Blog

  • یہ سوچتا ہوں کہ عابدؑ کا حال کیا ہو گا

    یہ سوچتا ہوں کہ عابدؑ کا حال کیا ہو گا

    یہ سوچتا ہوں کہ عابدؑ کا حال کیا ہو گا
    اسیر ہو کے وہ جب شام میں گیا ہو گا

    سُنا ہے شام میں جاتے ہی خون رونے لگا
    نہ جانے شمر نے اُس وقت کیا کہا ہو گا

    گلے کے طوق نے عابدؑ کو کیا جھُکانا تھا
    وہ اپنے کھوئے ہوئے لعل ڈھونڈتا ہو گا

    وہ ظلم دیکھے ہیں سجادؑ نے حسینؑ کے بعد
    مجھے یقیں ہے کہ اب تک بھی رو رہا ہو گا

    وہ یاد کرتا تو ہو گا وطن کی شاہی کو
    بہن کو دفن جو پردیس میں کِیا ہو گا

    جو غور کیجئے٬ عابدؑ بشر نہیں لگتا ہے
    میرے خیال میں دُکھ درد کا خُدا ہو گا۔

  • کتنے پیارے ہیں تیرے عون ؑ و محمدؑ زینبؑ

    کون خاتون یہ خیموں سے صدا دیتی ہے
    کانپ اٹھتی ہے زمیں عرش ہلا دیتی ہے
     
    کبھی تقدیر عطا کرتی ہے غازیؑ کو علم
    کبھی زینبؑ کو علمدار بنا دیتی ہے
     
    ایک بیمار کو کاندھے سے لگا کر زینبؑ
    کبھی اکبرؑ کبھی غازیؑ کو صدا دیتی ہے
     
    اے خدا تیری خدائی کا بھرم رہ جائے
    لے تیرے نام پہ زینبؑ یہ ردا دیتی ہے
     
    کتنے پیارے ہیں تیرے عون ؑ و محمدؑ زینبؑ
    انکو تو موت بھی جینے کی دعا دیتی ہے
     
    کربلا کی یہی تعریف سنی ہے کوثر
    خاک ہے اور مریضوں کو شفا دیتی ہے
     
     
  • نبیؐ ہے آسْرا کُل جہان دا

    نبیؐ ہے آسْرا کُل جہان دا

    نبیؐ ہے آسْرا کُل جہان دا
    نبیؐ دا آسْرا ہے ماں حسینؑ دی
    خدیجہؑ  آمنہؑ تے حوّاؑ  آسیاؑ
    انہاں دی پیشوا ہے ماں حسینؑ دی
    مریم وی اے جانڑدی اے ، جینوں رب چا ودھاوے
    جیبریلؑ جیندے بوھے تے ، بِن پچھاں نہ جاوے
    خاتون کوئی ، ایہو جئے سینڑ دی ، کیویں ہمسر بنے
    جیندے قدم اُتے ، رکھے حسینؑ سَر
    او صاحبِ حیا ہے ماں حسینؑ دی
    شاہ ھست زہراؑ دا لال اے ، اپنی ماں دی وجہ توں
    دینِ پناہ بے مثال اے ، اپنی ماں دی وجہ توں
    پُچھ تاں سہی ، شان میرے جئے ، خاکی بندیاں کولوں
    حجاب مصطفیٰؐ ، اعزازِ مرتضیٰؑ
    نمازِ انبیاء ہے ماں حسینؑ دی
    ———————————
    نبیؐ ہے آسْرا کُل جہان کا
    نبی کا آسْرا ہے ماں حسینؑ کی
    خدیجہؑ  آمنہؑ اور حوّاؑ  آسیاؑ
    سبھی کی پیشوا ہے ماں حسینؑ کی
    ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~
    خدا نے خود کہا ، اے میرے مصطفیٰؐ
    حیا کا ہے قرآن ماں حسینؑ کی
    علیؑ ایمان ہے ، زمانے کا اگر
    علیؑ کا ہے ایمان ماں حسینؑ کی
    نبیؐ ہے آسْرا کُل جہاں کا
    ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~
    مریمؑ بھی یہ جانتی ہے ، جسے رب دے فضیلت
    جبریلؑ بھی جس كے دَر پر ، آئے نہ بن اِجازَت
    خاتون کوئی ، میری بی بیؑ تیری ، کیسے ہمسر بنے
    رکھے قدموں پہ سَر ، حسینؑ سا پسر
    وہ صاحبِ حیا ہے ماں حسینؑ کی
    نبیؐ ہے آسْرا کُل جہاں کا
    شاہ است زہراؑ کا لال ہے ، اپنی ماں کی وجہ سے
    دینِ پناہ بے مثال ہے ، اپنی ماں کی وجہ سے
    پوچھے تو سہی ، شان میرے جیسے ، خاکی نا چیز سے
    حجاب مصطفیٰؐ ، اعزاز مرتضیٰؑ
    نماز انبیاء ہے ماں حسینؑ کی
    نبیؐ ہے آسْرا کُل جہاں کا
    ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~
    عرشوں پہ رب نے کرایا ، جو تعارف کساء کا
    دو بیٹے ہیں اور ساتھ شوہر ، اور ہے اِس کا بابا
    اک میں خدا ، دوجا ہے مصطفیٰؐ ، اور علی مرتضیٰؑ
    حسنِ مجتبیٰؑ ، حسینؑ بادشاہ
    بنی امُّ الکساء ہے ماں حسینؑ کی
    ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~ ~
    نطہیر ہر وقت پڑھتی ، بی بی زہراؑ کا کلمہ
    قسمت بھی کرتی ہے ہر پل ، بی بی زہراؑ کو سجدہ
    توحید ہے ، اور رسالت بھی ہے ، اور امامت بھی ہے
    یہ میرا خُمس ہے ، یہ ہے روزہ مِرا
    نماز اور اذاں ہے ماں حسینؑ کی
    = = = = = = = = = = = = = = = = = = = = =
    خدا خود آخیا ، اے میرے مصطفی
    حیا دا ہے قرآن ماں حسینؑ دی
    الی ایمان ہے زمانے دا اگر
    الی دا ہے ایمان ماں حسینؑ دی
    معراج کیتے اے سوہنا ، جدان تینوں بلایا
    گلاں کرن واسطے مئى ، تینڈا ویران منگایا
    ہو ہو ھو – سچ سچ دسا ، جائے مئى خود بولدا ، طے نئی ریحندا خدا
    الی بنیا اگر ، اٹھان میری زُبان
    الی دی ہے زُبان ، ماں حسینؑ دی
    فرمایا رب نے محمد ، سن سوہنی اے گال ہے
    آج وچ مبایلے دے لے جا ، تو زہرہ نوں نال ہے
    ہو ہو ہوووو ، تیری قسم ، اے ہے معدہ بھرم ، مئى ہے آئِنْدَہ بھرم
    جائے میرے واسطے ، طے تیرے واسطے
    فتح دا ہے نشان ، ماں حسینؑ دی
    تطیہر ہر وایلے پڑھدی ، میدی زہرہ دا كلام
    قسمت وی کردی ہے ہر پل ، میدی زہرہ نوں سجدہ
    ہو ہو ھو – توحید ہے ، طے رسالت وی ہے ، طے امامت وی ہے
    اے میرا خمس ہے ، تے ہے روزہ مینڈا
    نماز تے اَذان ہے ماں حسینؑ دی
    عرشاں تے رب نے کرایا جو تعارف کساء دا
    دو بچڑے تے اک ہے شوہر تے ہے اک آئِنْدَہ بابا
    ہو ہو ھو – اک میں خدا ، دوجا ہے مسطفیٰؐ ، تے علی مرتضیٰؑ
    حسن مجتبی ، حسین بادشاہ
    ایناں دی ہے پہچان ماں حسینؑ دی
    جس دن ہے آیا حسین اے ، رووندا ریا مایندی سائن اے
    چوم چوم كے بچرای دی گردن ، بی بی کییتے نے وین اے
    وا غربتا ، واہ وا غربتا ، کایندی ریا سعیدہ
    جہاں طے بن گئی ، ہے پہلی ذاكرہ
    طے پہلی نوحہ خوان ماں حسینؑ دی
    https://www.youtube.com/watch?v=ofw3ExSuGMI
  • اچھا بابا سلانے تو آو گے نا اور ایک بار اور مجھےگود میں لے لو بابا

    اچھا بابا سلانے تو آو گے نا اور ایک بار اور مجھےگود میں لے لو بابا

    کر رہا ہے میرا دِل بیان کربلا
    مجھ سے عاشور کی شب کا منظر کہا
    سینہءِ شاہؑ پر بنتِ شاہ ھدیٰ
    اور شبیرؑ کہتے تھے یہ بڑھا
    ہم کو جانا ہے کل کرنے وعدہ وفا
    تم پہ آجائے گا صبر کا مرحلہ
    بات ساری سكینہؑ نے شہہؑ کی سنی
    اور جواباَ بس اتنا ہی کہتی رہی
     
    اچھا بابا سُلانے تو آؤ گے نا
    روز چہرہ دکھانے تو آؤ گے نا
     
    بولے شبیرؑ اے میری نور نظر
    تم کو کرنا ہے اب شام تک کا سفر
    تم کو قیدی بنائیں گے اب اہلِ شر
    بولی شہزادی مجھکو نہیں کوئی ڈر
    تم کہو تم سلانے تو آؤگے نا
    روز چہرہ دکھانے تو آؤگے نا
     
    شاہ کہنے لگے اے میری لاڈلی
    تم پہ آئے گی اب شامِ غم کی گھڑی
    آگ دامن میں ہوگی تمہارے لگی
    بولی وہ فکر مجھکو نہیں ہے کوئی
    میرا دامن بُجھانے تو آؤ گے نا
    روز چہرہ دکھانے تو آؤگے نا
     
    مضطرب دِل سے کہنے لگے شاہِ دین
    تیری قسمت میں بیٹی سکوں اب نہیں
    اب تمانچے لگائے گا شمرِ لعیں
    سُن کے یہ بات کہنے لگی وہ حزین
    شمر سے تم بچانے تو آئو گے نا
    روز چہرہ دکھانے تو آؤگے نا
     
    اچھا بابا سُلانے تو آؤ گے نا
    روز چہرہ دکھانے تو آؤ گے نا
     
    پِھر کیا شہہ نے بیٹی سے کچھ یوں سخن
    سب حرم ھونگے اب تو اسیرِ مِہن
    تیرے ہاتھوں میں بھی پِھر بندھے گی رسن
    بولی یہ بات سن کے وہ تشنہ دھان
    تم گلے سے لگانے تو آئو گے نا
    روز چہرہ دکھانے تو آؤگے نا
     
    روکے شبیرؑ نے اُسکے بوسے لیے
    بولے رخسار بھی ھونگے زخمی تیرے
    تیرے رونے کے شہزادی دن آ گئے
    بولی تم کیسے دیکھو گے روتے ہوئے
    ہاں مجھے چُپ کرانے تو آؤ گے نا
    روز چہرہ دکھانے تو آؤ گے نا
     
    بڑھتی جاتی تھی بے چینی شبیرؑ کی
    ہر ستم وہ اُٹھانے پہ راضی ہوئی
    زندہ بابا نہ ھونگے سمجھ نا سکی
    سن کے سب مشکلیں بس یہ کہتی رہی
    گر میں روٹھی منانے تو آئو گے نا
    روز چہرہ دکھانے تو آؤگے نا
     
    لکھ کے سلمان دِل رو رہا ہے میرا
    زین جب شاہِ والا نے روکر کہا
    اب تو زندان مرقد بنے گا تیرا
    بیٹی صابر کی تھی بولی وہ صابرہ
    میرا لاشا اُٹھانے تو آئو گے نا
    روز چہرہ دکھانے تو آؤ گے نا
     
    اچھا بابا سُلانے تو آؤ گے نا
    روز چہرہ دکھانے تو آؤ گے نا
     
     
    —————————-
    ایک بار اور مجھے گود میں لے لو باباؑ
     
    وا حسیناؑ کا ہوا شورحرم میں برپا
     
    ہو کر رخصت جو چلے گھر سے شاہِ کرب و بلا
     
    کہہ کہ یہ دوڑی سکینہؑ کہ ٹہر جاؤ ذرا
     
    ایک بار اور مجھے گود میں لے لو باباؑ
     
    شہہؑ نے بچی کا جو یہ حال پریشان دیکھا
     
    رو کے فرمایا کہ کیا حال میری ماہِ لقہ
     
    جوڑ کر ننھے سے ہاتھوں کو سکینہؑ نے کہا
     
    ایک بار اور مجھے گود میں لے لو باباؑ
     
    سوچتی ہوں کہ تماچے کوئی مارے نہ میرے
     
    گوشوارے کوئی کانوں سے اُتارے نہ میرے
     
    وہم آتے ہیں میرے دل میں نہ جانے کیا کیا
     
    ایک بار اور مجھے گود میں لے لو باباؑ
     
    میں سمجھتی ہوں کہ یوں ہی مجھے بہلاتے ہو
     
    تھا نہ معلوم کہ مرنے کیلئے جاتے ہو
     
    تم ہمیشہ کے لئے ہوتے ہو اب مجھ سے جدا
     
    ایک بار اور مجھے گود میں لے لو باباؑ
     
    باباؑ سینے سے سکینہؑ کو لگاتے جاؤ
     
    اب کہاں ہو گی ملاقات بتاتے جاؤ
     
    تم کو اکبرؑ کی قسم غنچہ دہن کا صدقہ
     
    ایک بار اور مجھے گود میں لے لو باباؑ
     
    کیا خبر تم سے کوئی بات بھی اب ہو کہ نہ ہو
     
    کون جانے کہ ملاقات بھی اب ہو کہ نہ ہو
     
    دل دھڑکتا ہے میرا بحرِ نبیﷺ بحرِ خدا
     
    ایک بار اور مجھے گود میں لے لو باباؑ
     
    اپنی آغوش میں اے باباؑ چُھپا لو مجھ کو
     
    آخری بار کلیجے سے لگا لو مجھ کو
     
    جیتے جی آٓہ کہاں تمہیں اب پاؤں گی بھلا
     
    ایک بار اور مجھے گود میں لے لو باباؑ
     
    تم نہ آؤ گے تو اے باباؑ بہت روؤں گی
     
    کس کے سینے پہ بتا دیجئے پھر سوؤں گی
     
    نہ تو بھیا علی اکبرؑ ہیں نہ عباسؑ چچا
     
    ایک بار اور مجھے گود میں لے لو باباؑ
     
    ضبط کی تاب نہ مولاؑ کو رہی اے انورؔ
     
    ہاتھ پھیلا کے بڑھے بیٹی کی جانب سرورؑ
     
    جس گھڑی بے کس و معصوم نے رو رو کے کہا
     
    ایک بار اور مجھے گود میں لے لو باباؑ
    https://www.youtube.com/watch?v=avJiqlufgNE&feature=youtu.be&fbclid=IwAR1Wj_BbKEgRa0L1EQgMt3RIbY-O5-LyBNwuZWAMBGlpWt3w53M96rwyfqw