Blog

  • اے چاند محرم تو ہی بتا خاتون کا چاند کہاں ہے

    اے چاند محرم تو ہی بتا خاتون کا چاند کہاں ہے

    اے چاند محرم تو ہی بتا خاتون کا چاند کہاں ہے
    آباد ہے دنیا ساری زیرا کا چمن ویران ہے
    اے چاند محرم تو ہی بتا

    کہتی تھی سکینہ عابد کو اس قید میں میں مر جاؤں گی
    چھوڑو نہ اکیلا بھائی تاریک بہت زنداں ہے
    اے چاند محرم تو ہی بتا

    دیکھا نہ سنا ظایر ایسا زخموں سے بدن ہے چور مگر
    جاری ہے زبان پہ ذکر خدا گردن پہ خنجر رواں ہے
    اے چاند محرم تو ہی بتا

    تو پر جبرئیل کی زینت کا کیوں لاشہ تیرا پامال ہوا
    بے گوروکفن ہو بھائی میرے زینب کو یہی ارماں ہے
    اے چاند محرم تو ہی بتا

    اے کوفیوں میں ہوں بنت علی اور وارث چادر زیرا کی
    دیکھو نا تماشا شرم کرو اب زینب سر عریاں ہے
    اے چاند محرم تو ہی بتا

    اولاد کا غم بھائیوں کے ورم کٹتا ہے کلیجہ قدم قدم
    ھائے کیسے اٹھائے خون بھری اکبر کی لاش جواں ہے
    اے چاند محرم تو ہی بتا

    شبیر چلے جب کربل کو صغری نے دامن تھام لیا
    سنبھال کے رکھنا بابا میرے علی اصغڑ بہت ناداں ہے
    اے چاند محرم تو ہی بتا

     

    تنویر اٹھا کے ہاتھوں میں سید نے سوال آب کیا
    تم بھی ہو مسلمان رحم کرو اصغر کی خشک زباں ہے
    اے چاند محرم تو ہی بتا

  • خدا

    کیا خوبصورت بازار سجایا گیا تھا۔ ہر طرف قمقے ہی قمقمے روشن تھے۔ نور ہی نور بھیلا ہوا تھا ۔ کسی کو کچھ سجھائی نہی دے رہا تھا۔ وجود عدم، عدم وجود کا فرق مٹ گیا تھا۔ فرق تھا تو صرف یہ کہ ایک بیچنے والا تھا اور ایک خریدنے والا۔ ایک کائنات کا اللہ تھا اور ایک نصیریوں کا۔ سودا تو پھر شاندار ہی ہونا تھا۔ بیچنے والے کا مال انمول تھا۔۔ خریدنے والا مول تول کا عادی نہی تھا۔ خریدار کو ایک اور فکر بھی کھائے جا رہی تھی۔ کہ بیچنے والا اس کی جگہ لے چکا تھا۔ اللہ کے گھر میں وجود لم یزل ہی آ سکتا تھا۔ کچھ ایسا کروں کہ میں تو وہ ہوں جسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ تو کیوں نہ اپنا سب کچھ دے کر خدائی کو بچا لوں۔ کائنات عالم میری رضا کے لئے سب کچھ کرتی ہے تو کیوں نہ اس کائنات کو باور کروا دوں کہ اللہ ایک ہے، اس کا کوئی ہمسر نہی۔ کیسے؟ کیسے؟ کیسے؟۔ اور آج بازار سجا دیکھ کر بغیر چہرے والے کے وجہ پر مسکراہٹ آئی۔ اے بیچے والے کیا چاہتا ہے۔ بیچنے والا مسکرایا۔”اپنی خدائی بچانی ہے؟” خریدنے والے نو فورا اثبات کا اشارہ دیا۔ “لیکن میری ایک شرط ہے” کیا؟ بیچنے والے جانتے بوچھتے انجان بن گیا۔
    خریدنے والے نے صرف ایک شرط رکھی باقی سب کچھ تمہارا صرف خدائی میری۔ بس تمہے ایک رات سونا ہو گا۔ بس ایک رات؟” چاہے دنیا والوں کو میں یہ کہ سکوں کہ دیکھو۔۔۔مجھے تو نہ اونکھ آتی ہے نہ نیند۔ جسے تم اللہ کہ رہے وہ تو ایسا سویا کہ کبھی نہ سویا تھا۔سودا مکمل ہوا۔ بیچنے والے نے اپنا نفس ہی بیچ دیا۔ تیری مرضی جیسے چاہے اسے استعمال کر۔ اور خریدنے والے نے بھی کمال کا کمال کر دیا۔ جا آج سے ساری رضائیں تیری۔

    تو ہی تو چھپا ہوا خزانہ تھا لیں میں نے تجھے ظاہر کیا اور میر پہچان ہو گئی۔

  • بابا بلیک شیپ

    ابھی کچھ دن پہلے میں نے آپ کو “کتے بابا” والا واقعہ سنایا تھا۔ آج ایک اور سنئے۔ ہماری تو قسمت ہی کچھ ایسی ہے۔
    اللہ تعالی نے ہمیں جڑواں بیٹوں سے نوازا تھا۔ بیٹے بھی اس طرح کہ جڑواں بھی تھے اور دونوں میں شکل و صورت میں کوئی مماثلت نہی تھی۔ ایک کا نام ہم مے محمد عون رکھا اور دوسرے کا محمد جون۔ بہت سے لوگوں نے اعتراض کیا کہ جون کہا نام ہوا۔ کچھ نے تو سختی سے نام بدلنے کا حکم دیا۔ لیکن یہ ہم نہی کر سکتے تھے کیونکہ دونوں نام ہم نے کربلا کے شہیدوں سے لئے تھے۔ چاہے کوئی کچھ سمجھے نام تو بدلنے سے رہے۔

    محمد عون بلا کا تیز، نڈر اور ذہین ہے جبکہ محمد جون شرمیلی طبیعت کا اپنے آپ میں مگن بچہ۔ چار مہینے پہلے انہیں ہم نے پلے گروپ جسے اردو میں ہم کچی کلاس کہا کرتے تھے، میں داخل کروا دیا۔ چونکہ ان کے امتحان شرورع ہونے والے تھے۔ میں نے چاہا کہ انہیں پڑھا دوں۔ ماشااللہ دونوں بہت اچھی طرح ہر چیز سنا رہے تھے لیکن جب میں نے ان سے کہا سناؤ۔ جونی جونی۔۔۔عوں نے فٹا فٹ شروع کر دیا جونی جونی یس پاپا۔۔۔۔اور ساتھ ساتھ وہ جون کی طرف دیکھ بھی رہا تھا۔ اور جون کے چہرے کا رنگ بدل رہا تھا ابھی ایٹنگ شوگر ہی آیا تھا کہ وہ پل پڑا عون پر۔ انہں میں نے علیہدہ کیا اور اس کے بعد سب بچوں نے اسے چھیڑ بنا لیا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے دوبارہ جون کو بلایا اپنے پاس بٹھایا، پیار کیا اور سمجھایا۔ بیٹا یہ نظم ہے آپ کو نہی کہ رہے یہ دوسرا جونی ہے آپ تو جون ہو۔ شائد اس کی سمجھ میں آیا کہ نہی لیکن وہ پڑھنے لگا۔ اسی دوران میں نے باقی بچوں کو سختی سے منع کیا کہ اسے تنگ نہ کریں۔

    میں بڑا ہیرو بن رہا تھا۔ میں نے بیگم سے کہا دیکھو ایسے بچوں کو سمجھایا جاتا ہے۔ تمہاری تو بات ہی نہی سنتے۔ دیکھا حالانکہ وہ چڑ رہا تھا لیکن میرے سمجھانے پر سمجھ گیا۔ مجھے بچوں کو سمجھانے کا ہنر بہت اچھی طرح آتا ہے۔ بیگم نے کہا تو کچھ نہی لیکن مجھے معلوم تھا دل میں کہ رہی ہو گی بچوں کو ہی سمجھا سکتے ہو۔۔ہمت ہےتو مجھے سمجھا کے دکھاؤ۔

    بات تو یہاں ختم ہو جانی چاہئے تھی۔ کچھ دیر کے بعد ایک اور نظم آ گئی۔ رین رین گو اوے۔۔۔۔دونوں نے شروع کی اور جب میں نے کہا لٹل جونی وانٹز ٹو پلے۔ جون نے مجھے گھورا، رویا اور روتے روتے بولا۔۔بابا بلیک شیپ اور یہ جا اور وہ جا

    میری بیگم مجھے دیکھ رہی تھی اور اس کی نظریں کہ رہی تھی بڑا اچھا سمجھایا تھا۔ اور میں اسے۔

  • ہنر آرام ای

    ـــــــــــــــــــــــ
    محمد جون سال کا ہو چکا تھا۔ اس کی سالگرہ تھی۔ ہر شے بڑے سلیقے سے ہوئی تیار کی گئی۔ سالگرہ پر سب نے خوب انجوائے کیا۔ جب سب مہمان رخصت ہو گئے تو بچے کو لیکر ہم اس کے ساتھ گفٹ دیکھنے لگے۔

    ” واہ بہت خوبصورت کارڈ ہے” میں نے کہا۔ میری بیگم نے غصے سے مجھے دیکھا جیسے میں نے کوئی انہونی بات کر دی ہو۔ “خوبصورت کارڈ” کارڈ کا کیا اچار ڈالنا ہے؟ اس نے ہنکارا بھرا

    ارے یہ دیکھو، حروف تہجی کا لیپ ٹوپ میں نے بات بدلنے کی کوشش کی۔ یہ دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔
    ” ہاں ماموں نے ہی دیا ہو گا۔” بیگم نے پہلے ہی اعلان کر دیا۔

    میں اسے بجا بجا کر بیٹے کے ساتھ کھیلے لگا۔ بیگم دوسرے گفٹ کھولنے لگی کہ اچانک ایک ڈبہ کھولتے ہوئے ریپر جون کو لگ گیا۔ اس نے پہلے ایک تان لگائی کہ تان سین یاد آ گئے، خشمگیں نگاہوں سے ماں کو دیکھا اور بڑے جستہ انداز میں بولا “کتی ماما”۔

    میرے لئے اپنی ہنسی روکنا مشکل تھا اور ایک زور دار قہقہ میرے حلق سے برآمد ہوکر کمرے کی رنجیدہ فضا میں پھیل گیا۔ اف۔۔تو یہ بھی جانتا ہے میں نے دل میں سوچا اور مسکراہٹ جیسے میرے ہونٹوں پر ثپت ہو چکی تھی۔ میری بیگم کو بہت برا لگا اور اس نے پہلے گھور کر دیکھا اور اس کے بعد غصے سے اٹھی، پاؤں پٹخا اور باہر جانے لگی۔

    اس سے پہلے کہ ایک اچھا دن کا انجام بہت برا ہوتا۔ میں نے اسے ٹھیک کرنے کا سوچا۔۔۔میں اٹھا اور بیگم کے پاس جا کر بولا۔” بچہ ہے ایسے ہی کہ دیا تم تو برا منا گئی۔

    وہ تو بچہ ہے لیکن آپ تو نہی” ہنسی جیسے رک ہی نہی رہی تھی۔ بیگم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔ اس سے پہلے کہ بیگم کا وار کامیاب ہوتا۔ جون نے حروف والا لیپ ٹاپ نیجے پھینگا اور بولا “کتے بابا بچاتے کیوں نہیں”

    بچہ ہے ” میری بیگم نے آنسوؤں کے درمیان قہقہ لگاتے ہوئے کہا اور میں وزیدہ نگاہوں سے لیپ ٹاپ اٹھانے لگ گیا۔

  • دو قومی نظریہ

    ہم جالندھر میں رہتے تھے۔ محلے ہی میں انگلو پرائمری سکول تھا۔ مجھے اس میں داخل کروا دیا گیا۔ مجھے آج تک یاد ہے کہ وہاں ایک سکھ ٹیجر تھا۔ کافی موٹا قسم کا وہ کرسی ہر بس بیٹھا رہتا زیادہ تر تو وہ خراٹے لیتا رہتا یاں۔۔۔۔۔شائد اسے کسی قسم کی خارش کی بیماری تھی۔ میں خوشی خوشی سکول آیا تھا میرے ساتھ ایک اور لڑکا بیٹھا تھا۔ نام یاد نہی آ رہا لیکن مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ لنچ لے کر آیا تھا۔ اس نے اپنا کھانا مجھے بھی کھانے کے لئے دیا۔ اس طرح کچھ دن گزر گئے۔ ہم اچھے دوست بن گئے۔ کبھی میں لنچ لے کر جاتا اور ہم اکٹھے کھاتے کبھی وہ لے کر آتا۔ کبھی کبھی ہم دونوں ہی لے آتے اس دن تو موج ہی ہو جاتی۔ ایک دن میرے اس دوست نے کہا کہ ماتا جی کہہ رہی تھی کہ اپنے دوست کو لانا۔ وہ تم سے مل کر بہت خوش ہونگی۔ مجھے کیا تھا میں اس کے ساتھ چل دیا۔ ماتا جی بڑے پیار سے ملی۔ مٹھائی بڑے پیار سے کھلاتی رہیں۔ فٹا فٹ لسی کا ایک گلاس دیا مجھے۔ میرے لئے تو عید کا سماں تھا۔ پھر انہوں نے پوچھنا شروع کیا۔ کہاں رہتے ہو۔ پتا جی کا کیا نام ہے۔ جیسے ہی میں نے نام بتایا کہ انہیں مولوی صادق کہتے ہیں۔ ماتا جی اہل لمحے کے لئے چپ سی ہو گئی۔ انہوں نے میرے دوست سے کہا جا اسے گلی کی نکڑ تک چھوڑ آ دیر نہ ہو جائے۔ اور میں گھر کی سمت چل پڑا۔ دوسرے دن سکول پہنچا تو ہم دونوں بیٹھے تو ساتھ ساتھ تھے لیکن لگتا تھا ہمارے درمیاں بہت فاصلے ہیں۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ ماتا جی کہتی ہیں کہ مسلوں کو دوست نہی بناتے اور انہوں نے میرے جانے کے بعد گائے کا پیشاب منگوا کر وہ ساری جگہ دھلوائی جہاں جہاں میں گزرا یاں بیٹھا تھا۔

    آج سوچتا ہوں کہ پاکستان تو شائد اسی وقت بن گیا تھا۔ جب میں بھی گھر آیا اور ساری بات اپنی ماں کو بتائی تو اس نے بھی یہی کہا۔ بیٹا کسی مسلمان کو دوست بنانا یہ لوگ کسی کو کچھ نہی سمجھتے۔