آج اس کی سہاگ رات تھی۔ وہ رات جس کا ارمان ہر جوان دل میں ہوتا ہے۔ ایک ایسی رات جب اپنا سب کچھ کھو کر بھی اپنا ہی رہتا ہے، دو دل، دو جسم اور دو روحیں ایک ہو جاتی ہیں۔ جسم کو بھی راحت ملتی ہے اور روح بھی ہواؤں میں اڑتی ہے۔ وہ سجی سنوری آنییہ کے سامنے بیٹھی تھی۔ اس نے ائینہ میں اپنا چہرہ دیکھا، خوبصورت آنکھیں کیا غزال کی ہونگی، ستواں ناک، گلابی ہونٹ، اکڑی ہوئی گردن, گورا رنگ۔ اور سرخ جوڑا۔ سہاگ کا جوڑا۔ ارمانوں سے بھرا جوڑا۔ وہ اپنے سراپے کو کچھ دیر دیکھتی رہی۔ پھر اس نے شیلف میں پڑے قرآن پر نظر ڈالی۔ جزبات موتی بن کر اس کی آنکھوں کا طواف کرنے لگے۔ نظریں اس کی آئینہ پر تھی لیکن زہن ماضی کر گرد چھاڑنے لگا۔ وہی ماضی جس کے لیئے لوگ حافظہ چھین لینے کی دعا کرتے ہیں۔ وہ ماضی جو کبھی کبھی ناگ بن کر ساری زندگی ڈستا رہتا ہے۔ وہ ماضی جس کا ہونا آنے والے دن کو اور ازیت ناک کرتا رہتا ہے۔ جب سے اس نے ہوش سنبھالا تو حیران ہوتی تھی۔ اتنا بڑا گھر۔ اتنا بڑا کہ اس پورے گھر کو 25 سال گزرنے کے بعد بھی وہ پوری طرح نہ دیکھ سکی۔ پچبن سے ہی اس کے دماغ میں یہ بات ڈال دی گئی تھی کہ ہم وڈیرے ہیں اور تو وڈیرن۔ ایسے کرو، ویسے نہ کرو۔ ایسا نہی کرتے، اس طرح بیٹھو، اس طرح کھاؤ۔ جب گھر کی خواتین کو کہیں جانا ہوتا تو اعلان ہوتا تھا لوگ راسے سے ہٹ جائیں۔ وڈیر زادیاں جا رہی ہیں۔ تعلیم واجبی سی گھر میں ہی حاصل کر لی۔ پھر پڑھنا آیا تو جو ملا پڑھ ڈالا، رات کے اندھیرے میں چوری چوری پڑھتے پڑھتے اتنا پڑھ گئی کہ دل میں آہیں اور دماغ میں سپنے سانپ بن کر ڈسنے لگے۔ ہر کہانی، عورت اور مرد کی محبت سے شروع ہو کر عورت اور مرد کی محبت پہ ختم ہونے لگی۔محبت کبھی دریا بن کر اس کو ڈبوتا رہا، کبھی سمند بن کر اس کی بانہوں میں سماتا رہا۔ جب چا ہے جانے کی خواہش نے دل و دماغ کو اپنے قبضہ میں لیا تو ایک ہی دھن تھی کوئی ہو۔ کوئی ہو جو میرے حسن کی تعریف کرے۔ کوئی ہو جو کہے کہ زلف پریشان کو اور پریشان نہ کرو۔ کوئی ہو جو کہے آنکھیں بند رکھا کرو، ورنہ ڈوب ڈوب جاتے ہیں۔ کوئی ہو جو کہیے مجھے تم سے محبت ہے۔ ہونہی 25 برس گزر گئے۔ نہ کوئی گھوڑے پر شہزادہ آیا نہ کوئی ڈاکو۔ بچبن سے گھر کے نوکر فضلو کو کام کرتے دیکھتی تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے بڑا تو ہو گیا تھا لیکن کبھی اس نے آنکھ اٹھا کر نہی دیکھا تھا۔ اور آج جب گھر کے بزرگوں نے اس کی شادی قران سے کی تو وہ حیران پریشان ایک ایک کا منہ تکتی تھی۔ ماں اس سے آنکھیں نہی ملا رہی تھی اور باپ سے وہ خود نہی ملا سکتی تھی۔آخر وڈیرا تھا اور اس نے زندہ رہنے کا حق دیا تھا اسے مار دیتا تو کسی کو کیا فرق پڑنا تھا۔ اس نے بس ایک سوال ماں سے کیا تھا” ماں! تو بھی تو میرے جیسی ہے؟پھر بھی”۔ ماں نے منہ دوسری طرف کیا اور آہستہ سے بولی، میں وڈیرن کہاں تھی۔ اور کمرے سے نکل گئی۔ ایک ہی جملہ اس کے کانوں میں گونج رہا تھا کاش وہ وڈیرن نہ ہوتی۔ کسی غریب گھر کے چھوٹے سے آنگن میں وہ چھوٹے چھوٹے بچوں میں گھری ہوتی۔ نام کی شہزادی اور زندگی اس کیڑے جیسی جو مکڑی کے جال میں پھنس چکی ہو اور کوئی دیر اور ہو کہ مکڑی اسے کھا جائے۔ بابا نے یہ نہی سوچا کہ قرآن کے ساتھ میرے شادی تو کر دی اب میری سہاگ رات۔ اس سے آگے وہ نہی سوچ سکی۔ آخر قرآن کو بچپن سے عقیدت کے طور پر دیکھتی آئی تھی۔ کیسے سوچ لیتی لیکن خیالوں پر کیس کا اختیار ہے۔ آئینہ تو بتا مجھے کیا کرنا چاہئے۔ آئینہ تو بتا مجھے کیا کرنا چاہئے۔ اورکچھ سوچ کر وہ پہلی بار کھل کے مسکرائی۔ اپنی مسکراہٹ دیکھ کر وہ خود بھی حیران رہ گئی۔بس ایک ہی بات اس کے دل میں گونج رہی تھی۔ کاش کوئی میرا بھی چاہنے والا ہوتا تو میں ایسے جان نہ دیتی۔
Blog
-
جادو ٹونہ
جس گھر میں ہم رہتے ہیں وہ دو حصوں میں منقسم ہے۔ مالک مکان نے گھر اس طرح بنوایا ہوا ہے کہ نچلا حصہ اوپر والے حصے سے جدا بھی ہے اور ملا ہوا بھی ۔ گلی سے دو دروازے کھلتے ہیں ایک نچلے حصے کی طرف اور دوسرا اوپر کے حصے کی طرف۔ اوپر جانے کےلئے سیڑھیاں استعمال کی جاتی ہیں اور ایک دیوار سیڑھیوں کو نچلے حصے کے صحن سے جدا کرتی ہے۔
کچھ عرصہ بیشتر اوپر والے حصے میں نئے کرایہ دار آئے۔ ایک بیوہ ماں، اسکی بیٹی اور بیٹی کا شوہر۔آہستہ آہستہ علیک سلیک ہوئی تو اچھے لوگ ثاپت ہوئے یوں آنا جانا شروع ہوا۔ آنٹی بہت اچھی تھیں۔ اس لئے ہم نے ان کا نام چنگی آنٹی رکھا ہوا تھا۔چنگی آنٹی کی بیٹی کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تو وہ کچھ عرصے کے لئے دوسرے شہر اپنے سسرال چلی گئی تاکہ بچے کو گرمی سے بچایا جا سکے۔ کیونکہ پھر چنگی آنٹی اکیلی تھیں اس لئے انہوں نے اپنی ایک بیوہ بہن کو بلوا لیا۔ کچھ دنوں میں میری بیگم کو احساس ہوا کہ وہ آنے والی بہن سر پر ہمیشہ ڈوپٹہ لپیٹے رکھتی ہے۔ تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ آنے والی آنٹی گنجی ہے۔ اور تب سے ہمارے گھر میں وہ گنجی آنٹی کے نام سے مشہور ہو گئی۔ جب کوئی بات ہوتی تو ان کے نام کی بچائے چنگی آنٹی اور گنجی آنٹی س ایکدوسرے کو بتایا جاتا تھا۔
گرمیوں کے دن تھے اور گرمی بھی پچاس ڈگری کی۔ صحن میں سر شام چھڑکاؤ کر کے کولر اور پنکھا چلا دیا جاتا تھا اور کچھ بچت ہو جاتی تھی جھلسنے سے۔ زندگی واقعی سلگتی سی چتا بنی ہوئی تھی۔ مہنگائی کی گرمی۔ موسم کی گرمی اور اندر کی گرمی ۔ سنا تھا کہ لوہے کو لوہا کاٹتا ہے لیکن گرمی کو گرمی نہی کاٹتی۔ تو بات ہو رہی تھی کہ ایک دن ہم اللہ تعالی سے ہم کلام تھے کیونکہ بیگم چنگی آنٹی کے پاس گئی ہوئی تھی ان کے بلاوے پر اور ہم نے سوچا آفس میں دفتری معاملات کائنات کے خالق سے بات چیت نہی کرنے دیتے اور گھر میں بیگم۔ بچے سو رہے تھے۔ آسمان صاف دکھائی دے رہا تھا تو پھر کیوں نہ کچھ دکھ سکھ کر لیا جاتا کہ اچانک ہماری بیگم گھبرائی ہوئی اور خوفزدہ ایکسپریشن کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی کہ سلسلہ رازونیاز منقطع ہو گیا۔ بیگم کو اس حالت میں دیکھ کر پہلے تو ہمارا دل دھڑکا کہ خدا خیر کرے۔ پھر تسلی دی ضرور کوئی لال بیگ دیکھ لیا ہو گا۔ بیگم ہماری دنیا کی ہر شے سے ڈرتی ہے نہی ڈرتی تو بس اپنے مجازی خدا سے بقول اس سے خدا سے ڈرنا بھی نہی چاہئے۔
“کیا ہوا؟ خیر ہے نا” میں نے لہجے میں حیرانی سموتے ہوئے کہا
“وہ۔۔وہ ہ ہ ہ!!!! بلاتکان بولنے والی خاتون کے لہچے میں لکنت آ جائے تو سمجھ جائیے کہ کوئی گھمپیر مسلئہ ہے
“ہاں ہاں۔۔۔”۔میں نے قریب جا کر پوچھا۔ “بتاؤ کیا ہوا کیوں پریشان ہو رہی ہو اور پریشان کر رہی ہو”
“وہ سچ کہتے تھے اس گھر میں کچھ ہے۔” بیگم نے ایک ہی سانس میں اعلان کیا
کیا ہے اس گھر میں” اب حیران ہونے کی میری باری تھی۔ اور میری یاداشت نے ماضی کھنگالنا شروع کر دیا۔مجھے ایک ایک کر کے وہ ساری باتیں یاد آنے لگیں جو کچھ عرصے سے سنتے اور دیکھتے آئے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک خاتوں جو پہلے اس گھر میں رہتی تھی سے ہماری بیگم کا ملنا ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اس گھر میں کوئی بزرگ جن ٹائپ کی شے رہتی ہیں تب سے میری بیگم پریشان تھی۔
دروازے خود کیسے کھل جاتے ہیں؟ حالانکہ میں نے لاکھ دفعہ سائنسی طور پر سمجھانے کی کوشش کی کہ ہوا کے دباؤ کا اثر ہے ورنہ دروازوں کی کیا مجال۔
فرج کا دروازہ کیسے کھلا رہ جاتا ہے؟ میں نے بتایا کہ جنوں شنوں کو جب زیادہ گرمی لگتی ہو گی تو شائد وہ فرج میں گھس جاتے ہوں۔ اور دروازہ بند کرنا بھول جاتے ہوں۔
پیسے کم کسیے ہو جاتے ہیں؟بہت دفعہ سمجھایا ہے کہ حساب رکھا کرولیکن مجال ہے کہ اس پر عمل ہوا ہو۔اور اب گھبرائی ہوئی بیگم اور ڈر گئی تھی۔ ہوا کیا ہے میں نے مصنوعی غصے سے پوچھا۔
دراصل اوپر چنگی آنٹی نے بلایا تھا۔ وہ بہت پریشان ہیں۔ مصلی بچھائے نماز اور قرآن پڑھ رہیں ہیں۔ کہتی یہں کہ انہوں نے نہا کر کپڑے پہنے اور کپڑے جدھر ہاتھ لگاتی ہیں بھرتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ایک اور سوٹ بدلا اس کا بھی یہی حال ہوا اس لئے وہ سمجھتی ہیں یا تو کوئی جادو ٹونہ ہہو رہا ہے ان پر یا یہ کسی جن کی کارستانی ہے۔
ہمارے زہن نے فورا سراغ رسانی شروع کی۔ “اور وہ گنجی آنٹی کہاں ہیں؟ ہو سکتا ہے انہوں نے کپڑے مانگے ہوں اور چنگی آنٹی نے نہ دیئے ہو اور اس نے کوئی کام دکھایا ہو۔” میں نے بستر پر دراز ہوتے ہوئے کہا۔“ارے نہی۔ بہن ہیں وہ ان کی۔ وہ باہر بیٹھی یا اللہ خیر کا ورد کر رہی ییں۔ مجھے بھی منع کر رہی تھیں کہ اندر مت جاؤ۔ وہ کہتی ہیں یا تو چنگی آنٹی کا آخری وقت آ گیا ہے یا کوئی جن بھوت ہے۔ اللہ اس کی موت آسان کرے۔ اللہ اس کے گناہ معاف کرے۔ یا اللہ میری بہن کو اچھی موت دینا۔ اور چنگی آنٹی بھی گنجی آنٹی کے کہنے سے یہی سمجھ رہی ہیں کہ بس وہ مرنے والی ہیں یا جن بوت انیہں تنگ کر رہے ہیں” بیگم نے اتنی جلدی بتایا جتنی جلدی وہ رقم خرچ کرتی ہیں۔
“داماد کہاں ہے ان کا؟” میں نے پوچھا
“وہ بیوی کو لینے گیا ہے۔” بیگم نے ڈرتے ڈرتے اوپر دیکھتے ہوئے کہا۔یکدم لائٹ چلی گئی ۔ اندھیرا پھیل گیا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ واقیعی کچھ ہونے والا ہے۔بیگم گھبرا کر ہم سے لپٹ گئی۔ “کیا ہوا” میں نے اسے اور قریب کرتے ہوئے کہا بچوں کے بعد ایسے مواقع کم ہی آتے ہیں۔
“۔۔۔وہ ۔۔۔۔” بیگم بس اتنا ہی کہ پائی۔ میری جسارت نے اسے سب کچھ بھولنے پر مجبور کر دیا تھا۔میں نے اسے تسلی دی۔” تم کیوں خوفزدہ ہو۔ جن بھوت تو ان کو تنگ کر رہے ہیں اورتم بلاوجہ کے پریشان ہو رہی ہو۔” میں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا۔“جن اوپر آ سکتے ہیں تو نیجے بھی آ سکتے ہیں” اور مجھ سے الگ ہو کر کچھ آیات کا ورد کرنے لگی اور سوئے ہوئے بچوں پر پھونکیں مارنے لگیں۔
“ویسے جن نے ہمارے گھر آ کر کیا کرنا ان کے ہاں چڑیلوں کی کمی ہے” موقع ہاتھ سے نکلتے دیکھ کر جلے ہوئے لہجے میں ایک آہ کے ساتھ کہا
بیگم نے ہمیں گھور کر دیکھا۔ اور یہی میں چاہتے تھا کیونکہ بیگم کی آدھی پریشانی کم ہو گئی تھی
“آنٹی کہتی ہیں کہ ان کے داماد کو فون کر دیں۔ کہ جلدی گھر آئے۔” بیگم نے بچوں پر ورد ختم کرنے کے بعد کہا۔
بیگم نے جیسے ہی مجھ سے یہ کہا کہ اچانک گنجی آنٹی کی اؤاز سنائی دی وہ بیگم کو پھر بلا رہی تھی۔
بیگم نے ہماری طرف دیکھا پھر اوپر کی طرف دیکھا اور پھر ایسے ہو گئی جیسے ساکن ہو اور آہستہ سے کہنے لگی “ان سے کہ دیں میں سو گئی ہوں۔”
“کیا کرتی ہو۔ ” میں نے گھورتے ہوئے کہا۔ جاؤ اور پتہ کرو کہ کیا مسلئیہ ہے۔ ایسا نہ ہو جھوٹ سے جن کو نفرت ہو اور وہ نیجے ہی آ جائے۔
“مسلئہ کیا ہے جن یہ کام کر رہا ہے اور کیا۔ نہ جی نہ میں تو نہی جاتی۔” بیگم نے یقین سے کہا
“اچھا چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ ” میں نے چارپائی سے اٹھتے ہوئے کہا۔“نہی آنٹی کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے ہیں وہ کہتی ہیں کہ فون کر دو جلدی سے۔” بیگم لگتا تھا اب شائد ہی اوپر جائے کہ اسی اثنا میں پھر گنجی آنٹی کی صدا سنائی دی۔
میں نے فون اٹھایا اور نمبر ملایا۔ لیکن نمبر بند تھا۔ میں نے پھر کوشش کی لیکن بے سود۔۔
بیگم کچھ اور خوفزدہ وہ گئیں “ضرور ضرور کچھ ہے۔” اس نے بچوں پر پھونکوں کی مقدار بڑھا دی تھی۔
“ہوش کرو۔ ” میں نے صحن میں چلتے پھرتے کہا۔ پریشانی اب میرے چہرے پر بھی ہویدا تھی۔ کہا چکر ہو سکتا ہے۔ میں نے سوچنا شروع کیا۔
“کوئی آیا تھا آج آنٹی کے گھر۔؟” میں نے پوچھا
“نہی کوئی بھی نہی آیا۔” میرے حوصلہ دلانے پر بیگم نے پھونکوں کا ورد ختم کیا اور میرا بازو پکڑ کر میرے ساتھ ساتھ چہل قدم کرنے لگی۔“پھر کیا مسلئہ ہو سکتا ہے؟” میں نے خودکلامی کی
“آپ چاہے یقین نہ کریں۔ میں نے خود دیکھا ہے ان کے کپڑے جہاں جہاں ہاتھ لگاتی ہیں بھرتے جاتے ہیں۔ “بیگم نے میری خود کلامی کے جواب میں کہا“یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ان کے ہاتھوں پر کچھ لگا ہوا ہو۔؟” میں نے پوچھا
“نہی وہ دو دفعہ نہا چکی ہیں۔ اور پانی تو وہی ہے جو ہم استعمال کر رہے ہیں۔ ہاتھوں پر کچھ لگا ہوتا تو اور چیزوں پر بھی اس کا اثر ہوتا۔” میری بیگم کا دماغ چلنا شروع ہو گیا تھا۔ شوہر کی قربت اسی کا نام ہے ہر زمانے کی اور ہر کیلبر کی عورت جب محبوب کے ساتھ ہو تو اس کا دماغ بہت تیزی سے سوچنے لگتا ہے۔
ہمم۔۔۔آپ اندازہ لگائیں کہ موم بتی کی روشنی کتنا اندھیرے کو ختم کرتی ہے۔ ہم آسمان کے ستاروں کی ہلکی ہلکی روشنی میں اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اچانک دروازہ بچا۔
“کون؟” میں نے پوچھا
“میں ہوں ۔”چنگی آنٹی کی آواز تھی۔ آواز سنتے ہی میری بیگم نے جست لگائی اور بستر پر ایسے لیٹ گئی جیسے سو رہی ہو۔
میں نے دروازہ کھولاتو چنگی آنٹی چادر میں لپٹی کھڑی تھی۔ “اندر آ جائیں” میں نے دروازے سے ہٹتے ہوئے کہا۔
“وہ فون کر دیا”۔ انہوں نے باہر سے ہی پوچھا۔ کہجہ ایسا تھا جیسے جیسے دنیا سے ان کا دل اٹھ گیا ہو اسیا لگتا تھا انہیں گنجی آنٹی نے یہ یقین راسخ کر دیا تھا کہ ان کا آخری وقت آ گیا۔
“کوشش کر رہا ہوں مل نہی رہا جیسے ہی ملتا ہے تو بات کرتا ہوں۔” میں نے جواب دیا
” ہوا کیا ہے آنٹی۔ ؟”میں نے غور سے ان کو دیکھتے ہوئے کہا۔“بس ساجد بیٹا کیا بتاؤں۔” ابھی وہ یہی ہی کہ پائی تھی کہ میں نے پوچھا
“آنٹی ایسا تو نہی کہ کپڑوں کے بکسے میں آپ نے فرنائل ٹائپ کی گولیاں رکھی ہوں اور اس وجہ سے کپڑے پھٹ رہے ہوں”ا
“نہی بیٹا۔ ایسی کوئی بات نہی ضرور مجھ پر کوئی چادو کر رہا ہے ؟۔۔۔مجھے یقین ہے” انہوں نے خلا میں گھورتے ہوئے کہا“لیکن کوئی کیوں کرے گا۔ آپ کے پاس نہ بہت دولت ہے نہ ۔۔”۔۔میں خاموش ہو گیا کیونکہ میں کہنے لگا تھا کہ اس عمر میں آپ پر جادو کر کے کسی کو کیا ملے گا۔
“بس بیٹا۔ میری بیٹی کی ساس کر رہی ہو گی۔ “میں جانتا تھا کہ ان کی بیٹی کی ساس ان کی بیٹی کی ممانی بھی تھی۔
تو آپ سارے کپڑے انہں گفٹ کر دیں میں نے بات کو مزاق میں ڈالتے ہوئے کہا۔ لیکن اچانک وہ دوبارہ واپس گھر کی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ اور مجھے اور حیران کر گئی۔ “انہیں کیا ہوا” میں نے دل میں سوچا
“آنٹی واپس چلی گئیں۔؟” میں دروازہ بند کر کے لوٹا تو بیگم نے آہستہ سے پوچھا
“ہاں چلی گئیں لیکن جن ادھر ہی چھوڑ گئیں ہیں۔ “میں نے ہنستے ہوئے کہا۔ لیکن دل میرا بھی کچھ کچھ پریشان ہو رہا تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ میں نے فون ملایا ان کا داماد راستے میں ہی تھا اور ایک آدھ گھنٹے میں پینچنے والا تھا۔
رات کو تو گزرنا ہی تھا اور گزر گئی۔ اگلے دن صبح صبح گنجی آنٹی سرکاری پانی بھرنے ہمارے گھر آئیں تو سب سے پہلا سوال ہمارا چنگی آنٹی کے بارے میں تھا۔
پہلے تو وہ شرمندہ شرمندہ دکھائی دیں کیونکہ وہ کافی دیر باہر بیٹھ کر یا اللہ خیر کا ورد اور اللہ تعالی سے بہن کی معافی کی درخواست کرتی رہی تھیں۔
“بس بیٹا کچھ نہی۔ “انہوں نے شرمندہ شرمندہ کہنا شروع کیا۔ “وہ اصل میں چنگی آنٹی نے اپنی چادر سے یو پی ایس صآف کیا تھا ۔ یو پی ایس پر تیزابی بلبلے نکلے ہوئے تھے بیٹری سے۔ وہ چادر پر لگ گئے پھر جب بھی وہ کپڑے پہن کر وہ چارد لیتی وہ کپڑے بھرنا شروع کر دیتے۔ وہ تو رات کو بچے آئے تو انہوں نے تحقیق کی۔”
اور جب ہم نے اپنی بیگم کی طرف دیکھاتو وہ بھی کسی کام سے فورا دوسرے کمرے کی طرف رخت سفر باندھ چکی تھیں۔
-
بے کسی
میں دلہن بنی گھونگھٹ نکالے بیٹھی تھی۔ کمرے میں موجود ائیر کنڈیشن کی ٹھنڈک میرے جسم کی حرارت کو ختم کرنے کی بجائے بڑھا رہی تھی۔ دل کی عجب حالت تھی۔ اتنی تیز دھڑکن کا میں نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا۔ کبھی بڑھ رہی تھی کبھی کم ہو رہی تھی کبھی گم ہو رہی تھی مجھے ایسا لگتا تھا جیسے آج میرا آخری دن ہے۔ آخری ہی تو تھا آج مجھے اپنا آپ کسی اور کو سونپ دینا تھا۔ اسے جسے میں بلکل نہی جانتی تھی۔ مگر جو بچھلے کچھ دنوں سے میری سانسوں کے زیرو بم میں ہچکولے لیتا رہا تھا۔ وقت بیت رہا تھا۔ انتظار قیامت کا روپ دھار رہا تھا۔ لمحے صدیوں پر محیط ہو رہے تھے کہ میرے زہن کے نہاں خانوں میں امی کی پکار سنائی دی۔
شاداں نی شاداں” ماں نے مجھے آواز دی میں ابھی کالچ سے گھر کے دروازے پر پہنچی تھی کہ ماں کی پکار سن کر رک گئی۔ ماں کے ہاتھوں میں ایک خوبصورت سا واٹر سیٹ تھا۔ میری بڑی بہن ساتھ تھی جس کے ہاتھوں میں اچھے سے ڈنر سیٹ کے کچھ برتن تھے اور ماں چاہتی تھی کہ کچھ میں پکڑ لوں تاکہ زرا احتیاط کے ساتھ وہ برتن ہمارے گھر میں داخل ہو سکیں۔ “خیر تو ہے، آج کوئی سپیشل مہمان آ رہا ہے کیا” میں نے حیرانی سے کچھ برتن پکڑتے ہوئے کہا۔ کیونکہ ہمیشہ جب کوئی امی کے رشتہ داروں میں سے آتا تھا تو برتن ساتھ والی آنٹی سے لئے جاتے تھے۔ ہاں! بہت ہی سپیشل۔ ببلی آ رہی ہے۔” امی نے بہت خوشی سے کہا۔
” ببلی باجی! ارے انہیں ہمارے گھر کا راستہ کس نے دکھا دیا”۔ “چپ رہ۔ بدتمیز” ماں نے مجھے جھاڑا۔ “پورے دس سالوں کے بعد امریکہ سے آ رہی ہے۔ بھائی کی شادی کرنا چاہ رہی ہے۔ دعا کرو ماجدہ یا واجدہ میں سے کوئی پسند آ جائے۔ ماں کے چہرے پر حسرت اور امید کے دئے جل رہے تھے
ببلی باجی امی کے کزن کی بیٹی تھی۔ دو بہن بھائی تھے بھائی ببلی باجی سے دس سال چھوٹا تھا کوئی بارہ سال پہلے میرے ابا اور ببلی باجی کے والدین ایک حادثے میں چل بسے تھے۔ اور دس سال پہلے ببلی باجی بیاہ کر امریکہ چلی گئی تھیں۔ تب سے ان کی کوئی خبر نہی تھی۔ میں اس وقت شائد آٹھ نو سال کی تھی ہلکی ہلکی یادوں کے انبار آنکھوں کی پتلیوں کو نمناک کر رہے تھے آنسو تھے کہ آج انتظار کرنا بھول گئے تھے۔ کیونکہ ببلی باجی کا سنتے ہی ابا کی یاد نے مجھے ایسے اندھیرے کنویں میں دھکیل دیا تھا کہ جہاں روشنی ناپید تھی اور یہی میری زندگی تھی۔
میرا نام شاہدہ ہے گھر میں شاداں کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ہم تین بہنیں ہیں بڑی ماجدہ، اس سے چھوٹی واجدہ اور پھر میں۔ چھوٹے سے دو کمروں کے مکان میں سنا ہے ابا کے ہوتے ہوئے بہت اچھی گزر بسر ہو رہی تھی۔ خوشیوں بھرے دن تھے کہ ایک دن اچانک ایک دور پرے کے رشتہ دار کی فوتگی پر جاتے ہوئے ببلی باجی کے والد کی گاڑی کا ایسیڈنٹ ہوا وہ ابا کو ساتھ کے کر جا رہے تھے اور ہمارے گھر میں جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔ غرپت کیا ہوتی ہے اس کے معنی معلوم ہو گئے۔ بے وقتی کیا ہوتی ہے اس کا ادراک ہو گیا۔ بے حسی کیا ہوتی ہے اس کا بھاؤ معلوم ہو گیا۔ اماں نے اپنی ممتا کے ہالے میں بیٹیوں کو پالنا شروع کیا۔ ماجدہ آپی نے ماں کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ کپڑے سلائی کرنا، چھوٹے موٹے کام کرنا، گھروں میں جا کر کپڑے دھونے کا فریضہ سر انجام دینا۔ یوں زندگی کی گاڑی تو چلتی رہی لیکن ہر موڑ پر دکھ کی آنچ سے پھسلتی رہی۔ ماجدہ تو پڑھ نہ سکی، واجدہ نے میٹرک بڑی مشکل سے کیا اور چار سالوں سے گھر بیٹھی تھی۔اور سہانے سپنوں کی وادی می ہر وقت کھوئی رہتی۔ لیکن بچپن کی حسرتیں میرے دل و دماغ میں ایسے سمائی کہ میں نے کتابوں کو دوست بنا لیا۔ جب بچیاں گڑیا کھیلنے کی ضد کرتی تھی میں روٹی میں لپٹی اخبار پڑھا کرتی۔ جہاں سے کوئی کتاب ملی پڑھ لی۔ بھوک لگی کتاب پڑھ لی، پیاس لگی کتاب پڑھ لی اور ان کتابوں نے مجھے خوابوں کی دنیا بسانے کے لئے مجبور کر دیا۔ ظاہری طور پر میں بہت سنجیدہ اور مغرور تھی۔ میٹرک بہت اچھے نمبروں سے کر کے سکالر شپ ہر کالچ میں پڑھ رہی تھی لیکن اندرونی طور پر میں سپنوں میں رہتی تھی۔ ایک عالیشان گھر میں نوکر چاکر ایک شہزادہ اور میں۔ خوابوں میں آرڈر دیا کرتی۔ کہانیاں سجایا کرتی اور پھر چونک کر واپس اپنے اردگرد کے ماحول کو حیرانی سے تکا کرتی۔
باجی ببلی آئیں تو میرے لئے حیرانی کے ساتھ ساتھ میرے خوابوں کا عکس بن کر آئیں۔ یہ لمبی کار، یہ زرق برق لباس، شاندار شخصیت ان کے سامنے ہم سب ایسے باادب تھے جیسے وہ بادشاہ سلامت ہوں اور ہم عوام۔ لیکن ان میں زرہ بھی غرور نام کا نہی تھا۔ بہت ملائم بہت پر اثر شخصیت۔ ماجدہ اور واجدہ نے بڑے سلیقے سے مہمانداری کی۔ انہوں نے ماجدہ اور واجدہ کو پسند کرنے کی بچائے مجھے پسند کر لیا۔ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹآ۔ میں نے تو خواب میں بھی نہی سوچا تھا۔ میں شہزادے کے سپنے ضرور دیکھتی تھی زندگی میں شہزادہ ہی مل جائے گا کبھی نہی سوچا تھا۔ میں اپنے گھر کی کی خوشیوں کے لئے بہنوں کی قربانی کےلئے بہت کچھ کروں گی بس بڑے گھر کی ہو جاؤں۔ میں نے دل میں سوچا۔ ببلی باجی تصویر لائی تھی۔ اور چاہتی تھی امریکہ واپس جانے سے پہلے بھائی کے شادی کر جائیں۔ اکیلا رہتا ہے۔ بڑا گھر ہے۔ نوکر چاکر ہیں خوبصورت ہے ہزار دفعہ کہا لیکن شادی کے نام سے بھاگتا ہے لیکن اس بار تو میں نے کوئی نا نہی سننی۔ شادی تو اب وہ میری پسند سے ہی کرے گا۔
ہمارے حالات کو شائد وہ پہلے ہی جانتی تھیں اس لئے اماں سے کہ گئیں کہ کسی شے کی بھی فکر مت کیجئے گا۔ سب کچھ میں خود کروں گی۔ اماں نے ایک دو دن کا ٹآئم مانگا جواب دینے کے لئے اور وہ چلی گئیں۔ اماں پریشان تھی۔ واجدہ حیران تھی اور ماجدہ مجھے گھور رہی تھی۔ مگر آخر کار ماجدہ نے قربانی دی ہمیشہ کی طرح واجدہ نے دل پر پتھر رکھا اور اماں نے مجبور ہو کر ہاں کر دی۔
میں جب بھی اکیلی ہوتی تصویر نکال لیتی۔ گھنٹوں دیکھا کرتی۔ نزیر ایک خوبصورت شخصیت کا مالک تھا بلکل ببلی باجی کی طرح۔ عمر کوئی تیس سے پینتیس سال ہو گی۔ لیکن حسین لڑکیوں سے بھی زیادہ تھا۔ وہ جسے کہتے ہیں نا کہ ہاتھ لگانے سے بھی میلا ہو جاتا۔ سوچیں مجھے تنگ کرنے لگی، جسمانی خواہشات اٹھکیلیاں کرنے لگی۔ خوبصؤرت تو مجھے بھی کہا جاتا تھا لیکن نزیر تو میرے خوابوں کے شہزادے سے بھی زیادہ خوبصورت تھا۔ ہزار پلان بننے بگڑنے اور بدلنے لگے کہ میں کیسے اسے دیکھوں گی، کیسے چھوؤں گی کیسے بات کروں گی کیسے نکھرے دکھاؤں گا۔ اور کیسے اس کا بن کا اسے اپنا بناؤں گی کہ میں اس کے نام کا سہاگ کا جوڑا پہن کر دعاؤں کے نرغے میں دلہن بن گئی۔ ببلی باجی نے جو کہا اسے پورا کر دکھایا۔
شادی ہال سے تمام مہمانوں کے رخصت ہونے سے پہلے ہی میں اور نزیر باجی ببلی کے ساتھ گھر آ گئے۔ باجی ببلی نے مجھے بہت پیار اور مان سے کمرہ دکھایا۔ گھر تو جو تھا سو تھا کمرہ گھر سے بھی زیادہ خوبصورت تھا۔ میرے خواب جیسے تعبیر بن کر میرے چاروں طرف ناچ رہے تھے۔ گا رہے تھے گنگنا رہے تھے۔ ہر شے میں نفاست، ہر شے میں سلیقہ پورے گھر میں خاموشی کا راج اور میں اور میرے سپنے نزیر کا انتظار کرنے لگے۔
کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز سن کر میرے جسم میں چنگاریاں دوڑنے لگی تھی۔ آج میں میں نہی رہوں گی شاہدہ نزیر ہو جاؤں گی۔ شرم کے مارے میں نے سر اور جھکا لیا۔ آج مجھے معلوم ہو رہا تھا کہ نئی دلہن کا گھونگھٹ کیوں نکالا جاتا ہے تاکہ اداسی، خوشی، شرم اور جسمانی خوایشات کے رنگ چھپے رہیں۔ نزیر نے سلام کیا اور میرے قریب بیٹھ گئے۔ پرفیوم کی خوشبو تھی یا ان کی جسم کی حدت میرے کان بلاوجہ سرخ ہونے لگے تھے۔ سانسوں کا زیروبم بکھرنے لگا تھا۔ ڈوپٹہ کی اوڑ سے میری کوشش تھی کن اکھیوں سے انہیں دیکھ سکوں۔ انہوں نے ایک انگوٹھی نکالی اور میری طرف بڑھاتے ہوئے بولے۔ “یہ میں آپ کے لئے لایا تھا” لہچے میں سب کچھ تھا لیکن نجانے کیوں مجھے لگا بیزاری سے کہ رہے ہیں۔ میرے اپنے سارے منصوبے کہ کیا کہوں گی، کیسے کہوں گی، دھرے کے دھرے رہ گئے اور گھبرائے ہوئے لہچے میں بس اتنا ہی کہ پائی “آآ آ پ ہی پہ پہ نا دیں”۔ رات گزرتی رہی، موجیں چڑھتی رہیں، میں سوتی رہی کبھی جاگتی رہی لیکن شاہدہ سے شاہدہ نزیر نہ بن سکی۔
دو دن کے بعد باجی ببلی واپس امریکہ چلی گئیں۔ اور پورے گھر میں میں تھی اور میرے حسرتیں۔ میرے پاس سب کچھ تھا۔ میں نے سب کچھ حاصل کر لیا تھا لیکن میں عورت نہ بن پائی تھی۔ ہفتہ گزر گیا تھا۔ آج ناشتہ کرتے ہوئے نزیر بہت خوش تھے۔ اور میں نے بھی تیہہ کر لیا تھا کہ آج شرم کے پردے میں خود اتاروں گی ورنہ کب تک خوابوں کے دیس میں ان دیکھے شہزادے کی بانہوں کی زینت بنتی رہوں گی۔
“آج آپ خوش لگ رہے ہیں” میں نے چائے پیتے ہوئے کہا۔
“ہنہ۔۔۔۔ہاں آج بڑے دنوں کے بعد میرا سب سے بہترین دوست ملنے آ رہا ہے” انہوں نے اخبار پڑھتے ہوئے کہا۔
“دوست!” دل ہی دل میں میں پھر اداس ہو گئی۔
“ہاں، باہر گیا ہوا تھا آپی نے اتنی جلدی سب کچھ کر دیا کہ وہ آ ہی نہی سکا۔ آج وہ ادھر ہی رہے گا “
“جی اچھا” میں نے مختصر جواب دیا
شام کو نزیر کے دوست آ گئے۔ اور میں ایک اور رات کے ضائع ہونے کا صرف افسوس ہی کر سکتی تھی۔ نجانے کیا بات تھی آج میں جلدی سو گئی تھی۔ رات کے کسی پہر میری آنکھ کھلی تو گلا خشک تھا، سر بھاری ہو رہا تھا اور شدید پیاس لگ رہی تھی۔ میں اٹھی کہ پانی پی لوں۔ دیکھا تو نزیر بیڈ پر نہی تھے۔ مجھے افسوس ہوا کہ آج تو ان کے دوست نے آنا تھا اور مجھے انہیں خوش آمدید کہنا چاہئے تھا اور میں سو گئی۔ گنودگی میں میں نے سوچا شائد واش روم میں ہوں۔ لیکن کچھ وقت گزرنے کے بعد بھی وہ نہ آئے تو میں نے انہیں آواز دی۔ وہ باتھ روم میں نہی تھے۔میں نے اپنا حلیہ شیشے میں درست کیا۔ میں کمرے سے نکلی اور سوچا کہ جا کر معزرت کر لوں۔ ٹی وی لاؤنچ میں پہنچ کر میں ششدر رہ گئی۔ نزیر اپنے دوست کو اپنا لباس بنائے مدہوش پڑا ہوا تھا۔ اور میں بےکسی کی تصویر بنی خشک پتوں کی طرح منہ زور ہواؤں کے دوش پر ڈولتی جا رہی تھی۔
-

“میں مسلمان ہوں”
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دروازہ زور زور سے جیخ رہا تھا۔ مولوی شفیق مغرب کی نماز کے لئے مصلی پر پہلی رکوت کے رکوع میں اللہ تعالی کی سبحانیت کا ذکر کر رہے تھے۔ ان کی مزاج شناس بیوی گرم گرم روٹیاں بنانے کی تیاری کر رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ مولوی صاحب مغرب کی نماز کے فورا بعد کھانا کھا لیتے تھے روزآنہ کا معمول تھا کہ مولوی صاحب بستی کی مسجد سے مغرب کی نماز پڑھ کر گھر آتے تو فہمیدہ ان کے لئے میز تیار کر چکتی ہوتی تھی بس جلدی جلدی گرم گرم روٹیاں اتارتی اور مولوی صاحب اپنی تین بیٹیوں کے ساتھ جن کی عمریں بیس، اٹھارہ اور سولہ سال تھیں، رات کھانا شروع کر دیتے۔
لیکن آج کا دن اپنے ساتھ بہت سی مشکلات لے کر آیا تھا۔ کچھ دنوں سے بستی میں عجیب سے جہ مہ گوئیاں اپنے عروج پر تھیں۔ دو مختلف مزاہپ کے دوستو نے اپنی لڑائی کو مزہبی لڑائی میں بدل دیا تھا۔ اور مزہب جو ہمیشہ سے امن کا پرچار کرتا آیا ہے لیکن اس کے ماننے والے اس کی مخالف سمت میں سفر کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں چاہے جان لے لی جائے چاہے جان دے دی جائے۔ اور یہی بستی کا حال تھا۔اللہ وسایا اور جون مسیح میں کسی بات پر تکرار ہوئی اور اس کے بعد کسی کو نہی معلوم کیا ہوا بات کیسے مزہبی رنگ لئے دلوں کی محبتوں کو چاٹنے لگی۔ بات سے بات ایسی بڑھی کہ پولیس کو درمیاں میں آنا پڑا اور وہ جون مسیح کو لے کر چلی گئی۔ یہ بستی غریبوں کی بستی تھی لیکن اس واقعہ کے بعد عیسائی اور مسلمانوں میں بدل چکی تھی۔ وہ جگہ جہاں غربت کے آنسوں بنا مزہب کے نکلا کرتے تھے اب مزہبی خون میں بدل چکتے تھے۔ دونوں طرف بات بڑھتی جا رہی تھی لیکن پولیس کی مداخلت سے معاملہ کچھ ٹھنڈا ہوا تھا۔ مولوی شفیق اسی بستی کی ایک چھوٹی سی مسجد کا امام تھا۔ مولوی شفیق کو بھی اس معاملے میں گھسیٹنے کی بہت کوشش کی گئی لیکن سنی سنائی باتوں پر مولوی شفیق کو یقین نہی تھا۔ اس لئے اس نے ہرکارہ بننے کی کوشش مسترد کر دی جب اسے کچھ معلوم ہی نہی تھا تو وہ کیا بتاتا۔
کل شام سے افواہ تھی کہ کچھ شر پسند لوگ، مزہب کے ٹھیکیدار اس بستی کا رخ کریں گے جس سے جان و مال کو شدید خطرہ تھا۔ احتجاج کا یہ طریقہ انسانیت کے عروج پر بھی قبیح لوگوں کا پسندیدہ طریقہ تھا۔ پولیس نے اعلان کروا دیا تھا کہ لوگ اگر اپنی جان بچانا چاہتے ہیں تو وہ اپنے اپنے گھروں میں نہ رہیں۔ حالات جس نہج پر جا رہے تھے بستی کے رہنے والوں کو اس کا خوب اندازہ تھا۔ کیونکہ ایک شخص کی غلطی کی سزا پوری قوم کو دینا اب تو ایک بین الاقوامی وطیرہ بن چکا تھا۔ رات سے ہی بستی کے لوگوں نے بلا مزہب و تفریق بستی خالی کرنا شروع کر دی تھی اور صبح ہوتے ہوتے تقریبا بستی خالی ہو چکی تھی۔ مولوی شفیق کو بھی ہمسائیوں نے بستی چھوڑنے کا کہا لیکن مولوی شفیق جانتا تھا کہ یقینا بستی خالی کروا کے یہ بستی پر قبضہ کا ایک طریقہ بھی ہو سکتا ہے اور ویسے بھی مولوی شفیق اپنے نام کی طرح شفیق تھے بستی کے تمام لوگ ان کی عزت کرتے تھے۔ یہی بستی ان کا سب کچھ تھی جاتے تو کدھر جاتے۔ اکیلے ہوتے تو کہیں بھی ٹھکانہ کر لیتے تین جوان بیٹیوں کا ساتھ تھا۔ انہیں اور تو کچھ سمجھ نہ آئی ایک گتہ کا ٹکرا لیا اور اس پر موٹے موٹے حروف کے ساتھ “یہ مسلمان کا گھر ہے” لکھ کر دروازے کے ساتھ لٹکا دیا تھا۔ اور پرسکون ہو کر کتاب لکھنے میں مصروف ہو گئے جسکا عنوان ہی رواداری تھا۔
دروازی اس طرح پیٹا جا رہا تھا جیسے آنے والے اسے توڑ کر اندر داخل ہو جائیں گے۔ فہمیدہ نے مولوی شفیق کی طرف دیکھا جو نماز میں مشغول تھا۔ بیٹیا تینوں اکٹھی ہو کر ماں کے قریب آ گئی تھیں۔ فہمیدہ نے بیٹیوں کو آنکھوں ہی آنکھوں میں تسلی دی اور دروازے کے قریپ چلی گئی۔ دروازہ بچانے کی شدت میں اتنا اضافہ ہو چکا تھا کہ فہمیدہ کی “کون ہے” اس شور میں گم ہو گئی تھی۔ فہمیدہ اور دروازے کے قریپ گئی اور چلا کر بولی کہ مولوی صاحب ابھی نماز پڑھ رہے ہیں ۔ ابھی یہ جملہ مکمل نہی ہوا تھا کہ دروازہ ٹوٹ کر اس کے اوپر گرا۔ دروازے کو آگ لگائی جا چکی تھی اور لکڑی کا دروازہ کب تک مولوی شفیق کے طرح ڈٹا رہتا۔ فہمیدہ پشت کی جانہ گرچکی تھی اوراس کے اوپر دروازہ، لوگ اس دروازے کے اوپر سے گھر کے اندر گھس چکے تھے ان کی ہاتھوں میں آگ برساتی لکڑیا تھیں اور جو آخری آواز فہمیدہ کے کانوں میں پڑی وہ اس کی بیٹیوں کی چیخوں کی آوازیں تھیں۔
مولوی شفیق مخمصے میں تھے کہ نماز توڑ دوں کہ پوری کروں۔ لیکن جب بیٹیوں کی چیخوں کی آواز بلند ہوئی تو مولوی شفیق نے مصلی چھوڑ دیا اور باہر صحن کی طرف لپکے اسی اثنا میں مشتعل ہجوم اندر آ چکا تھا اور چیخ چیخ کر کہ ہرا تھا ہمیں دھوکہ دیتے ہو۔ پکڑو باہر لے چلو۔ کچھ لوگوں نے مولوی شفیق کو پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے باہر کے طرف لے چلے، باہر عجیب منظر تھا ہر طف آگ کے شعلیں بلند تھے دیواریں نوحہ کناں تھی اور سامان غدر کا سا سماں پیش کر رہا تھا۔ مولوی شفیق کو یقین ہو گیا تھا کہ اب ہجوم سے بچنا محال ہو گیا ہے۔ انہوں نے اپنے پورے جسم کی طاقت سے چیخ چیخ کر کہنا شروع کیا کہ وہ مسلمان ہیں۔ لیکن کوئی اس صدا کو نہی سن رہا تھا۔ بلکہ کہیں سے پتھر، کہیں سے شعلے ان پر برس رہے تھے اور غربت میں خون کے آنسو چہرے سے رواں تھے۔
مولوی شفیق کو ہوش آیا تو وہ ہسپتال میں تھے۔ سب سے پہلا خیال انہیں فہمیدہ اور بیٹیوں کا آیا۔ انہوں نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن درد کی ٹھیسوں سے یکدم پستر پر گر گئے۔ آخر کوشش کر کے اٹھے تو ڈاکٹر کمرے میں آ چکا تھا۔” آپ لیٹے رہئے مولوی صاحب” شکر ادا کریں جان بچ گئی ہے۔ شکر “مولوی شفیق نے رنج سے سوچا۔ میری بیوی اور بیٹیاں۔ مولوی شفیق نے درد بھرے لہچے میں ڈاکٹر سے سوال کیا۔
کچھ زخمی عیسائی خواتین دوسرے کمرے میں تو ہیں لیکن کوئی مسلام خاتوں تو نہی لائی گئی ادھر۔ البتہ کچھ لاشیں ضرور مردہ خانے میں ہیں۔ آپ چیک کر لئجئے۔ ڈاکٹر تو یہ کہ کر چلا گیا۔ مولوی صاحب کی بے چینی دیدنی تھی۔ انہوں نے ہمت سے کام لیا ورکمرے سے باہر آ گئے۔ ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ انہوں نے مردہ خانے جانے سے سوچا کہ پہلے بستی کی عیسائی خواتین سے ازراہ ہمدردی کر لیں انہوں نے کمرے کا رخ کیا دروازے سے اندر داخل ہی ہوئے تھے کہ پہلے بسر پر انی کی چھوٹی بیٹی نیم بیہوشی کی حالت میں پڑی ہوئی ملی۔ مولوی صاحب اپنے درد بھول کے اس کے قریپ پہنچ گئے بیٹی نیم بیہوشی کی حالت میں کہ رہی تھی “میں مسلمان نہی ہوں” -
بے حرمتی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کرایہ کے گھرں میں رہنے میں جو مشکلات ہیں یہ تو وہی جان سکتا ہے جس کا اپنا گھر نہی ہے۔ کبھی کسی نے سوچا کہ کانٹوں کے گھروں میں پھولوں پر کیا گزرتی ہے۔ بڑی مشکل سے ابھی چھ مہینے پہلے بوریا بستر اٹھائے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوئے تھے لیکن اس گھر کے حالات ہی نرالے نکلے۔ لگتا تھا گھر چوہوں نے کرایہ پر لیا ہوا ہے اور ہمیں تو صرف زبردستی رکھا گیا ہو۔ خصوصا رات کو آپ کو نہ صرف چوہے لہکتے، چہکتے ملتے تھے بلکہ ان کی اچھل کود دیدنی ہوتی تھی۔ اوپر سے ہمیں ڈرا دیا گیا کہ اس گھر میں ضرور کوئی ان دیکھی شخصیت رہتی ہے۔ پہلے تو ہم نے یقین نہی کیا لیکن چھ میہنوں میں شخصیت رہتی تھی یا نہی دل یو ضرور وہم ہو گیا کہ کچھ نہ کچھ ہے ضرور۔ بغیر کسی وجہ سے بچے خوفزدہ ہو جاتے تھے۔ بعص اوقات چیخے مار کر رونے لگتے تھے۔ ایک کمرہ تو ایسا تھا کہ آپ اس کمرہ میں سو جائیں تو آپ کی سانس رکنے لگے۔ ہم نے جب ایک جاننے والے سے اس کا ذکر کیا کہ یہ معاملہ ہے تو تفصیل جان کر بولے کہ چھوڑیں جناب ایسی شخصیات چوہوں کے ساتھ کہاں رہ سکتی ہیں۔ لیکن گھر واپس آ گر نجانے کیوں یہ بات راسخ ہو گئی کہ ضرور ان شخصیات کے بچے چوہوں کے روپ میں ببانگ دہل ہمیں اور ہمارے بچوں کو ڈراتے اور خوفزدہ کرتے ہیں۔ کیونکہ اگر ان دیکھی شخصیت چوہوں کے ساتھ نہی رہ سکتی تو یہی چوہے ہی ان دیکھی شخصیت ہیں۔ اپنی تو خیر ہمیں کوئی فکر نہی تھی ہم کوئی ڈرنے والے تھوڑی تھے۔ دل کے بہلانے کو ہم نے یہی یقین دل کو دے رکھا تھا لیکن بچوں کی وجہ سےمکان چھوڑنا پڑا۔ سامان جو پہلے ہی غدر کی کیفیت کو ظاہر کرتا تھا حیرانی سے ہمیں تک رہا تھا کہ ایک بار پھر جنگ کا وقت قریب ہے۔ دیکھیں اب کیا کیا بچ جاتا ہے۔ کس شے کے پاؤں ادھڑتے ہیں اور کس شے کے بازو۔ کون سی شے اسی گھر میں چھوڑ دی جائے گی اور کون سے ساتھ جائے گی۔ ہمارا تو منہ دیکھنے کا شیشہ بھی جو ہمیں چار پانچ ٹکڑوں میں پورا دکھاتا تھا التماس کر رہا تھا کہ ہو سکتا ہے یہ ہماری آخری ملاقات ہو۔ گھر ڈھونڈنا شروع ہوئے۔ ہر گھر میں ہزار کیڑے۔ ہمیں آج تک سمجھ نہی آئی کہ مالک مکان اپنے رہنے والے گھر کو تو صیح سنوار کے بناتے ہیں اور جو گھر کرایہ پر دینے ہوں انہیں ایسا کیوں بناتے ہیں کہ اللہ توکل پر رہنا پڑے اور کرایہ الامان الحفیظ۔ ۔
خدا خدا کر کے ایک گھر رہنے کے قابل ملا ،منتقلی ہوئی ایسے ہی جیسے ہندوستان پاکیستان بننے پر ہوئی تھی۔ سامان سمیٹے ہوئے کسی کی انگلی پر زخم تھے تو سامان ڈھوتے ہوئے کسی کے پاؤں پر۔ کسے کے سر پر گومڑ اور کسی کی پسلی اتر گئی تھی۔ غیر ضروری سامان پھینگا گیا لیکن شکر ہے اس غیر ضروری سامان سے کچھ بچا لیا ورنہ تو سکندر کی طرح خالی ہاتھ ہی جانا پڑتا۔ ابھی کچھ دن ہی گزرے تھے کہ ہمسائیوں سے علیک سلیک شروع ہوئی۔ دائیں طرف ہمارے ہمسائے گلی کے چوکیدار ٹائپ کے ہمسائے نکلے۔ ہر وقت گلی میں موجود۔ ہم دفتر سے گھر جانے کے لئے نکلے تو فٹ سے اپنے دروازے سے برآمد ہوئے اور بولے۔ گلی میں گند نہی ڈالنا۔ ہم نے ازراہ یقین پوچھ لیا کہ یہ جو آپ کی بندھی ہوئی بکیر کا گند ہے اسے کیا کہتے ہیں لیکن مجال ہے ہماری بات انہوں نے سنی ہو۔ وغیرہ وغیرہ کرتے کرتے ہمارے دس منٹ تو ضائع کر دئے۔ لیکچر سن کر ہم نے تو دل میں ٹھان لی بھائی صاحب اس کے منہ نہی لگنا۔ بندہ حال چال پوچھتا ہے، خیر خیریت دریافت کرتا ہے لو جی بڈھے کا تو دماغ ہی خراب ہے۔ سنکی کہیں کا۔ کچھ دنوں میں ہمیں رپورٹ مل گئی کہ بڈھا واقعی سنکی ہے۔ تو زیادہ تر ہماری کوشش یہ تھی کہ اس سے دور ہی رہا جائے۔ لیکن آتے جاتے سلام دعا تو ہو ہی جاتی تھی کیونکہ موصوف زیادہ تر گلی میں ہی رہتے تھے اور اسی لئے ہم نے ان کا نام چوکیدار رکھ چھوڑا تھا۔
ایک چھٹی کے دن ہم اپنی چھوٹی بیٹی کو باہر گلی میں لائے تو دیکھا تو ہمارے دروازے کے پاس کوڑا کرکٹ پڑا تھا۔ ہمارا ہمسائیہ قریب ہی اپنی دیوار کے ساتھ بندھی بکری کو گھاس ڈال رہا تھا۔ ہم نے پوچھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے یہ کوڑا کس نے پھینکا ہے؟ پہلے تو اس نے گھوڑ کر دیکھا پھر بولا کہ” مجھے کیا معلوم”۔ ہم نے اس سے بڑے آرام سے کہا “انکل آپ زہادہ تر تو ادھر ہی ہوتے یہں اگر آپ کو معلوم ہے تو بتا دیں” آگے سے تراخ سے بولے “آپ بھی تو کہیں پھینتے ہیں وہی پھینگ گئے ہونگیں جناب ہم تو باہر ڈربے میں پھینگے ہیں جب سے آپ نے بتایا تھا۔ لیکن انہوں نے یہ بات ان سنی کر دی۔ اور پھر بکری سے گفت و شنید کرنے لگے۔
اس بات نے تو ہمارے غصہ کو مہمیز کر دیا۔ ایک تو عزت دو آگے سے سر پر چڑھتے ہیں۔ ہم نے چھوٹی بیٹی کو گھر کے اندر چھوڑا اور باہر آ کر گلی کے ایک دو گھڑوں سے پوچھا۔ کہ کوڑا کس نے پھینکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے نہی پھینگا۔ ہم نے گھر سے واپبر اٹھایا اور کوڑے کو گلی میں پھیلانا شروع کر دیا۔ انکل تو فورا آ دوبدو ہو گئے۔ یہ تم کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے درشت لہجے میں کہا۔
“آپ کو نظر نہی آ رہا۔ گلی کا کوڑا ہے گلی میں پھیلا رہا ہوں” ہم نے اپنے غصے کو قابو کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
“تمہے مسجد نظر نہی آ رہی۔ سارے نمازی ادھر سے گزرتے ہیں” انہوں نے وائپر پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی۔ ہمارے گھر کے بلکل سامنے ہی مسجد تھی۔
“کون سی مسجد؟ مسجد والوں کو آپ کی بکری کا گند نظر نہی آتا۔ آج اگر میں نے گلی میں نہ پھیلایا تو لوگ ادھر ہی ڈالنے لگ جائیں گے سمجھ نہی آ رہی آپ کو۔” میں نے وائپر پر گرفت مظبوط کرتے ہوئے کہا ۔وائپر ہم نے زور سے کوڑے پر مارا اور پھر پھیلانا شروع کر دیا
اسی اثنا میں انہوں نے وائپر پکڑنے کی کوشش کی تو
“خبر دار وائپر کو ہاتھ لگایا” ہم نے بھی غصے سے کہا۔ سمجھتے کیا ہیں آپ خود کو۔ آپ سے پوچھا کہ کس نے کوڑا ڈالا آپ جواب دینے کی بچائے الٹی سیدھی باتیں کر رہے ہیں۔”
“میں نے ڈالا ہے کر لو جو کرنا ہے”
“میں بھی گلی میں پھیلاؤں گا آپ نے بھی جو کرنا ہے کر لو”
۔ اسی اثنا میں انکل نے فورا گلی کے دروازے کھڑکانا شروع کر دئیے کہ لوگو باہر آؤ لوگو باہر آؤ۔ ہم نے کوڑا پھیلانا بند کیا اور اس طرف متوجہ ہوئے۔ تو دیکھا کہ چھ سات لوگ جمع ہو چکے تھے۔ اور وہ ان سے فرما رہے تھے۔ دیکھا میں نہ کہتا تھا یہ دوسرے مسلک سے تعلق رکھتے ہیں دیکھ لو اپنی آنکھوں سے ہماری مسجد کی بے حرمتی کر رہا ہے یہ مردود اللہ کے گھر کی بے حرمتی۔ ۔جلدی کرو جلدی کرو مولوی صاحب کو بلاؤ۔
اور ہم حیرانی سے ایک ایک کا منہ تک رہا تھا۔
