Blog

  • بھکاری

    وہ بہت لڑکھڑا کر چل رہا تھا۔ اس کی ایک ٹانگ کی شلوار آدھی سے زیادہ کٹی ہوئی تھی۔ اس کی برہنہ ٹانگ ،آدھی سے زیادہ، خون سے رس رہی تھی۔ اس ٹانگ کا گوشت دیکھ کر مجھے ایسا لگا جیسے ابھی اس کے جسم سے بوٹیاں نیچے گر نے لگیں گی۔ کپڑے اس کے کپڑے جا بچا پھٹے ہوئے ، بال بکھرے ہوئے اور گرد آلود تھے۔ چہرے پرمردنی چھائی ہوئی تھی۔ شکل سے لگ رہا تھا بہت عرصے سے اس نے نہ کچھ کھایا ہے اور نہ کچھ پیا ہے <p> </p> اس کے ہاتھ میں کچھ ڈاکٹر کے نسخے تھے۔لنگڑا کر چلنے کی وجہ سے اس کا کُبّ نکلا ہوا تھا۔ وہ ایک ایک گاڑی کے پاس جا رہا تھا محسوس ہو رہا تھا کرب کی وہ اس حالت میں ہے کہ ہوا کا چھونکا بھی اسے گرا دے۔ وہ ابھی گرا کہ ابھی۔ زندگی گھسیٹ گھسیٹ کر جینے والے جانتے ہیں کہ سانس لینا کتنا مشکل کام ہے۔ میں ویگن کی کھڑکی سا سارا منظر دیکھ رہا تھا کوئی بھی گاڑی والا اپنی گاڑی کا شیشہ نیچے نہی کر رہا تھا کہ چند سکے اس کے کاسہ میں ڈال دے۔ آنسو اس کے چہرے کو بھگو رہے تھے۔ وہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر جاتا، اپنے کاغزات دکھاتا، ان پرچیوں کی حالت بھی اس کی اپنی حالت سے زیادہ اچھی نہی تھی۔ میرا دل ہمدردی سے بھر آیا میں خود ہسپتال جارہا تھا۔ میرے ہاتھ میں کھانا تھا جو مجھے ہسپتال پہنچانا تھا۔ ہائے بے چارہ کیا معلوم میں اس کی مدد کروں تو اللہ تعالی ہماری مدد کرے۔ بس یہ سوچ کر میں گاڑی سے اتر آیا جیب سے پچاس روپئے نکالے کہ اسی اثنا میں گاڑیاں چل پڑی۔ وہ شخص مجھے نظر نہ آیا۔ میں نے حیران نگاہوں سے چاروں جانب دیکھا لیکن وہ کہیں نہی تھا۔ وارث خان سٹاپ کے نزدیک ہی کچھ گلیاں اندر کی جانب جاتی ہیں میں نے سوچا شائد وہ ادھر گیا ہو گا۔ میں ادھر چل پڑا۔ وہ واقعی گلی کے کونے پر کھڑا تھا۔ میں تیز قدموں کے ساتھ اس کے قریب پیہنچا۔ وہ بلکل ٹھیک ٹھاک حالت میں فون پر کسی سے بات کر رہا تھا” حرامچادی، آج کی رات میری ہے دو سو اکٹھے کر لیئے ہیں تیری ماں کےخصم کے لئے۔ آج کسی اور کو نا گھسایو ورنہ تیزاب دال دوں گا تیرے منہ پر”

  • المیہ

    میرے ایک ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں چھوٹی چھوٹی کٹوریوں میں فیرنی ڈلی ہوئی تھی اور اس کے اوپر ایک بڑا سا رمال ڈھکنے کے لیئے دیا ہوا تھا۔ میں نے گھنٹی بجانے کے لیئے دروازہ کے دائے بائیں دیکھا، گھنٹی نہ پا کرمیں نے دروازہ بجایا۔ گھر دیکھ کر لگ رہا تھا کہ کافی عرصہ پرانا بنا ہوا ہے۔ پینٹ ہوئے جیسے صدیاں بیت گئی ہوں۔

    ابھی میرا مطالعہ گھر کے بارے میں مکمل نہی ہوا تھا کہ یکدم دروازہ کھل گیا، میرے سامنے پندرہ یاں سولہ سال کا ایک جوان کھڑا تھا، لباس سے اس کے غربت ٹپک رہی تھی اور چہرے پر معصومیت۔ ایسا لگ رہا تھا جیسےاگر  کسی جڑیاں کو پنجرے میں بند کر دیا جائے اور کافی دیر کی کوشش کے بعد وہ نڈھال ہو کر کسی کونے میں بیٹھی ہو اور دل ہی دل میں دعا کر رہی ہو، مجھے آزاد کر دو۔ نوجوان نے سوالیہ نگاہوں سے میرے جانب دیکھا پھر ٹرے کی طرف۔ یکدم اس کے چہرے پر تناؤ ختم ہوا اور آنکھوں میں ایسی چمک آ گئی جیسے ایک بچہ کی آنکھوں میں آ جاتی ہے جب وہ بھوک کے وقت اپنی ماں کو اپنے قریب دیکھتا ہے۔ میں نے اسے سلام کیا، اس کے سلام کے جواب پر میں نے کہا، مجھے ساجد کہتے ہیں ہم چار دن پہلے ہی اس محلے میں شفٹ ہوئے ہیں آج چونکہ مبارک دن تھا سوجا تھوڑی میٹھی فرنی بھی محلے میں تقسیم کر دوں اور جان پہچان بھی ہو جائے۔ میں نے رمال اٹھا کر فیرنی کی کٹوری اس کے ہاتھ میں تھمائی، ایک کٹوری دیکھ کر اس کے آنکھوں کی چمک پھر گم ہو گئی، ایسا لگا جیسے وہ چاہتا ہو ساری ٹرے اسے ہی دے دوں۔

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    وہ اندر گیا، اندر سے ایک نحیف سی آواز سنائی دی “کون تھا بیٹا”۔ نئے ہمسائے ہیں یہ تھوڑی فیرنی دی ہے انہوں نے۔ لڑکے نے جواب دیا۔

    چند لمحوں کے بعد وہ واپس آگیا، کٹوری کو واپس کرتے ہوئے بولا، جی مجھے حمید کہتے ہیں۔ ہم کافی پرانے یہاں کے رہنے والے ہیں۔ آپ کا شکریہ، آئے ایک کب چائے پیتے جائے۔ دل تو میرا بہت چاہا کہ رک جاؤں کچھ تھا اس نوجوان مٰیں، جیسے کوئی کہانی بند کتاب میں ہو، جب تک کھولی نہ جائے گی اور شروع سے آکر تک نہ پڑھا جائے گا، ایک خلش رہتی ہے ایک کسک رہتی ہے۔ لیکن چونکہ مجھے اور بھی بہت سے کام کرنے تھے اس لئے میں آگے بڑھ گیا۔

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    یہ میرے پہلی ملاقات تھی حمید سے۔

    اس کے بعد جب کبھی گلی سے گزرتے ہوئے، مسجد میں، کبھی کونے میں پرچون کی دکان میں میں نے ہمیشہ اسے جلدی میں پایا۔ سلام کا جواب دیتے ہی وہ یوں گم ہو جاتا جیسے وہ تھا ہی نہی۔ ایسا لگتا تھا جیسے اگر کچھ لیٹ ہو گیا تو کچھ نہ چکھ ہو جائے گا۔کافی دفعہ چاہا کبھی اس سے بات کروں پوچھو کہ اس چھوٹی سی عمر میں کیا روگ لگا ہوا ہے لیکن ہوا سے کون بات کر سکتا ہے، ایک لمحہ میں یہاں اور دوسرے لمحہ میں وہاں۔

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    ایک دن دروازہ کی گھنٹی بجی۔ میں نے دروازہ کھولا تو حیران رہ گیا حمید کھڑا تھا، سلام دعا کے بعد جب میں نے سوالیہ نگاہوں سے اس سے پوچھا تو روانی میں بولتا ہی چلا گیا۔ جیسے پیچھے پولیس لگی ہو۔” وہ ماں کی طبیعت خراب ہے” زرا آپ کا موٹر شائیکل چاہئے تھا، بس گھنٹے دو گھنٹےمیں واپس کر دوں گا۔  میں نے اس سے ماں کی خیریت دریافت کی، اندر گیا، موٹر شائیکل کی چابی لی اور اس کے ہاتھ میں تھما دی، کوئی مسئلہ نہی، کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتانا۔ اور وہ چلا گیا۔

      واپس آیا تو میری بیگم حیران نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی، اس سے رہا نہ گیا، یہ آپ اپنی موٹر شائیکل تو کسی کو نہی دیتے، آج سورج کدھر سے نکل آیا، دل ہی دل میں میں ہنسا اور سوجا۔۔۔کوئی موقعہ نہ جانے دینا بیگم۔۔اس کی والدہ کی طبیعت خراب تھی میں نے جواب دیا۔

    جب وہ  موٹر شائیکل دینے واپس آیا تو میں نے اسے بیٹھک میں بٹھا لیا، لیکن اسے جلدی تھی “سراسیمگی میں بولو “ماں اکیلی ہے اور بیمار بھی” مجھے چلنا چاہیئے، لیکن میں نے پھر بھی اسے جائے لے لیئے بٹھا ہی لیا۔جب میں نے اسے کریدا، اس کے حالات کے بارے میں پوچھا تو پہلے تو حیرانگی سے مجھے دیکھنے لگا اور ایسا لگا جیے کسی ہمدرد کو پا کر اس نے سارے بند توڑ دئے ہوں اس کی آنکھیں آنسوؤں سے پھر گئی، جسے اس نے پینے کی بلکل کوشش نہی کی لگا جیسے آنسوں پیتے پیتے وہ تھک گیا ہو۔ اس کی زبانی پتہ چلا کہ

    اس کی ماں کی طبیعت بہت خراب تھی، ،  اس کی ماں پستر سے لگی ہوئی ہے، چلنے پھرنے سے معزور تھی۔  یہ ایک ہی بیٹا تھا،  پاب فوج میں تھا پانچ سال پہلے ایک پم دھماکے میں مارا گیا، ماں پر فالج کا اٹیک ہوا اور پستر پہر لگ گئی، کوئی ساتھ دینے والا بھی نہی، اچھے خاصے رشتہ دار ہیں لیکن مصیبت میں کون پوچھتا ہے، جب حالات ایسے ہو جائیئں تو اپنے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں،میں سارا سارا دن  پڑھتا ہوں یاں ماں کی دیکھ بھال کرتا ہوں اور چاہتا ہوں  میٹرک میں کوئی پوزیشن لے لوں تاکہ سسکالرشپ پر آگے پڑھ سکے ۔  پنشن سے گزارہ بہت مشکل ہے۔ پڑھائی میں کہاں سے رقم لا سکتا ہوں۔ اس کی گفتگو سن کر تو میرے دل میں اداسی کی ایسے لہر جاگی کہ کئی دن میں اس کے دکھ کو محسوس کرتا رہا۔  میں نے اسے دعاوں اور نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت کیا۔ اس کے جانے کے بعد کافی دیر میں سوچتا رہا، حالات انسان سے کیا کچھ کروانے کے لیئے تیار ہو جاتے ہیں۔ کاش میں اس کی کوئی مدد کر سکتا لیکن آج کے دور میں یہ کہاں ممکن تھا زندگی کی رفتار اتنی تیز ہو گئی ہے کہ اس کا پیچھا کرنا متوسط طبقہ لے لیئے مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    کچھ دنوں کے بعد گلی بہت شوروغل کی آواز سن کر میرے بیگم نے کہا، “زرا پتہ تو کریں خیر ہو، بہت آوازیں آ رہی ہیں” سردی میں ہم سب لحافوں میں گھسے ہوئے ٹی وی پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ ایسے میں باہر نکلنا جان جوکھوں میں ڈالنا تھا، لیکن جب آوازیں بہت تیز ہو گئی تو میں باہر نکلا تو کیا دیکھا کہ حمید کے گھر سے باہر محلے والوں کا ہجوم تھا۔ فورآ میں نے سوجا شکر ہے اس کی ماں اللہ کو پیاری ہو گئی۔ اب یہ بچہ کچھ کر سکے گا۔  کیا ہوا میں نے ایک ہمسائے سے پوچھا، ہونا کیا ہے وہ ہی گیس،کی آنکھ مچولی نے ایک اور گھر کو تاک لیا ہے۔ گیس کی لوڈشیڈنگ نجانے اور کتنے گھر تباہ کرے گی۔ کبھی آ جاتی ہے کبھی ہلکی  ہو جاتی ہے، کبھی بند اور لوگو کے گھر اجار دیتی ہے۔ جب میں مکان کے اندر داخل ہوا تو ایک طرف حمید کی جھلسی ہوئی لاش اپنے خوابوں میں لپٹی پڑی تھی اور قریب ہی اس کی بوڑھی ماں زندہ لاش کی صورت ایک چارپائی پر پڑی تھی اور چند محلے کی عورتوں کے حیران اور پریشان چہرے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔  ،

  • پیارے اللہ جی

    السلام علیکم۔

    میں خیریت سے نہی ہوں۔ خیریت سے ہوتا تو شائد ہی آپ کی یاد آتی۔ امید کرتا ہوں آپ بخیریت ہونگیں۔

    دیگر احوال یہ ہے کہ برسوں بیت گئے بلکہ مجھے تو ایسا لگتا ہے صدیاں بیت گئیں آپ نے میرا حال تک نہ پوچھا۔ سنتے آئے ہیں کہ آپ شہ رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہیں مگر میرے پاس رہتے ہوئے بھی آپ نے کبھی اظہار نہی کیا۔ کیا ساری زندگی میں ہی آپ سے باتیں کرتا رہوں گا? لوگ کہتے ہیں کہ آپ ہر شے میں ہیں۔ میں ہر شے کو گھور گھور کر دیکھتا ہوں اور پھر گھبرا کر بیٹھ جاتا ہوں۔ مجھے آپ کیوں دکھائی نہی دیتے۔

    جب میں چھوٹآ تھا تو پریشان ہوتا تھا۔ آپ کو تو معلوم ہی ہو گا پریشان کیوں ہوتا تھا کیونکہ آپ تو دلوں کے بھید جانتے ہیں۔ آپ تو سب جانتے ہیں۔ کہ میں کس طرح یہ سوچتے ہوئے گھبراتا تھا کہ آپ کیسے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے ابا سے پوچھا تھا کہ ہمیں کس نے بنایا۔ سکول سے پڑھ کر آیا تھا۔ ابا نے فورا کہا “اللہ تعالی” نے۔ تبھی جب میں نے فورا پوچھا کہ اللہ تعالی کو کس نے بنایا۔ تو انہوں نے بات گول کر دی۔ تب سے لے کر اب تک میں ہر کسی سے پوچھتا ہوں لیکن کوئی جواب نہی دیتا۔ سب کہتے ہیں کہ ایسی باتیں نہی سوچتے۔ اور میں کہتا ہوں کہ سوچ میری اپنی کہاں ہے ۔ میرا تو کچھ بھی اپنا نہی۔ اس میں آپ اپنی طرف سے اضافہ کر دیں گے تو آپ کے خزانے میں کون سی کمی آئے گی۔ تو براہ مہربانی اس خط کے جواب میں میری قسمت اچھی کریں اللہ جی۔

    میرا علم مجھے اندیکھے پر یقین کرنے سے منع کرتا ہے۔ لیکن کیا انکار نہی کر سکتا کیونکہ مجھے بہت کچھ معلوم نہی تو اس کا مطلب یہ تو نہی کہ وہ ہے ہی نہی۔ آپ سے میرا پہلا تعارف تو گھر سے ہوا۔ پھر سکول سے۔ لیکن میں آپ کو کبھی نہی سمجھ سکا اور یقینا کبھی سمجھ نہی سکوں گا کیونکہ جو ادراک میں آ جائے گا وہ اللہ نہی ہو سکتا۔ پھر میں آپ سے ناراض ناراض رہنے لگا۔ میں سوچتا تھا کہ نہی کچھ نہی ہے۔ مجھے کبھی بہلایا گیا کہ دیکھو چرخہ کاٹتے کبھی دیکھا ہے۔ چرخہ کبھی خود بخود نہی چل سکتا جب تک کہ اسے چلانے والا نہ ہو۔ پھر اتنی بڑی کائنات کیسے خودبخود چل رہی ہے۔ کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے۔ وہی اللہ ہے۔ لیکن اس میں کا کیا کروں۔ حیل و حجت سے باز نہ آیا۔ پھر سمجھایا گیا۔ کہ میری حد تو یہ بھی نہی کہ میں اپنی پلکوں کو دیکھ سکوں تو اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں۔ “میں” پھر بھی باز نہ آیا۔ پھر منطق سے میری عقل کے پردے صاف کئے گئے کہ دیکھو اللہ کو مانو گے یا نہی مانو گے۔ اور اگر تم نہی مانو گے اور مرنے کے بعد وہ ہوا تو سوچو کہ انجام کیا ہو گا۔ اور اگر مانو گے اور وہ ہوا تو سوچو انجام کیا ہو گا۔ لیکن عقل تو فریب دینے میں ماہر ہے۔ وہ کیسے مان لیتی۔ ہاں میرے اندر سے یہ ضرور اواز اٹھتی ہے کہ ضرور کوئی ہے ورنہ میں جیسا چاہوں صرف ویسا ہی ہو۔ کیا یہ آپ ہوتے ہیں اللہ جی۔

    یہ “میں” ہی ہے جس نے مجھے بہت تنگ کیا ہوا ہے۔ میری آنکھیں، میری سانسیں، میری باتیں، میرا وجود اور میری سوچ کچھ بھی تو میرا نہی۔ پھر یہ میں کہاں سے آ گئی۔ آپ کہتے ہیں کہ جو مجھے مل گیا اس کا شکر ادا کروں اور جو نہی ملا اس کے بارے میں پریشان نہ ہوں۔ میرے پیارے اللہ جی کسے کروں یہ سب۔ میں کتنی قناعت کروں۔ آپ نے بھوک دی اب اس کا پالن تو کرنا پڑے گا۔ آپ نے پیاس دی اب وہ تو بچھانے پڑے گی یہی تو مشیت ہے اور لاکھ کوشش کے باوجود نہ پیٹ بھر سکا نہ پیاس بچھ سکی۔بھوک اور پیاس صرف خوفاک اور پانی کی نہی ہے اللہ جی پیاس تو ہر شے کی ہے۔ ہر شے جو مجھے اچھی لگے۔ ہر شے جو مجھے سوچنے پر مجبور کر دے۔ ہر شے جو میرے اندر سوال اٹھائے۔ “مجھے” کہتے ہوئے پھر دل گھبراتا ہے کہ میرا تو کچھ بھی نہی سب تو آپ کا ہے پھر میں کس پر غرور کروں۔ کس بات پر اکڑوں۔ نہ پیدا ہونا میری خواہش تھی نہ مرنا میری خواہش۔

    ہاں روز روز مرنا مجھے خوب آتا ہے۔ کبھی اپنی خواہشوں پر۔ کبھی اپنے سے منسلک زندہ خوابوں کے جنازوں پر۔ کبھی چلتی ہوئی امید کی چتا پر۔ کبھی دفن ہوتی آرزؤں پر۔ کبھی سوال در سوال بکھرتی اجڑتی لکیروں پر۔ خواب دیکھتے دیکھتے آنکھیں اندھی ہونے لگی ہیں۔ مگر تعبیر کہیں نظر نہی آتی۔ سب کہتے ہیں کہ اللہ کا لکھا ہے سب۔ اللہ جانتا ہے سب۔ اللہ قوت خرید سے زیادہ دکھ نہی دیتا۔ مگر یہ کیسے ہوتا ہے اللہ جی کہ میں روز ٹوٹتا ہوں روز لمحوں میں تقسیم ہوتا ہوں کہا یہ آپ ہیں جو مجھے واپس جوڑ دیتے ہیں۔ جو مجھے وقت کے سپرد کئے ہوئے ہیں بتائے نا۔ آپ نہی بتائیں گے تو کون بتائے گا۔ کس کے پاس جاؤں کس سے مدد مانگوں۔ مجھے تو آج تک تقدیر کا کھیل سمجھ نہی آیا تبھی میں ہر ناکامی اور کامیابی تقدیر کے کھاتے میں ڈال دیتا ہوں۔ یقینا آپ سب جانتے ہیں کیونکہ آپ مجھے گمراہ نہی ہونے دیتے۔

    کبھی کبھی میں سوچتا ہوں۔ آپ کی آنکھیں ہوں تو آپ کو معلوم ہو آنسو کسے کہتے ہیں۔ آپ کے کان ہوں تو آپ کو معلوم ہو درد کی آواز کیسی ہوتی ہے۔ آپ کا دل ہو تو آپ کو معلوم ہو خواب کیتے بکھرتے ہیں۔ آپ کا وجود ہو؟ بس یہاں آ کر مجھے بریک لگ جاتی ہے میں رک جاتا ہوں گھبرانے لگتا ہوں۔ کہ آپ کیسے ہیں؟ میری حد تو بس اتنی ہی ہے لیکن آپ کیسے میری حد کے اندر جلوہ فگن ہو سکتے ہیں کہ آپ تو اس سے باہر ہیں۔ مجھے آپ سے ملنے کا بہت اشتیاق ہے۔ کیا اس کے لئے واقعی مجھے قیامت کا انتظار کرنا پڑے گا۔ یا مرنا پڑے گا۔

    باتیں تو بہت سی ہیں۔ کہنے کو تو بہت کچھ ہے۔ لیکن نجانے کیوں میں آپ سے ڈرتا بھی بہت ہوں۔ بلکہ آپ نے خود ہی تو ڈرایا ہوا ہے۔ مجھے بڑا ڈر لگتا ہے جلنے سے۔ کیا اللہ جی آپ کی محبت کافی نہی اسے سے بچنے کے لئے۔ بتائے نا مجھے بچا لیں گے نا آپ۔ ہاں ایک بات تو ضرور کہوں گا مجھے اور کسی بات کا جواب دیں یا نہ دیں۔ میں جب بھی یہ سوچتا ہوں کہ آپ سے پہلے کیا تھا؟ یا مرنے کے بعد کی دنیا میں کیسا ہو گا۔ میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔ دل قابو سے باہر ہو جاتا ہے۔ میں اس لمحے میں ان سوالوں سے بھاگ جانا چاہتا ہوں۔ یہ سب کسیے کروں اللہ جی۔

    ہو سکتا ہے کہ آپ کو اس خط میں کچھ اچھا نہ لگے اسے “میری” سوچ کی کم علمی سمجھ کر درگزر کیجئے گا۔ اور جواب ضرور دیجئے گا۔

    آپ کی مخلوق میں سے ایک ادنی سا انسان

  • ایک شام کی کہانی میری زبانی

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    کل کی شام بہت عجیب تھی۔ تین گھنٹوں میں مجھے بیک وقت خوشی، پریشانی اور رنج سے گزرنا پڑا۔ جمعہ کا دن بہت مصروف ہوتا ہے۔ کیونکہ اس دن پورے ہفتہ کا کام کلائنٹ کو بھیجنا ہوتا ہے۔ تقریبا رات آٹھ بچ کر بیس منٹ پر فارغ ہوا۔ نکلنے لگا تو معلوم ہوا باہر طوفانی بارش ہو چکی ہے اور ہلکی ہلکی بارش اب بھی ہو رہی ہے۔ ملتان اور بارشیں آپ میں کوئی تعلق نہی اور اس بار تو رحمتوں کا نزول مئی میں بھی ہو رہاہے۔ بلڈنگ سے باہر نکلا تو یلکی یلکی بارش ہو رہی تھی۔ ہلکی ہلکی پھوار میں چلنا مجھے ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔ باہر کوئی رکشہ بھی نہی تھا اور موسم بھی لطف انگیز تھا سو سوچا چوک تک چلتا ہوں کوئی نہ کوئی رکشہ مل ہی جائے گا۔ پرانے گانے گنگناتے ہوئے میں خراماں خراماں چلنے لگا۔ بارش کے قطرے مجھے بھگو رہے تھے اور میں سرور میں “ملو نہ تم تو ہم گھبرائیں ملو تو آنکھ چرائیں ہمیں کیا ہو گیا ہے” گنگنا رہا تھا۔ دفتر کی بلڈنگ کے آگے ہوٹل ہے اور پھر ہزار گز کے فاصلے پر چوک۔ جب میں دو سو میٹر چوک سے پہلے پہنچا تو دیکھا وہاں تو ایک فٹ پانی جمع تھا۔ میں وہی کھڑا ہو گیا۔ نہ رکشہ نہ کوئیاور سواری۔ بہت سے موٹر سائکلوں کو روکنے کی کوشش کی۔ اشارے کئے، لیکن یہ تو وہ دور ہے کہ جب کوئی کسی کو بخار نہ دے یہ تو مدد تھی۔ آخر ناچار شلوار ٹنگ کر پانی میں اللہ کا نام لے کر چل پڑا۔
    ابھی دو چارک قدم ہی چلا تھا اور دو چار قدم ہی رہ گئے تھے کہ قریب سے گزرتی گاڑی نے گندے پانی سے غسل دے دیا۔ دل تو چاہ رہا تھا زور زور سے نرگس پر فلمایا گانا گنگناؤں لیکن اپنے سفید کپڑوں کی حالت دیکھ کر دل مسوس کر رہ گیا۔ گاڑی والے کو دو چار بے نقط سنائیں اور قدم تیز کر دئے۔ چوک پرپہنچا تو ایسا لگا جیسے کوئی احتجاج ہو رہا ہو۔ کافی لوگ دکانوں کی پرچھتی کے نیچے یوں کھڑے تھے جیسے سزا دی گئی ہو اور پورے چوک پر کوئی رکشہ نہی تھا۔ موٹر سائیکلوں اور گاڑیاں ادھر ادھر جا رہی تھیں۔ میں بھی ایک دکان کے سائے میں کھڑا ہو گیا۔ اپنی حالت دیکھی تو ایسا لگا جیسے سنی لیوں کی کسی فلم کا سین ہے۔ باقی تمام لوگ بھی ایسا ہی نظارہ پیش کر رہے تھے۔چوک پر چار راستے یہں جن میں سے دو راستوں سے میرے گھر کی جانب جایا جا سکتا ہے۔ ایک روژ پر دور دور تک دو دو فٹ پانی دکھائی دے رہا تھا۔ ادھر جانے کا تو سوال ہی پیدا نیہ ہوتا تھا۔ ملتان میں پل تو بنا دئے گئے تھے لیکن نکاسی کا نظام شائد لوگوں کی آزمائش کے لئے چھوڑ دیا گیا تھا۔ یا شائد انہوں نے سوچا ہو کہ ملتان میں بارش ہوتی ہی کہاں ہے۔
    جب بھی کوئ رکشہ آتا چھپڑوں سے لوگوں کی یلغار اس پر ٹوٹ پڑتی۔ اور رکشہ حسینہ عالم کی طرح سر بلند ایسے کھڑا ہوتا جیسے مغلیہ دور کے شہنشاہ عوام کے سامنے گھڑے ہوتے تھے ۔ کرائے آسمان چھوڑ کائنات سے باتیں کر رہے تھے۔ ہمت کر کے ایک آدھ کی طرف میں نے بھی بھاگنے کی کوشش کی لیکن ہمت مراداں شائد پروگرامنگ نے کھا لی تھی۔ سوچا ساجد حسین اس سے پہلے کہ کوئی چک شک پڑ جائے یا ٹانگ مڑ جائے عافیت اسی میں ہے کہ تماشا دیکھو تماشے کا حصہ نہ بنو۔ سوا نو بچ چکے تھے اور ہنوز بارش رکنے کا نام نہی لے رہی تھی۔ بھوک سے آنتیں قل ہو اللہ پڑھر ہی تھیں۔ کونے کھدروں کے چوہے بھی تلملا رہے تھے۔ قریب سموسوں کی خوشبو آ رہی تھی۔ دکان پر جا کر ایک سموسہ خریدا اور اکھیاں ملاؤں کبھی اکھیاں چراؤں گاتے گاتے کھانا شروع کیا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ جس طرف میں کھڑا ہوتا رکشہ کسی اور کونے میں آتا۔ میں اس طرف جاتا تو رکشہ پچھلے جگہ پر آ جاتا۔ یا اللہ کیا میرا سارا وزن آج ہی کمکرنا ہے۔ سوچتے سوچتے اور ادھر ادھر آتے جاتے ساڑھے دس بچ گئے۔
    جیب سے موبائل نکالا کیونکہ آفس نکلنے سےپہلے گھر فون کر دیتا ہوں تاکہ گھر پر چھاپے کا خطرہکم ہو جائے۔ بچے دھلے دھلائے بیٹھے ہو بیگم کھانا تیار کر چکی ہو۔ راوی چین ہی چین لکھے۔ دیر ہو جائے تو کال بیک آ جاتی تھی اور اتنی دیر گزر گئی فون کی گھنٹی نہی بچی۔ فون نکالا تو بند تھا دوبارہ آن کیا تو بیٹری لو کا مسچ دے کر بند ہو گیا۔ اوہ اللہ گھر میں اور کوئی ہو نہ ہو بیگم تو پریشان ہو گی۔ فون بھی نی مل رہا ہو گا۔ اب کیا کروں چاروں طرف نظر دورائیں کہیں پی سو او کا نشان نہ ملا۔ آخر قریب کھڑے ایک شخص سے میں نے پوچھا موبائل ہو گا آپ کے پاس ایک کال کرنی ہے۔ اس نے مجھے ایسے گھورا جیسے میں موبائل سمیت اسے بھی اغوا کر لوں گا پھر کسی اور سے کہنے کی ہمت نہی ہوئی۔ کیا کروں؟ آخر میں نے سوچا آفس واپس چلتا ہوں شائد کوئی موجود ہو تو وہاں سے فون کر لوں گا۔ پانی کا سمندر دوبارہ عبور کیا شکر ہے اس دفعہ کسی گاڑی نے غسل دوبارہ نہی کروایا۔ آفس کی بلڈنگ میں داخل ہونے لگا تو لفٹ بند۔ دس بچے لفٹ بند کر دی جاتی تھی۔ تھرڈ فلو تک سیڑھیوں سے جانا۔ تھرڈ کا مطلب بھی پانچویں منزل تک سیکورٹی گارڈ سے پوچھا میرے آفس والے چلے گئے وہ بولا کب کے۔ اس سے فون لیا۔ اور مسچ کیا گھر میں کیونکہ اس کے فون میں بھی بیلنس نہی تھا۔
    وہی بلڈنگ کے باہر کھڑا ہو گیا۔ خوشی اور پریشانی کے لمحے گزر چکے تھے۔ اب بات گانوں سے دعاؤں پر آ پہنچی تھی۔ اللہ تعالی سے جب معافی تلافی مانگ لی تو ایک رکشہ میرے قریب سے گزرا۔ آج زندگی میں پہلی بار میں نے چیخ کر رکشہ پکارا۔ دو سو روپئے میں بات طے ہوئی۔ حالانکہ 70 یا 80 میں روزآنہ جاتا ہوں۔ رکشہ چل پڑا میں دوبارہ تائپ ہو کر میٹھے میٹھے گانے گانے لگا۔ بارش اچھی لگنے لگی تھی۔ موسم عاشقانہ محسوس ہو رہاتھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رکشہ اتنی دیر میں گھننٹہ گھر پہنچ چکا تھا۔ گھنٹہ گھر سے نو نمبر کی طرف جب رکشہ مڑا تو آگے پانی ہی پانی تھا۔ ایک فٹ سے زیادہ ہی تھا کیونکہ رکشہ کے ٹائڑ سے اوپر تھا۔ رکشہ والے نے رکشہ روک دیا۔ میں نے اس سے کہا 250 لے لیین اور وہ راضی ہو گیا۔ رکشہ آہستہ آہستہ چلنے لگا کہ اچانک کسی آدمی کے چیخنے چلانے کی آؤاز نے مجھے چونکا دیا۔ رکشہ رک گیا اور میرے سامنے ایک بیل گاڑی لکڑیوں سمیت گڑی ہوئی تھی۔ گاڑی کا اگلا حصہ نے بیل کو پھانسی سی دی ہوئی تھی۔ بیل گڑگڑا رہا تھا بیل والا چیخ چیخ کر لکڑی کو بھینس کی گردن سے جدا کرنے کی کوشش کر رہا تھا کچھ لوگ ادھر ادھر سے اکٹھے ہو کر اس کی مدد کرنے لگے۔ گاڑی تو اٹھ گئی لیکن بیل۔ اس کی آنکھیں ابل گئی تھیں اس کی موت دیکھ کر مجھے سکتہ سا ہوگیا کسی جانور کو اپنے سامنے مرتے دیکھنا میرے لئے پہلا واقعہ تھا۔ لمحہ لمحہ موت کسی ہوتی ہے۔ یا اللہ معاف کر دے۔ اس رنچ کی کیفیت میں میں کیسے گھر پہنچا یہ میں ہیجانتا ہوں۔ زی روح کیا شے ہے۔ چند سیکنڈ بھی نہی لگتے پھر وہ کس لئے دولت کے محل بناتا ہے۔ لالچ میں اس حد سے گزر جاتا ہے کہ سگے رشتوں کی گردن زنی سے باز نہی آتا۔

  • عمل شیطان

    رات کے دس بجے تھے۔ میں اپنے کمرے میں دکھ کی چادر اوڑھے اداسی کی شاہراہوں پر محبت کے آنسو بہا رہا تھا۔ میرا ہم حجرہ بے سدھ سو رہا تھا۔ اسے سونا ہی چاہئے تھا کیونکہ وہ کون سا محبت میں ہارا ہوا شخص تھا۔ اس کے دل پر کون سے درد و غم کے پہاڑ ٹوٹے تھے۔ آج معلوم ہو رہا تھا کہ جس تن لاگے وہ تن جانے کا مطلب کیا ہے۔ دل کے زخم کسے کہتے ہیں۔ بغیر کسی ظاہری چوٹ کے دل خون کے آنسو کیسے روتا ہے۔ آج آنسوؤں کی ایسی جھڑی لگی تھی کہ میری شرٹ کے کالر تک بھیگ گئے تھے۔ مجھے زندہ رہنے کا کوئی حق نہی۔ میں فریحہ کے بغیر کیسے رہ سکتا ہوں۔ میری سانوں کی ڈور تو اس کی مسکراہٹ سے بندھی ہے۔ اور کیا میں اس کی مسکراہٹ کبھی نہی دیکھ سکوں گا۔ زندہ لاش بن کر رہتے کا تصور ہی بڑا جان لیوا تھا۔ جتنا میں اسے بھولنے کی کوشش کر رہا تھا یاد کے سنپولئے اتنا زیادہ مجھے ڈس رہے تھے۔ زندہ لاش بن کر رہنے سے بہتر ہے مجھے مر جانا چاہئے۔ نہی میں اس کے بغیر نہی رہ سکتا۔ نہی رہ سکتا۔ میں نے منہ پر پڑی چادر اتار پھینگی۔ اندھیرے ناگ زندگی کو زہر آلود کرنے لگے۔ اور میں سوچنے لگا کہ کیسے مرا جائے۔ فریحہ کےلئے جان کسیے دی جائے کہ اسی اثنا میں کمرے کا دروازہ کھٹکا۔
    میں شش و پنچ میں پڑ گیا۔ زہن جو ہجر و مصیبت کی بھول بھلیوں میں دھکے کھا رہا تھا یک دم واپس دنیا میں آ گیا۔ چہرے کو میں نے دونوں ہاتھوں سے صاف کیا اور دروازہ کھول دیا۔ سامنے عدیل کھڑا تھا۔ میں جو چند لمحوں کے لئے سب کچھ بھول گیا تھا۔ عدیل کو دیکھ کر زخموں کے منہ سے پھر خون رسنے لگا تھا۔ میرے بس میں ہوتا تو شائد میں عدیل کو گولی مار دیتا۔ عدیل بھی شائد بھانپ گیا تھا۔ اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ایک لفافہ میری طرف بڑھایا۔

    “ضرور آنا” اس نے مصافحے کے لئے ہاتھ اگے بڑھایا۔ ہمیشہ کی طرح میں ایک لفظ بھی نہ بول سکا۔ جیسے میری زبان گنگ اور جسم پتھر کا ہو گیا ہو۔ وہ جا چکا تھا اور میں دروازے پہ کھڑا بے جان بت کی طرح تب تک ساکت رہا جب تک عدیل نظروں سے اوجھل نہی ہو گیا۔ لفافے کو کھولا تو اس پر چلی حروف سے “شادی مبارک” لکھا تھا۔ تو عدیل اور فریحہ کی شادی کا وققت آ گیا۔ میں نے غصے میں لفافے کو کارڈ سمیت دیوار پہ دے مارا۔ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر میں بستر پر گر گیا۔ ایک بار پھر آنسو میری آنکھوں سے نکل کر میرے گال بھگونے لگے۔ دل کے زخم پھر سے تازہ ہو گئے تھے اور میں دوبارہ مرنے کے طریقے سوچنے لگا۔ کہ نجانے کب میری آنکھ لگ گئی۔

    یکدم مجھے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے بہت سارے پرندے میرے جسم پر پھڑپھڑا رہے ہیں۔ سنسنی کی ایک تیز لہر میرے جسم میں دوڑ گئی۔ کیا میں مر گیا ہوں؟ خوابیدہ زہن میں سوال ابھرا۔ اس سے پہلے کہ میں مکمل ہوش میں آتا میری آنکھ کھل گئی۔ میرے سارے جسم کو جیسےبڑی بڑی سیاہ پروں والی چمگادروں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ میں نے غیر ارادی طور پر ہاتھ پاؤں جھٹکے اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔ جتنا میں ان کو اپنے سے دور کر رہا تھا نہ صرف ان کے پروں کی پھرپھڑاہٹ بڑھتی جا ر ہی تھی بلکہ ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ میرے زہن کے نہاں خانوں میں بس ایک ہی بات تھی کہ اب یہ میرا سارا خون چوس جائیں گی۔ میں کمرے میں بھاگ دور رہا تھا۔ اور چمگادڑیں اسی رفتار سے بڑھتی جا رہی تھیں کچھ میرے ساتھ چپکی ہوئی تھیں، کچھ کمرے میں دائرے کی صورت میں چکر کاٹ رہی تھیں۔ کمرہ ہلکےہلکے اندھیرے میں ہیبتناک صورت پیش کر رہا تھا۔ میں نے کوشش کی کہ کھڑکی سے باہر چھلانگ لگا دوں۔ ساتھ ساتھ میں چمگادڑوں کو ہاتھ سےدور کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور کھڑکی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ عجیب بات یہ تھی کہ وہ میرا خون نہی چوس رہی تھیں لیکن خوف سے میری گھگھی بندھی ہوئی تھی۔ ایک ایک قدم مجھے ایک من کا لگ رہا تھا۔ آخر کار میں کھڑکی تک پینچنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ میں کھڑکی پر چڑھتا۔ سیاہ کالی بلیوں کا ایک جم گفیر کھڑکی کے راستے اندر داخل ہو گیا۔

    میں جیسے چمگادڑوں اور بلیوں میں گھر گیا تھا۔ رات کی سیاہی جیسے بڑھ گئی تھی۔ پڑوں کی پھڑپھڑاہٹ اور گول گول گھومتی گول آنکھوں نے مجھے چند لمحوں کے لئے ساکن کر دیا تھا۔ میری سمجھ نہی آ رہی تھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ اوپر کا سانس اوپر اور نئچے کا نیچے رہ گیا تھا۔ میرا کمرہ چمگادڑوں اور بلیوں سے بھرتا جا رہا تھا۔ میرا دم گھٹنے لگا تھا سانس لینا مشکل ہوتا جا رہا تھا نجانے مجھ میں کسیے اتنی ہمت آ گئی کہ میں دروازے کی ظرف دوڑ پڑا۔ میرے پاؤں کے نیچے کئی بلیاں اور چمگادڑیں آ رہی تھیں ان کے خون کی چپپچپا ہٹ سے فضا میں عجیب سی سڑاند محسوس ہونے لگی تھی۔ دروازہ لگ رہا تھا بہت دور ہو گیا ہے میرے چہرے پر بدبودار خون کی چھینٹے پڑ رہے تھے۔ کچھ بلیاں اور چمگادڑیں کمرے میں چلنے والے پنکھے کی زد میں آ گئی تھی۔ مجھے ہوش آ رہا تھا سب سے اہم بات میرے زہن میں یہ تھی کہ دونوں مجھے نقصان نہی پہنچا رہی تھیں۔ اس لئے میں نے سوچا کہ مجھے یہاں سے دور بھاگ جانا چاہئے۔ بہت دور۔ زندگی سے دور۔ زندگی کی مصیبتوں سے دور۔ فریحہ اورعدیل سے دور۔

    جیسے ہی میں کمرے کے دروازے کے قریپ پہنچا، میرے سامنے دروازے پر جیسے فلم چلنے لگے تھی۔ دروازے پر وہ منظر میرے سامنے تھا جب میری پہلی بار فریحہ سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں میتھ ڈپارٹمنٹ میں آنے کے لئے آرٹس ڈپارٹمنٹ سے گزر رہا تھا لیڈیز روم کا دروازہ کھلا اور دھڑام سے میرے چہرے سے ٹکرایا۔ میں جو اپنی دھن میں آگے کی جانب بڑھ رہا تھا دروازہ مجھ سے ٹکرا کر دوبارہ وااپس اسی رفتار سے جس سے ٹکرایا وہ فریحہ تھی۔ ہم دونوں کی آنکھیں ملی۔ گہری سبز آنکھوں نے جیسے جادو کر دیا۔ درد اور وحشت محبت کی گود میں ہلکارے بھرنے لگی۔ فریحہ نے نقاب درست کیا اور ہم دونوں نے یک زبان ہو کر کہا “سوری”۔ وقت شائد ہمیں ملانا چاہتا تھا کہ پے در پے ہمارا آمنا سامنا ہونے لگا۔ کبھی لائبریری میں، کبھی یونیورسٹی آتے ہوئے، کبھی واپس پوائنٹ کی طرف جاتے ہوئے کہ چند دنوں میں ہم یک جان اور دو قالب ہو چکے تھے۔ ہماری محبت چودہویں کا چاند بن گئی تھی۔ ہم شائد ہی ایک دوسرے کے بغیر اب رہ سکتے تھے۔ محبت منصوبے بہت بناتی ہے اور ہم کبھی اس جگہ کبھی اس جگہ بیٹھ کر منصوبے بنا رہے تھے۔ منظر غائب ہو چکا تھا کیونکہ دروازہ یکدم کھل گیا تھا چھوٹے سے دروازے سے ایک دیو نما مخلوق اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ ساری بلیاں اور چمگادڑیں سجدہ ریز تھی۔ کچلی گئی بلیوں اور چمگادڑوں کا خون خود بخود اڑ اڑ کر اس مخلوق کی نکلی ہوئی لمبی زبان میں جزب ہو رہا تھا۔ “یا خدایا” میری زبان سے بلا ارادہ نکلا۔ یہ کہنا تھا کہ دیو نما مخلوق نے اپنی زبان سے مجھے اچھالا کہ میں دیوار پر جا لگا۔ دیوار سے چپکی چمگادڑیں کچھ پھڑپھڑا کر ادھر ادھر ہوگئیں اور کچھ مئرے جسمکے ساتھ چپک گئیں۔ قلابازیاں کھاتے ہوئے میں زمیین پر سجدہ ریز بلیوں کے اوپر گڑا۔ بدبودار خون سے میرے کپڑے رنگین ہو چکے تھے۔ دیو نما مخلوق نے مجھے چاٹنا شروع کیا۔ اور یکدم مجھے اپنین زبان میں لپیٹا اور باہر نکل گیا۔ کوریڈور بھیڑیوں سے بھرا ہوا تھا جو اپنے نوکیلے دانتوں سے عجیب و غریب آوازیں نکال رہے تھے میں نے آخری بار کا سوچ کر فریحہ کا نام لیا اور آنکھیں بند کر لیں کہ اب یا تو وہ دیو نما مخلوق مجھے کھا جائے گی ورنہ میں ضرور بھیڑیوں کی خوراک بنوں گا۔ جن کے نوکیلے دانت یوں چمک رہے تھے جیسے صدیوں سے انہوں نے کچھ نیہ کھایا اور آنکھیں مسرت سے جگمگا رہی تھیں جیسے بہت عرصے کے بعد انہیں کھانے کو کچھ ملے گا۔
    آہستہ آہستہ میں نے آنکھیں کھولیں تو سامنے دو رویہ قطاروں کے درختوں پر پتوں کی جگہ خون کی ڈوبی گردنیں لٹک رہی تیھں ان کی گردنیں ایسے جھکی ہوئی تھیں جیسے دیو نما مخلوق ان کا آقا ہو۔ آگے اگے بھیڑئے اور پیچھے پیچھے بلیاں چل رہی تھیں بلیوں کے اوپر چمگادڑیں اڑ رہی تھیں یہ سب مل کر ایسا ماحول بنا رہتے تھے جیسے کسی خوفناک سی بستی ہو جبکہ ہوسٹل سے ڈھابے کی طرف جانے والی سڑک کہیں کھو سی گئی تھی۔ میں ابھی تک زبان میں لپٹاہوا تھا کہ ڈھابے کےاوپر لگے بورڈ پر دوبارہ منظر جلوہ افروز ہو رہا تھا۔ ہر شے ساکن ہو گئی تھیں اور میں اور فریحہ یونیورسٹی سے گزرنے والی ندی کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے سب کچھ یاد آ رہا تھا۔ وقت جیسے پیچھے چلا گیا تھا۔

    “فریحہ” میرے لہچے میں جیسے پیار کی برسات تھی جس میں فریحہ بھیگ بھیگ جاتی تھی۔ اس کا ہمیشہ اصرار ہوتا پھر کہو نا فریحہ۔ اس نے میرے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ کچھ نہ کہو دیکھو منظر کتنا حسین ہو رہا ہے۔
    “تمہے تو ہر منظر حسین لگتا ہے جب میرے ساتھ ہو۔ چاہے وہ جون کی گرمی ہی کیوں نہ ہو” میں نے اس کے ہاتھوں کو چومنے ہوئے کہا۔ اس نے اپنے ہاتھ کھینچ لئے اور ہمیشہ کی طرح مجھے گھورنے لگی ۔
    میں نے جیب سے انگوٹھی نکالی اور پیار بھری نگاہوں سے فریحہ کو دیکھا۔ “یہ کیا ہے؟” فریحہ نے تجسس سے پوچھا۔ آج میں قسم کھاتا ہون کہ مجھے تم سے محبت ہے اور میں اس محبت کو ہمیشہ کےلئے حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے انگوٹھی پہناتے ہوئے اسے کہا۔ آج سے تم بس میری ہو۔
    اس نے سر میرے کندھے پر رکھ دیا۔ میں نے اس کے بالوں پر بوسہ دیا۔ اس کے ہاتھوں پر اپنے ہونٹؤں کی مہر ثپت کی۔ اور پھر نجانے کیا ہوا۔ وقت جیسے تیز ہو گیا۔ مجھے ہوش نہ رہا اور میں بڑھتا گیا۔ فریحہ روکتی رہی میں اصرار کرتا رہا۔ ندی کا کنارہ اور درخت جس کے نیچے ہم بیٹھے تھے ہماری محبت کا گواہ بن رہا تھا کہ اچانک درخت کےپیچھے سے عدیل آ گیا۔ جتنی دیر میں میں نے اپنے کپڑوں کو درست کیا فریحہ اتنی دیر میں عدیل کے ساتھ جا چکی تھی۔

    ہوا میں اچھلتے ہی جیسے یکبار منظر کہیں کھو گیا۔ اب میں چمگادڑوں کے اوپر فضا میں تھا اور چمگادڑیں مجھے نوچنے لگی تھیں مجھے ایسا لگ رہا تھا میرے جسم کا خون نچڑتا جا رہا ہے۔ بلیوں نے رونا شروع کر دیا تھا اور بھیڑئے غرا رہے تھے۔ درختوں سے لٹکی کھوپڑیاں اونچے اونچے قہقہے لگا رہی تھیں۔ موت میرے سامنے تھی۔میں تو ویسے بھی مرنا چاہتا تھا۔ کاش آخری بار میں فریحہ سے مل سکتا یہ سوچنا تھا کہ چمگادڑوں نے مجھے نیچے پھینک دیا مردہ لاش کی طرح اب میں بلیوں پر سواری کر رہا تھا خون کے بعد اب میرا گوشت کم ہوتا جا رہا تھا میں آہستہ آہستہ مر رہا تھا۔ نیم وا آنکھوں سے میں نے دیکھنے کی کوشش کی اور زور سے پکارا فریحہ۔ دور دور تک لگتا تھا کوئی بھی نیی سوائے خوف کی چادر کے۔ بلیاں چلنا رک گئین تھیں میں تو ندی کنارے درخت کے نیچے زمیں پر لیٹا تھا۔ اور درخت سے لٹکی کھوپڑیاں میرے قریپ ہوتی جا رہی تھیں کہ ایک کھوپڑی نے اپنا دہانہکھولا اور میرے سامنے فریحہ اور عدیل ڈپارٹمنت کے سامنے بیٹھے تھے۔ میں لرزتے قدموں کے ساتھ ان کے قریب گیا۔ یمہشہ کی طرح میری زبان گنگ ہو گئی تھی نجانے عدیل میں ایسا کیا جادو تھا۔ کچھ عرصہ پہلے ہی فریحہ نے بتایا تھا کہ اس کا داخلہ اس کی کلاس میں ہوا ہے اور وہ اس کا بہت اچھا دوست ہے۔ بہت خیال رکھتا ہے۔ مجھے دیکھ کر عدیل نے غصے سے گھورا میں سر سے پاؤں تک کانپ گیا تھا۔ اور اٹھ کر کچھدور جا کر کھڑا ہو گیا تھا۔ میں فریحہ کے پاس بیٹھ گیا۔ چند لمحے ہم دونوں خاموش رہے آخر میں نے کانپتے لہچے میں کہا “میں معافی مانگوں بھی تو تمہے مجھے معاف نہی کرنا چاہے۔ مجھے ایسا نیہ کرنا چاہئے تھا” ابھیمیں یہ ہی کہ پایا تھا کہ آنسو میرے آنکھوں سے رراں تھے میں معافی مانگنا چاہ رہا تھا میں نے دیکھا کہ فریحہ بھی رو رہی تھی شائداس نے مجھے معاف کر دیا تھا اس سے پہلے کہ میں کوئی اور بات کرتا۔ عدیل واپس آ گیا۔ میں بہت کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن عدیل نے یکدم میرا ہاتھ پکڑا مجھے ایسا لگا کسی مظبوط سانجے میں میرا ہاتھ آ گیا ہو۔ “دفعہ ہو جاؤ اور پھر کبھی فریحہ سے ملنے کی کوشش نہ کرنا” اس نے پھنکارا۔

    میں نے بھیگی آنکھوں سے فریحہ کی طرف دیکھا۔ جیسے وہ بھی مجھے کچھ کہنا چاہ رہی تھی کہ اس نے عدیل کی طرف دیکھا اور سر جھکا لیا۔ میں واپس لٹے ہوئے دل کے ساتھ ہوسٹل کے کمرے میں آ گیا۔ کمرے کا دروازہ بند ہوتے ہی وہ دہشت ناک دہانہ خون سے بھر گیا۔ میں جیسے گندگی سے بھر گیا میں اٹھا اور پچھلے قدموں بھاگنے لگا کہ اچانک ایک پتھر سے ٹکرایا اور زمین بوس ہو گیا۔ میرے سامنے آسمان نہی فریحہ تھی دلہن کے لباس میں وہ خوبصورت لگ تہیتھی لیکن اس کی آنکھوں میں اداسی کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا جیسے کہ رہا ہو۔ ہمت ہے تو میری آنکھوں کی مسکراہٹ لوٹا دو۔ میں نے اٹھنے کی کوشش کی کہ فریحہ کاہاتھ پکڑ لوں۔ ہاتھ میرے ہاتھوں میں آیا اس نے وہی انگوٹھی پہن رکھی تھی جو میں نے اسے پہنائ تھی کہ اچانک پھر عدیل اس کے آگے آ گیا۔ انگوٹھی میرے ہاتھ میں رہ گئی اور فریحہ عدیل کے پیچھے چلی گئی۔ آج میں تمہے چھوڑوں گا نہی۔ میں نے پختہ ارادہ کیا۔ جس پتھر سے ٹکرا کر میں گرا تھا وہی میں نے اٹھایا اور ہمت کر کے عدیل کو دے مارا۔ عدیل آگے سے ہٹ گیا اور پتھر فریحہ کے سر پر جالگا۔ فریحہ کےسر سے خون بہ رہا تھا اور وہ لمحہ لمحہ مر رہی تھیں اور میں کچھ نہی کر سکتا تھا۔

    آنکھ کھلی تو کمرہ دن کی روشنی سے بھرا ہوا تھا۔ میرا ہم حجرہ شائد ڈپارٹمنٹ جا چکا تھا۔ زہن میں ہلچل تھی کیا حقیقت کیا افسانہ۔ کیا میں نے کوئی خواب دیکھا تھا؟ شائد۔ یہی سوچ کر جلدی جلدی تیار ہو گر فریحہ کے ڈپارٹمنٹ میں پینچا۔ وہاں سب سوگوار تھے۔ فریحہ کو کسی نے رات کو مار ڈالا۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ فریحہ نہی مر سکتی۔ نہی ایسا نہی ہوسکتا۔ ایسا نہی ہو سکتا۔ مجھے یاد آیا کہ جو کپڑے پہن کررات میں سویا تھا صبح وہ نہی تھے۔ میں بھاگتا ہوا اپنے کمرے میں واپس آیا۔ جلدی جلدی میں نے سامان ادھر ادھر کیا۔ کھڑکی کے نیچے میز پر وہ کپڑے پڑے تھے میں نے انہیں اٹھایا تو اس کی جیب سے خون رس رہا تھا۔ جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس میں وہی انگوٹھی تھی جو فریحہ کو میں نے پہنائی تھی۔ کیا خواب نہی حققیت تھا۔ یہی سوچتے ہوئے میرے دل میں عدیل کا خیال آیا۔ میں تیزی سے دوڑتا ہوا فریحہ کے ڈپارٹمنٹ میں پینچا میرا سانس دھونگی کی طرح چل رہا تھا۔ “عمیر ! عمیر ” میں نے فریحہ کےکلاس فیلو عمیر کو آواز دی۔ عمیر نے آ کر میرے کندے پر ہاتھ رکھا اور افسوس کرنے لگا۔ “وہ عمیر عدیل کہاں ہے؟” میں نے کانپچی ہوئی آواز میں پوچھا۔ “عدیل! کون عدیل” عمیر نے حیرانگی سے پوچھا۔ “تمہارا کلاس فیلو” میں نے بے صبری سے کہا۔ “ہمارا تو ایسا کوئی کلاس فیلو نہی” عمیر نے دوبارہ حیرانگی سسے کہا۔
    میں سر پکڑ کر وہی کاریڈور بیٹھ گیا۔ کہ اچانک سامنے کی جھاڑیوں سے سر سراہٹ محسوس کر کے میں نے سر اٹھایا تو سامنے دو کالی بلیاں سبز آنکھوں سے مجھے گھور رہی تھیں۔