Blog

  • آگئی بنتِ علیؑ بے ردا ہاتھ بندھے بھرے بازاروں میں
    جس نے سورج نہ کبھی دیکھا تھا رو رہی ہے وہ گناہگاروں میں

    کون جانے کہ یہ ہیں کون رسن پہنے ہوئے بے ردا روتی ہے سجادؑ کے پیچھے چھپ کے
    سسکیاں ڈوبی ہیں جِس بی بی کی ہائے زنجیر کی جھنکاروں میں

    ہائے زہراؑ تیری قسمت نہ ملا حق تجھ کو ایسی تعظیم تیری کی ہے مسلمانوں نے
    تیرا حق مانگنے آئی زینبؑ ایک مے نوش کے درباروں میں

    کہاں زینبؑ اور کہاں شام میں لوگوں کا ہجوم سر برہنہ اُونچی آواز میں خطبے پڑھنا
    ذکرِ مرسل کا حوالہ دے کر چادریں مانگنا بدکاروں میں

    آگ خیموں کو لگی اور تھے سجادؑ بے ہوش رو رو عبّاس کو دیتی تھی صدائیں زینبؑ
    لُوٹ لو چادریں سیدانیوںؑ کی شور برپا تھا ستمگاروں میں

    کِس طرح بالی سکینہؑ آج بابا کے بغیر سوگئی چین سے تنہائی میں روتے روتے
    ہچکیاں دب گئیں معصومہؑ کی ہائے زندان کی دیواروں میں

    جِس جگہ مجلسِ شبیرؑ ہو برپا اختر چھوڑ کر بقیہ وہاں روتی ہے زہراؑ آ کے
    بال کھولے ہوئے سر پیٹتی ہے اپنے پیاروں کے عزاداروں میں

    شاعر و سوز: اختر حسین اختر

  • ایسے بے شرم عاشق

    ایسے بے شرم عاشق

    ایسے بے شرم عاشق

    ایسے بے شرم عاشق ہیں یہ آج كے
    ایسے بے شرم عاشق ہیں یہ آج كے
    ان کو اپنا بنانا غضب ہو گیا
    دھیرے دھیرے کلائی لگے تھامنے
    دھیرے دھیرے کلائی لگے تھامنے

    ان کو انگلی تھمانا غضب ہو گیا

    جو گھر میں سل پہ مسالہ تلک نہ پیس سکیں
    اُنہیں یہ ناز ہمیں خاک میں ملائیں گے
    کلائی دیکھو تو چوڑی کا بوجھ سہ نہ سکے
    اُس اس پہ دعویٰ كہ تلوار ہَم اٹھائیں گے
    فریپ و مگر میں انکا نہیں کوئی ثانی
    یہ جس کو ڈس لیں وہ مانگے نہ عمر بھر پانی
    بڑا عزیب دستور انکی محفل کا
    بلایا جاتا ہے عزت بڑھائی جاتی ہے
    پِھر اسکے بَعْد وہیں قتل کرکے عاشق کو
    بڑی دھوم سے میّت اٹھائی جاتی ہے
    خطا ہماری ہے جو ہم نے ان سے پیار کیا
    برا کیا جو حسینوں پہ اعتبار کیا
    بھول ہم سے ہوئی ان کے عاشق بنیں
    بھول ہم سے ہوئی ان کے عاشق بنیں
    پاس ان کو بُلانا غضب ہو گیا
    ٹھوکروں میں تھے جب تک تو سیدھے تھے یہ
    ٹھوکروں میں تھے جب تک تو سیدھے تھے یہ

    ارے ان کو سَر پہ بیتھانا غضب ہو گیا

    ہَم عورتوں کو نظر سے اتارنے والوں
    خبر بھی ہے تمہیں شیخی بگھاڑنے والوں
    كہ اِس زمین پہ پتنی بھی اک ععورت ہے
    كہ جس میں مرد کو للکارنے کی ہمت ہے
    پہن كے سَر پہ دلیری کا تاز بیٹھی ہے
    جو گھر میں تھی وہ سنگھاسن پہ آج بیٹھی ہے
    اگر جھکے تو یہ دِل کیا ہے جان بھی دے دے
    جو سَر اٹھائے تو مردوں کی جان بھی لے لے
    اگرچہ پھول کا اک ہار ہے یہی عورت
    جو ضد پہ آئے تو تلوار ہے یہی عورت
    یہ پتلی بنکے زمانے کو موڑ سکتی ہے
    اٹھے تو مرد کا پنجہ مروڑ سکتی ہے
    تیری ہمت پہ پتلی ہمیں ناز ہے
    تیری ہمت پہ پتلی ہمیں ناز ہے

    تیرا میدان میں آنا غضب ہو گیا

    اک دن بولے فرشتے کر كے یہ دُنیا کی سیر
    یا خدا دُنیا تیری سونی ہے عورت كے بغیر
    اٹھ پڑے حكمت دکھانے كے لیے قدرت كے ہاتھ
    سوچ لی مولا نے عورت کو جنم دینے کی بات
    اِس طرح مالک نے کی کاریگری کی ابتدا
    چاند سے مانگا اجالا نور سورج سے لیا
    روپ سیاروں سے مانگا رنگ اوشا سے لیا
    پنگھریوں سے لی نزاکت اور کلیوں سے ادا
    شام سے کاجل لیا اور صبح سے غازہ لیا
    بجلیوں سے قہر مانگا آگ سے غصہ لیا
    حوصلہ چٹان سے اور درد پنچھی سے لیا
    آسْمان سے ظلم مانگا صبر دھرتی سے لیا
    شاخ سے انگڑائیاں جھرنوں سے اٹھلانا لیا
    بلبلے سے نازکی لی ندی سے بل کھانا لیا
    آئینہ سے حیرت لی تصویر سے خاموشیاں
    لہر سے اٹھکیلیاں مانگی پون سے شوخیاں
    اآنکھ لی ہرنی سے اور شبنم سے آنسوں لے لیا
    بادلوں سے زلف نظاروں سے جادو لے لیا
    لاجوانتی سے شرم اور رات رانی سے حیا
    آبرو موتی سے لی سورج مکھی سے لی وفا
    زہر ناگن سے لیا اور سانپ سے ڈسنا لیا
    کاتنا بیچحو سے مانگا تیر سے چھبنا لیا
    لومڑی سے مانگ لی تا عمر کی مکاریان
    مکھیون سے شور اور مچھر سے لی عییاریاں
    اتنی چیزیں جمع ہوکے جب لگی مولا كے ہاتھ
    اور ان سب کو ملایا جب خدا نے اک ساتھ
    تب کہیں جاکر بڑی محنت سے اک مورت بنی
    دلنشیں پیکر بنا اک دلربا صورت بنی
    دیکھ کر اپنی کلاکاری کو مولا ہنس پڑا
    اور اسی انمول شائے کا نام عورت رکھ دیا
    رکھ چکا جب نام اسکے بَعْد یوں کہنے لگا
    کیا
    میں بنا کر تجھے خود پریشان ہوں
    میں بنا کر تجھے خود پریشان ہوں

    ارے تجھ کو دُنیا میں لانا غضب ہو گیا

    جب میرے مولا نے سوچا مرد کو پیدا کرے
    سب سے پہلے یہ سوال آیا كہ قدرت کیا کرے
    پتھروں سے سنگ دلی لئ اور بےرخی تقدیر سے
    قہر طوفانوں سے ماننگا اور غضب شمشیر سے
    لی گدھے سے عقل کوے سے سیانا پن لیا
    اور کچھ کتے کی ٹیڑھی دم سے ٹیڑھا پن لیا
    گھات لی بلی سے اور چوحے سے مانگا بھاگنا
    اور الو سے لیا راتوں کو اس کا جاگنا
    لے لیا طوطے سے آنکھیں پھر لینے کا چلن
    بھیڑیے كے خون پینے کا لیا دیوانہ پن
    لی گئی گرگٹ سے ہردم رنگ بدلنے کی ادا
    جس سے عورت کو دیا کرتا رہے دھوکہ صدا
    تو اسکو نافرمایناں بخشی گئیں شیطان کی
    جھوٹ بولے تاکہ یہ کھا کر قسم بھگوان کی
    لے کے مٹی میں مسالہ جب یہ ملوایا گیا
    فرق اس دم مرد کی فطرت میں یہ پایا گیا
    مرد كے پتلوں میں جس دم جان دوڑائی گئی
    اس میں عورت کی بھی تھوڑی سی ادا پائی گئی
    عورتوں میں مرد کی صورت نہیں ملتی جناب
    پر انہی مردوں میں ملتے ہیں زنانے بےحساب
    شکل مردوں کی تو عادت كے زنانے ہو گئے
    شکل مردوں کی تو عادت كے زانانی ہو گئے
    کیا خدا نے چاہا تھا اور کیا نہ جانے ہو گئے
    بن چکا جب مرد تو مولا نے میرے یوں کہاں
    کیا
    كہ اچھا خاصہ بنایا تھا میں نے اسے
    اچھا خاصہ بنایا تھا میں نے اسے

    بن گیا یہ زنانہ غضب ہو گیا

    واہ رے پتلی بائی کیا دلیری دکھائی
    تیری ہمت كے صدقے تیری جراآت كے صدقے
    اپنی شہرت کا جھنڈے تو نے دنیا میں گاڑھا
    اچجے اچھوں کو تونے ایک پل میں پچھاڑا
    تو بہادر تو نڈر عقل اور ہوش تجھ میں
    جسم عورت کا لیکر مرد کا جوش تجھ میں
    جس کو سمجھے نا کوئی وہ الٹ پھیر ہے تو
    تیری ہمت کی قسم واقعئ شیر ہے تو
    ناری ہو کر بھی تونے واہ کیا گل کھلایا
    جو نہ مردوں سے ہوا تونے وہ کر دکھایا
    تیرے اونچے ارادے تیرا ہر کام اونچا
    تونے عورت کا جگ میں کر دیا نام اونچا
    تو نے جو کچھ بھی منه سے کہاں کر دیا
    تو نے جو کچھ بھی منه سے کہاں کر دیا
    تیرا کرکے دکھانا غضب ہو گیا
    تیری ہمت پہ پتلی ہمیں ناز ہے
    تیرا میدان میں آنا غضب ہو گیا
    تیری ہمت پہ پتلی ہمیں ناز ہے

    Movie/album: Putlibai (1972)
    Singers: Rashida Khatoon, Yusuf Azad
    Song Lyricists: Zafar Gorakhpuri
    Music Composer: Jaikumar Paarte
    Music Director: Jaikumar Paarte

  • اتنا ٹوٹا ہوں کہ چُھونے سے بِکھر جاؤں گا

    اتنا ٹوٹا ہوں کہ چُھونے سے بِکھر جاؤں گا

    اتنا ٹوٹا ہوں کہ چُھونے سے بِکھر جاؤں گا
    اب اگر اور دعا دو گے تو مر جاؤں گا

    لے کے میرا پتا وقت رائیگاں نہ کرو
    میں تو بنجارا ہوں کیا جانے کہاں جاؤں گا

    اس طرف دُھند ھے، جگنو ھے نہ چراغ کوئی
    کون پہچانے کا بستی میں اگر جاؤں گا

    زندگی میں بھی مسافر ہوں تیری کشتی کا
    تو جہاں مجھ سے کہے گا میں اتر جاؤں گا

    پھول رہ جائیں گے گلدانوں میں یادوں کی نذر
    میں تو خوشبو ہوں فضاؤں میں بکھر جاؤں گا 

    محمد اشرف

  • مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے

    مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے

    مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے
    مگر ذکر شامِ الم جب بھی آیا چراغِ سحَر بجھ گیا جلتے جلتے

    انھیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا “محبت نہ کرتے
    تمھیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا؟ بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے”

    مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے
    کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دلِ سخت جاں کو مسلتے مسلتے

    بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے، حساب اپنے دل میں لگا کر تو سوچو
    قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ، ملاقات کا دن بدلتے بدلتے

    ارادہ تھا ترکِ محبت کا لیکن فریبِ تبسّم میں پھر آ گئے ہم
    ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے

    بس اب صبر کر رہروِ راہِ الفت کہ تیرے مقدر میں منزل نہیں ہے
    اِدھر سامنے سر پہ شام آ رہی ہے اُدھر تھک گئے پاؤں بھی چلتے چلتے

    وہ مہمان میرے ہوئے بھی تو کب تک، ہوئی شمع گُل اور نہ ڈوبے ستارے
    قمرؔ اس قدر ان کو جلدی تھی گھر کی کہ گھر چل دیے چاندنی ڈھلتے ڈھلتے

    استاد قمر جلالوی

  • کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے

    کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے

    کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے
    یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے
    کسی کا احسان کیوں اُٹھائیں کسی کو حالات کیوں بتاءیں
    تمھیں سے مانگیں گے تم ہی دو گے تمھارے در سے ہی لو لگی ہے
    تجلیوں کے کفیل تم ہو مرادِ قلبِ خلیل تم ہو
    خدا کی روشن دلیل تم ہو یہ سب تمہاری ہی روشنی ہے
    تمہیں ہو روحِ روانِ ہستی سکوں نظر کا دلوں کی مستی
    ہے دو جہاں کی بہار تم سے تمہیں سے پھولوں میں تازگی ہے
    شعور و فکر و نظر کے دعوے حدِ تعین سے بڑھ نہ پائے
    نہ چھو سکے اِن بلندیوں کو جہاں مقامِ محمدی ہے
    نظر نظر رحمتِ سراپا ادا ادا غیرتِ مسیحا
    ضمیرِ مردہ بھی جی اُٹھے ہیں جِدھر تمہاری نظر اُٹھی ہے
    عمل کی میرے اساس کیا ہے بجز ندامت کے پاس کیا ہے
    رہے سلامت تمہاری نسبت مرا تو اک آسرا یہی ہے
    عطا کیا مجھ کو دردِ اُلفت کہاں تھی یہ پُر خطا کی قسمت
    میں اس کرم کے کہاں تھا قابل حضور کی بندہ پروری ہے
    اُنہی کے در سے خدا ملا ہے انہیں سے اس کا پتہ چلا ہے
    وہ آئینہ جو خدا نما ہے جمالِ حسن حضور ہی ہے
    بشیر کہیے نذیر کہیے انہیں سراجِ منیر کہیے
    جو سَر بَسر ہے کلامِ ربی وہ میرے آقا کی زندگی ہے
    ثنائے محبوبِ حق کے قرہے
    ں سرورِ جاں کا یہی ہے عُنواں
    ہر ایک مستی فنا بداماں یہ کیف ہی کیفِ سرمدی ہے
    ہم اپنے اعمال جانتے ہیں ہم اپنی نسبت سے کچھ نہیں ہیں
    تمہارے در کی عظیم نسبت متاعِ عظمت بنی ہوئی ہے
    یہی ہے خالد اساسِ رحمت یہی ہے خالد بنائے عظمت
    نبی کا عرفان زندگی ہے نبی کا عرفان بندگی ہے
    خالد محمود خالد۔