزت و احترام تک بخشو نے کئی پل ان کے ساتھ گزارے تھے۔ان کے والدین، قریبی عزیز رشتہ دار اور بچیوں کی زیادہ تر سہیلیوں کے بارے میں کافی معلومات تھیں لیکن گاڑی والے کو وہ نہی جانتا تھا۔
سکول میں چھٹی ہوئی تو تینوں لڑکیاں زرمینہ سمیت یکے بعد دیگرے آ کر سلام کے بعد رکشہ میں بیٹھ گئیں۔ زرمینہ سر جھکائے اپنے موبائل میں مصروف تھی۔ “نہی ! نہی میں غلط سوچ رہا ہوں” بخشو نے رکشہ سٹارٹ کرتے ہوئے سوچا۔بخشو کے دل میں عجیب و غریب خیالات آ رہے تھے۔ وہ زرمینہ کو بیٹی کی طرح سمجھ کر گھبرا رہا تھا۔ خود کو سوچنے سے منع کر رہا تھا۔ ہو سکتا یے سکول کے کام سے گئی ہو۔ لیکن وہ لڑکا واپس کیوں چلا گیا۔ بخشو کا زہن سوال و جواب سے لڑ رہا تھا کہ اسے راحیلہ کی آواز سنائی دی “زرمینہ۔۔۔ زرمینہ آج کل موبائل ہم سے اچھا ہو گیا ہے۔ “ارے نہی بس وہ” زرمینہ نے جھینپتے ہوئے کہا۔ “آج تو ایک بھی پیرئیڈ فری نہی تھی اس لیے تھوڑا تھک گئی ہوں” زرمینہ نے موبائل کو بیگ میں رکھتے ہوئے کہا۔ بخشو کے دل میں شک کے ناگ پھن پھیلا چکے تھے۔ شک بھی کیسا عمل ہے زہن تیز اور سوچ تیز ترین ہو جاتی ہے اور جب بات عزت کی ہو افسوس کے سنبوئیے ڈسنے لگتے ہیں اور بخشو کے ساتھ یہی سب گزر رہا تھا۔
بخشو کو ساری رات نیند نہی آئی کبھی اپنی بیٹیوں کو دیکھتا کبھی زرمینہ کے بارے میں سوچتا۔ اسے ایسا ہی لگ رہا تھا زرمینہ اس کی بیٹی ہی تو ہے۔ نا معلوم کب سے یہ سب چل رہا ہے۔ نہی مجھے اس کے والدیں کو بتانا چاہیے۔ نہی کوئی بات کرنے سے پہلے مجھے کنفرم کرنا چاہئے ایسا نہ ہو کچھ غلط ہو جائے ایسی کوئی بات ہو ہی نا۔ مگر زرمینہ نے سہیلیوں سے جھوٹ کیوں بولا۔اگلے دو دن بخشو جلدی پہنچ جاتا وقت سے بیت پیلے مگر زرمینہ چھٹی کے وقت ہی سکول سے نکلی۔ بخشو نے سکون کا سانس لیا شکر ادا کیا کہ ایسی کوئی بات نہی تھی۔ خود لو لعنت ملامت کرتا رہا کہ اس نے بیٹی پر شک کیا۔ چند دن خاموشی سے گزر گئے۔ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ ایک دن دونوں لڑگیاں چھٹی کے بعد آ گئیں مگر زرمینہ نہ آئی۔ صبح وہ ان کے ساتھ آئی تھی اور کبھی اس کے والدین چھٹی سے پہلے لے جاتے تو فون کر دیا کرتے تھے۔ آج کوئی فون نہی آیا تھا۔ اب تو زرمینہ کے پاس بھی فون تھا لیکن اس نے بھی نہی کیا تھا۔ پارکنگ چھٹی کے دس منٹ کے اندر ہی خالی ہو گئی تھی۔ بخشو کے پاس موبائل نہی تھا جس میں زرمینہ کے گھر کے نمبر تھے۔ راحیلہ زرمینہ کا نمبر ملا رہی تھی مگر بند جا رہا تھا۔ دوسری لڑکی سکول سے ہو آئی تھی اندر بھی نہی تھی۔
بخشو نے رکشہ سٹارٹ کیا ہی تھی کہ وہی گاڑی سکول کے دروازے سے تھوڑی دور تیزی سے آ کر رکی۔ زرمینہ گھبرائی ہوئی نظرئں چراتی رکشہ میں آٓ کر بیٹھ گئی، “گزن ہے مییرا” گھبرائے ہوئےہی اس نے سانس درست کرنے ہوئے کہا۔باقی دونوں لڑکیاں آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرنے لگیں۔ بخشو کی سمجھ میں کچھ نہی آ رہا تھا۔ “بیٹا کہاں گئی تھی؟” بخشو نے پیچھے مڑ کر پوچھا اسی اثنا میں گاڑی واپس جا چکی تھی۔ “اپ ا[نے کام سے کام رکھیں” زرمینہ نے تحکم سے کہا۔ بخشو سر جھکا کر رکشہ چلانے لگا مگر دل غصے اور پریشانی سے لبریز تھا اسے ایسا ہی لگ رہا تھا کہ اس نے اپنی بیٹی ہی کو کسی غیر مرد کے ساتھ دیکھا دو آنسو اس کے گالوں سے پھسل کر گم ہو گئے۔
صبح اٹھ کر وہ ایک فیصلہ کر چکا تھا زرمینہ کے والدین کو سب کچھ آگاہ کرنے کا۔ دروازہ بجانے پر زرمینہ کا چھوٹا بھائی آیا۔ “خان صاحب ہیں، مجھے ملنا ہے” بخشو نے کانپتے دل سے کہا۔ لڑکا اسے “بیٹھک” میں بٹھا کر خود اندر چلا گیا۔ ابھی ایک منٹ ہی گزرا تھا کہ اندر سے زرمینہ کے رونے کی آواز بضشو کے کانوں سے ٹکرائی۔ چند لمحوں میں زرمینہ کے ابا، ماموں اور بھائی غصے سے کمرے میں داخل ہوئے۔ان کے پیچھے زرمینہ ماں کے ساتھ آنسو بہاتی داخل ہوئی، “یہ کہ رہے تھے میں نے کچھ بتایا تو مجھے بدنام کر دیں گے” زرمینہ نے روتے ہوئے کہا “زرمینہ نے کل بھی بتایا تھا کہ اس نے الٹی سیدھی حرکت کی تھی۔ “ نے غیرت، بچیوں جیسی ہے تیرے لئے” ماں نے دھاڑتے ہوئے کہا بخشو حیران و پریشان تھا وہ تو نیکی کرنے آیا تھا اس کی سمجھ میں کچھ نہی آ رہا تھا۔ اس نے بات کرنے کی بہت کوشش کی مگر اسے اس کا موقع ہی نہ ملا۔ بخشو کی آنکھ کھلی تو وہ اپنی پامال عزت کے ستھ ہسپتال کے بستر پر دراز تھا”۔