Category: افسانے

  • میری گڑیا

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    بابا جی آپ نے وعدہ کیا تھا آج مجھے گڑیا ضرور لا کر دینی ہے۔ وہ بڑی سی۔ آپ گندے ہو۔ آپ مجھے گڑیا لا کر نہی دیتے۔ آپ اللہ قسم کھاؤ آج ضرور لاؤ گے۔ عبدل الباری ناشتہ کرتے ہوئے بیٹی کی یہ گفتگو سن کر دل ہی دل میں سوچنے لگا۔ زندگی کیسے کیسے رنگ دکھاتی ہے۔ یا خدایا ! ایک آہ سے دل سے نکلی کہ وہ اپنی بچی کی ایک چھوٹی سی خوایش پوری نہی کر سکتا۔ آج تو ضرور لا دوں گا اپنی نیناں کو۔ نیناں جو کبھی دائیں طرف آ کر ناراض چہرے سے باپ کو دیکھتی، کبھیی بائیں طرف آ کر منہ چوم کر کہتی۔ دیکھا بابا۔ میں نے میٹھا اپا کر دیا۔ کھاؤ نا اللہ قسم۔ عبدل الباری نے اپنی آنکھوں سے آنسوؤں کو روکتے ہوئے اسے اٹھایا اور گود میں بٹھا کر پیار کرنے لگا۔ بلکل آج بابا ضرور لائیں گے۔ وعدہ۔؟ نیناں نے رسان سے پوچھا۔ اللہ قسم وعدہ عبدل الباری نے بیٹی کا منہ چومتے ہوئے کہا۔

    آج کا دن بھی عبدل الباری کے لئے روزآنہ جیسا ہی تھا۔ اس بیل کی طرح جو کولہو چلانے کے لئے دائرے میں گھومتا رہتا ہے۔ اس کا گھومنا اور عبدل الباری کا دن گزارنا ایک جیسا ہی تو تھا۔ بوڑھی ماں، معزور بھائی۔ کرایہ کا گھر اور پھر فیکٹری کے دن رات۔ جب رات گئے وہ گھر آتا تو اسے ایسا لگتا کہ شائد اس کی زندگی میں اتنی فرصت بھی نہی جتنی کولہو کے بیل کو مل جاتی ہے۔ شائد وہ تو کبھی کبھی آرام کر لیتا ہو گا لیکن عبدل الباری۔

    فیکٹری کے معمولات میں کوئی تبدیلی نہی تھی۔ تبدیلی تھی تو بس اتنی آج اسے کچھ وقت فالتو مل گیا تھا۔ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے لائٹ نہی تھی اور جنریٹر خراب تھا اور اسے ٹھیک ہونے میں کچھ وقت لگنا تھا۔ اس نے اپنے ایک دوست کو ساتھ لیا اور فیکٹری ایریا کی مارکیٹ میں چلا گیا۔ ویاں جب اس نے سجی سجائی گڑیا دیکھنی شروع کی تو کئی خواب اس کی آنکھوں میں سج گئے۔ یہ گڑیا لے یا وہ۔ نہی نیناں کو یہ پسند آئے گی اس نے ایک گڑیا ہاتھوں میں اٹھاتے ہوئے سوچا۔ کیونکہ نیناں کو ڈانس کرتی گڑیا اچھی لگتی ہیں۔ وہ مسکرایا کہ غریبوں کی بچیاں بھی تو ان ڈانس کرتی گڑیا کی طرح ہی ہوتی ہیں۔ چابی بھری اور جب تک چابی چلے گی گڑیا ڈانس کرے گی۔ چابی بھرتے رہو اور گڑیا چلاتے رہو۔ کیا سوچنے لگے اس کے دوست نے پوچھا۔ کچھ نہی بس ایسے ہی۔ عبدل الباری نے جواب دیا۔

    تین سو کی گڑیا خرید کر ایک لمحہ عبدالباری نے سوچ کہ اس نے کوئی غلطی تو نہی کر لی۔ اتنی رقم میں تین سے زیادہ دن ان کے گھر میں شوربہ پک سکتا تھا۔ یہ ان کا پسندیدہ سالن بن چکا تھا کیونکہ جتنا پانی چاہے ڈال دو اور سب کو مل جائے۔ لیکن جب نیناں کی خوبصورت باتیں اسے یاد آئی تو اس نے دل کو تسلی دی۔ نہی اس کے سامنے تو یہ کچھ بھی نہی۔ اور کون سا نیناں روز روز ضد کرتی ہے۔ وہ تو جب سے اس نے ہمسائیوں کے گھر ٹی وی پر ایک بچی کے پاس دیکھی تھی تب سے وہ ایک گڑیا چاہتی تھی۔ اور اس بات کو بھی دو مہینے ہو چکے تھے۔ پہلے تو عبد الباری ٹالتا رہا۔ پھر روز وعدے کرتا رہا لیکن آج جس طرح سے نیناں نے کہا تھا اس کے دل کو چین نہی آ رہا تھا۔ آخر گڑیا لے کر ایک عجیب سی طمانیت اس کے رگ و پے میں اتر گئی ایسی طمانیت جیسے اس نے اپنی زندگی کا آخری اور بہترین کام کر لیا ہو۔

    فیکٹری واپس آیا تو جنریٹر ٹھیک ہو چکا تھا۔ تمام لوگ کام شروع کر چکے تھےعبدل الباری بھی کام میں جت گیا۔ کیونکہ کچھ بھی ہو کام تو پورا کرنا پڑتا تھا چاہے لیٹ کام کرنا پڑے۔ کہ اچانک ایک افرا تفری سی پھیل گئی۔ سب ایک دوسرے کو پوچھنے لگے کہ کہا ہوا۔ کچھ لوگ ابھی بھی آرام سے کام کر رہے تھے انہیں معلوم تھا یہ تو تقریبا روز کا معمول ہوتا جا رہا تھا کہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کبھی جنریٹر کی وجہ سے آگ لگ جاتی تھی اور پھر بچھا بھی دی جاتی تھی۔ لیکن شائد آج یہ نہی بچھ سکی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پوری فیکٹری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ابھی جہاں سب کام کرنے والے کام کے ساتھ ساتھ ہنسی مزاق کر رہے تھے۔ ویاں موت کا سناٹا چھانے لگا۔ دروازے لوکڈ ہو چکے تھے دھواں بڑھتا جا رہا تھا۔ گوشت چلنے کہ بو دھوئیں مین اس طرح شامل تھی جیسے وقت کے آتش میں درد کے الاؤ پکتے ہیں۔ عبدل الباری نے جب دیکھا کہ دھواں ان کے فلور پر بڑھتا جا رہا ہے تو اس نے سب سے پہلے گڑیا اٹھائی اسے کپڑے میں لپیٹا اور دروازے کی طرف بھاگا۔ لیکن لوگوں کی افرا تفری اور دھوئیں کی وجہ سے لوگ مشکل ہو رہی تھی دروازہ ایک تھا اور مزدور سو سے زیادہ اور آگ کو لگتا تھا جیسے چند سیکنڈ میں پورے فلور کو نگل لے گی۔ چیخ و پکار کے بیچ میں عبدل الباری کو اتنا یاد رہا کہ اس نے گڑیا سینے سے ایسے لگا لی تھی جیسے نیناں کو پیار کرتے ہوئے لگاتا تھا۔ زندگی کی آخری سانوسوں میں اسے ایسے ہی لگا جیسے اس کی بیٹی جیتے جی مر گئی۔
    نیناں گھبرائے ہوئے پورے گھر میں گھوم رہی تھی۔ آج کوئی بھی اس کی بات سننے کو تیار نہی تھا۔ ماں دھاریں مار مار کر رو رہی تھی۔ دادی چارپائی پر بیٹھے بیٹھے کبھی بیہوش ہو جاتی کبھی ہوش میں آ جاتی۔ چاچوں کے آنسو رکتے ہی نہی تھے۔ یہ صرف ان کے گھر میں نہی تھا بلکہ محلے کے کافی گھروں میں اسی طرح کی چیخ و پکار تھی۔ لیکن نیناں کو معلوم تھا یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے یقینا اس کی آرزو کے آگے کچھ نہی۔ میری گڑیا ضرور آئے گی آج بابا جی نے اللہ قسم وعدہ کیا تھا۔ بابا جی کہتے ہیں اللہ قسم وعدہ نہی توڑتے۔ نہی۔۔۔۔نہی آج ضرور آئے گی۔ جیسے دل کے کسی کونے میں یہ دھڑکا بھی تھا کہ جب گھر میں ایسی افراتفری ہو تو کھانے کو کچھ نہی ملتا۔ گڑیا کیسے ملے گی۔ کہ اس نے ماں کی صدا سنی۔۔ ہائے نیناں کے ابا۔ ہمیں کس کے سہارے چھوڑے جا رہے ہو۔ نیناں بھاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی اور دوڑتی ہوئی دروازے کی طرف گئی جہاں کچھ لوگ ایک چادر میں لپٹی لاش کو اندر لا رہے تھے۔ لیکن بچی کو دیکھ کر رک گئے۔ کیا بابا آ گئے۔ نیناں نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے بابا کو نا پا کر پوچھا۔

    ہاں بیٹی تیرے باپ نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ اللہ قسم جو کھائی تھی۔ دیکھ باپ کی چلی ہوئی لاش کی بانہوں میں اپنی ادھ جلی گڑیا یہ کہتے ہی ماں کی چیخ بلند ہو گئی کیونکہ نیناں سانس لینا بھول گئی تھی۔

  • حسرت

    آج بچے پھر پوچھ رہے تھے، بابا نتیجہ آ گیا- بیٹی نے کہا میں نے تھرڈ پوزیشن لی ہے، بیٹا بولا ٹیچر نے آج میرے لیے تالیاں بجوائی ہے . آپ ہمیں کیا تحفہ دیں گیں. آپ روزانہ کہتے تھے جو اچھے نمبروں سے پاس ہو گا اس کو اچھا سا تحفہ ملے گا. ایک یاس بھری آہ کے ساتھ میں نے جواب دیا بکلل بیٹا، تحفہ تو ضرور ملے گا. اچھے نمبروں سے پاس جو ہوۓ ہو. اور میں نے فون بند کر کے واپس دفتر کے کاموں میں مصروف ہو گیا. لکین دل تھا جو سوچ رہا تھا کے کیا کیا جاۓ. چھٹی ہوتے ہے میں ایک کھلونوں کی دکان میں چلا گیا. ایک کھلونے کی قیمت اتنی تھی جتنی میری جیب میں رقم نہ تھی . دکان سے نکلتے ہوۓ ایک خیال زہن میں آیا اور سوچا بچے تو معصوم ہوتے ہیں کچھ ایسا کیا جے کے بہل جائیں. جب میں نے گھر کی گھنٹی بجائی، تو ایسا لگا جیسے بچے انتظار میں ہوں، دروازہ کھلنے سے پہلے ہی بابا تحفہ لاۓ، بابا تحفہ لاۓ کی آوازوں نے میرے پائوں جکڑ لیے. گھر کے اندر جاتے ہے میں نے کشی سے صدا بلند کی. سب بچے آنکھیں بند کر لیں. آج میں سب سے پیارا تحفہ لایا ہوں. میرے باپ نے بھی یہی تحفہ مجھے دیا تھا اور آج میں بھی اپنے بچوں کو یہی دوں گا.میں نے تھیلے سے گلاب کے ہار علیدھا کیے اور بچوں کی گلے کی زینت بنا دیے.گھر کے باقی افراد نے زور زور سے تالیاں بجائیں. پھولوں کی خوشبو سے بچے خوش ہو گے. اور میں نے کہا، بچوں کھلونے لاتا تو آپ توڑ دیتے ہو. لکین یہ خوشبو صدا آپ کے ساتھ رہے گی، کتنا اچہ تحفہ ہے، بچوں نے سمجھا یاں نہیں سمجھ لکین وو خوش تھے. حتیٰ کے سونے سے پہلے بھی وہ ہار انہوں نے گلے سے نہیں اتارے اور سو گۓ .بچے تو خوش ہو کر سو گے لکین، رات گے تک میں اپنی حسرتوں کے پھول چنتا رہا . پؤ پھٹے تک جاگتا رہا. اور آنسو بہاتا رہا.

  • بھکاری

    وہ بہت لڑکھڑا کر چل رہا تھا۔ اس کی ایک ٹانگ کی شلوار آدھی سے زیادہ کٹی ہوئی تھی۔ اس کی برہنہ ٹانگ ،آدھی سے زیادہ، خون سے رس رہی تھی۔ اس ٹانگ کا گوشت دیکھ کر مجھے ایسا لگا جیسے ابھی اس کے جسم سے بوٹیاں نیچے گر نے لگیں گی۔ کپڑے اس کے کپڑے جا بچا پھٹے ہوئے ، بال بکھرے ہوئے اور گرد آلود تھے۔ چہرے پرمردنی چھائی ہوئی تھی۔ شکل سے لگ رہا تھا بہت عرصے سے اس نے نہ کچھ کھایا ہے اور نہ کچھ پیا ہے <p> </p> اس کے ہاتھ میں کچھ ڈاکٹر کے نسخے تھے۔لنگڑا کر چلنے کی وجہ سے اس کا کُبّ نکلا ہوا تھا۔ وہ ایک ایک گاڑی کے پاس جا رہا تھا محسوس ہو رہا تھا کرب کی وہ اس حالت میں ہے کہ ہوا کا چھونکا بھی اسے گرا دے۔ وہ ابھی گرا کہ ابھی۔ زندگی گھسیٹ گھسیٹ کر جینے والے جانتے ہیں کہ سانس لینا کتنا مشکل کام ہے۔ میں ویگن کی کھڑکی سا سارا منظر دیکھ رہا تھا کوئی بھی گاڑی والا اپنی گاڑی کا شیشہ نیچے نہی کر رہا تھا کہ چند سکے اس کے کاسہ میں ڈال دے۔ آنسو اس کے چہرے کو بھگو رہے تھے۔ وہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر جاتا، اپنے کاغزات دکھاتا، ان پرچیوں کی حالت بھی اس کی اپنی حالت سے زیادہ اچھی نہی تھی۔ میرا دل ہمدردی سے بھر آیا میں خود ہسپتال جارہا تھا۔ میرے ہاتھ میں کھانا تھا جو مجھے ہسپتال پہنچانا تھا۔ ہائے بے چارہ کیا معلوم میں اس کی مدد کروں تو اللہ تعالی ہماری مدد کرے۔ بس یہ سوچ کر میں گاڑی سے اتر آیا جیب سے پچاس روپئے نکالے کہ اسی اثنا میں گاڑیاں چل پڑی۔ وہ شخص مجھے نظر نہ آیا۔ میں نے حیران نگاہوں سے چاروں جانب دیکھا لیکن وہ کہیں نہی تھا۔ وارث خان سٹاپ کے نزدیک ہی کچھ گلیاں اندر کی جانب جاتی ہیں میں نے سوچا شائد وہ ادھر گیا ہو گا۔ میں ادھر چل پڑا۔ وہ واقعی گلی کے کونے پر کھڑا تھا۔ میں تیز قدموں کے ساتھ اس کے قریب پیہنچا۔ وہ بلکل ٹھیک ٹھاک حالت میں فون پر کسی سے بات کر رہا تھا” حرامچادی، آج کی رات میری ہے دو سو اکٹھے کر لیئے ہیں تیری ماں کےخصم کے لئے۔ آج کسی اور کو نا گھسایو ورنہ تیزاب دال دوں گا تیرے منہ پر”

  • المیہ

    میرے ایک ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں چھوٹی چھوٹی کٹوریوں میں فیرنی ڈلی ہوئی تھی اور اس کے اوپر ایک بڑا سا رمال ڈھکنے کے لیئے دیا ہوا تھا۔ میں نے گھنٹی بجانے کے لیئے دروازہ کے دائے بائیں دیکھا، گھنٹی نہ پا کرمیں نے دروازہ بجایا۔ گھر دیکھ کر لگ رہا تھا کہ کافی عرصہ پرانا بنا ہوا ہے۔ پینٹ ہوئے جیسے صدیاں بیت گئی ہوں۔

    ابھی میرا مطالعہ گھر کے بارے میں مکمل نہی ہوا تھا کہ یکدم دروازہ کھل گیا، میرے سامنے پندرہ یاں سولہ سال کا ایک جوان کھڑا تھا، لباس سے اس کے غربت ٹپک رہی تھی اور چہرے پر معصومیت۔ ایسا لگ رہا تھا جیسےاگر  کسی جڑیاں کو پنجرے میں بند کر دیا جائے اور کافی دیر کی کوشش کے بعد وہ نڈھال ہو کر کسی کونے میں بیٹھی ہو اور دل ہی دل میں دعا کر رہی ہو، مجھے آزاد کر دو۔ نوجوان نے سوالیہ نگاہوں سے میرے جانب دیکھا پھر ٹرے کی طرف۔ یکدم اس کے چہرے پر تناؤ ختم ہوا اور آنکھوں میں ایسی چمک آ گئی جیسے ایک بچہ کی آنکھوں میں آ جاتی ہے جب وہ بھوک کے وقت اپنی ماں کو اپنے قریب دیکھتا ہے۔ میں نے اسے سلام کیا، اس کے سلام کے جواب پر میں نے کہا، مجھے ساجد کہتے ہیں ہم چار دن پہلے ہی اس محلے میں شفٹ ہوئے ہیں آج چونکہ مبارک دن تھا سوجا تھوڑی میٹھی فرنی بھی محلے میں تقسیم کر دوں اور جان پہچان بھی ہو جائے۔ میں نے رمال اٹھا کر فیرنی کی کٹوری اس کے ہاتھ میں تھمائی، ایک کٹوری دیکھ کر اس کے آنکھوں کی چمک پھر گم ہو گئی، ایسا لگا جیسے وہ چاہتا ہو ساری ٹرے اسے ہی دے دوں۔

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    وہ اندر گیا، اندر سے ایک نحیف سی آواز سنائی دی “کون تھا بیٹا”۔ نئے ہمسائے ہیں یہ تھوڑی فیرنی دی ہے انہوں نے۔ لڑکے نے جواب دیا۔

    چند لمحوں کے بعد وہ واپس آگیا، کٹوری کو واپس کرتے ہوئے بولا، جی مجھے حمید کہتے ہیں۔ ہم کافی پرانے یہاں کے رہنے والے ہیں۔ آپ کا شکریہ، آئے ایک کب چائے پیتے جائے۔ دل تو میرا بہت چاہا کہ رک جاؤں کچھ تھا اس نوجوان مٰیں، جیسے کوئی کہانی بند کتاب میں ہو، جب تک کھولی نہ جائے گی اور شروع سے آکر تک نہ پڑھا جائے گا، ایک خلش رہتی ہے ایک کسک رہتی ہے۔ لیکن چونکہ مجھے اور بھی بہت سے کام کرنے تھے اس لئے میں آگے بڑھ گیا۔

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    یہ میرے پہلی ملاقات تھی حمید سے۔

    اس کے بعد جب کبھی گلی سے گزرتے ہوئے، مسجد میں، کبھی کونے میں پرچون کی دکان میں میں نے ہمیشہ اسے جلدی میں پایا۔ سلام کا جواب دیتے ہی وہ یوں گم ہو جاتا جیسے وہ تھا ہی نہی۔ ایسا لگتا تھا جیسے اگر کچھ لیٹ ہو گیا تو کچھ نہ چکھ ہو جائے گا۔کافی دفعہ چاہا کبھی اس سے بات کروں پوچھو کہ اس چھوٹی سی عمر میں کیا روگ لگا ہوا ہے لیکن ہوا سے کون بات کر سکتا ہے، ایک لمحہ میں یہاں اور دوسرے لمحہ میں وہاں۔

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    ایک دن دروازہ کی گھنٹی بجی۔ میں نے دروازہ کھولا تو حیران رہ گیا حمید کھڑا تھا، سلام دعا کے بعد جب میں نے سوالیہ نگاہوں سے اس سے پوچھا تو روانی میں بولتا ہی چلا گیا۔ جیسے پیچھے پولیس لگی ہو۔” وہ ماں کی طبیعت خراب ہے” زرا آپ کا موٹر شائیکل چاہئے تھا، بس گھنٹے دو گھنٹےمیں واپس کر دوں گا۔  میں نے اس سے ماں کی خیریت دریافت کی، اندر گیا، موٹر شائیکل کی چابی لی اور اس کے ہاتھ میں تھما دی، کوئی مسئلہ نہی، کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتانا۔ اور وہ چلا گیا۔

      واپس آیا تو میری بیگم حیران نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی، اس سے رہا نہ گیا، یہ آپ اپنی موٹر شائیکل تو کسی کو نہی دیتے، آج سورج کدھر سے نکل آیا، دل ہی دل میں میں ہنسا اور سوجا۔۔۔کوئی موقعہ نہ جانے دینا بیگم۔۔اس کی والدہ کی طبیعت خراب تھی میں نے جواب دیا۔

    جب وہ  موٹر شائیکل دینے واپس آیا تو میں نے اسے بیٹھک میں بٹھا لیا، لیکن اسے جلدی تھی “سراسیمگی میں بولو “ماں اکیلی ہے اور بیمار بھی” مجھے چلنا چاہیئے، لیکن میں نے پھر بھی اسے جائے لے لیئے بٹھا ہی لیا۔جب میں نے اسے کریدا، اس کے حالات کے بارے میں پوچھا تو پہلے تو حیرانگی سے مجھے دیکھنے لگا اور ایسا لگا جیے کسی ہمدرد کو پا کر اس نے سارے بند توڑ دئے ہوں اس کی آنکھیں آنسوؤں سے پھر گئی، جسے اس نے پینے کی بلکل کوشش نہی کی لگا جیسے آنسوں پیتے پیتے وہ تھک گیا ہو۔ اس کی زبانی پتہ چلا کہ

    اس کی ماں کی طبیعت بہت خراب تھی، ،  اس کی ماں پستر سے لگی ہوئی ہے، چلنے پھرنے سے معزور تھی۔  یہ ایک ہی بیٹا تھا،  پاب فوج میں تھا پانچ سال پہلے ایک پم دھماکے میں مارا گیا، ماں پر فالج کا اٹیک ہوا اور پستر پہر لگ گئی، کوئی ساتھ دینے والا بھی نہی، اچھے خاصے رشتہ دار ہیں لیکن مصیبت میں کون پوچھتا ہے، جب حالات ایسے ہو جائیئں تو اپنے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں،میں سارا سارا دن  پڑھتا ہوں یاں ماں کی دیکھ بھال کرتا ہوں اور چاہتا ہوں  میٹرک میں کوئی پوزیشن لے لوں تاکہ سسکالرشپ پر آگے پڑھ سکے ۔  پنشن سے گزارہ بہت مشکل ہے۔ پڑھائی میں کہاں سے رقم لا سکتا ہوں۔ اس کی گفتگو سن کر تو میرے دل میں اداسی کی ایسے لہر جاگی کہ کئی دن میں اس کے دکھ کو محسوس کرتا رہا۔  میں نے اسے دعاوں اور نیک تمناؤں کے ساتھ رخصت کیا۔ اس کے جانے کے بعد کافی دیر میں سوچتا رہا، حالات انسان سے کیا کچھ کروانے کے لیئے تیار ہو جاتے ہیں۔ کاش میں اس کی کوئی مدد کر سکتا لیکن آج کے دور میں یہ کہاں ممکن تھا زندگی کی رفتار اتنی تیز ہو گئی ہے کہ اس کا پیچھا کرنا متوسط طبقہ لے لیئے مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

    کچھ دنوں کے بعد گلی بہت شوروغل کی آواز سن کر میرے بیگم نے کہا، “زرا پتہ تو کریں خیر ہو، بہت آوازیں آ رہی ہیں” سردی میں ہم سب لحافوں میں گھسے ہوئے ٹی وی پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ ایسے میں باہر نکلنا جان جوکھوں میں ڈالنا تھا، لیکن جب آوازیں بہت تیز ہو گئی تو میں باہر نکلا تو کیا دیکھا کہ حمید کے گھر سے باہر محلے والوں کا ہجوم تھا۔ فورآ میں نے سوجا شکر ہے اس کی ماں اللہ کو پیاری ہو گئی۔ اب یہ بچہ کچھ کر سکے گا۔  کیا ہوا میں نے ایک ہمسائے سے پوچھا، ہونا کیا ہے وہ ہی گیس،کی آنکھ مچولی نے ایک اور گھر کو تاک لیا ہے۔ گیس کی لوڈشیڈنگ نجانے اور کتنے گھر تباہ کرے گی۔ کبھی آ جاتی ہے کبھی ہلکی  ہو جاتی ہے، کبھی بند اور لوگو کے گھر اجار دیتی ہے۔ جب میں مکان کے اندر داخل ہوا تو ایک طرف حمید کی جھلسی ہوئی لاش اپنے خوابوں میں لپٹی پڑی تھی اور قریب ہی اس کی بوڑھی ماں زندہ لاش کی صورت ایک چارپائی پر پڑی تھی اور چند محلے کی عورتوں کے حیران اور پریشان چہرے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔  ،

  • قصور کس کا

    ّّّ
    میرا نام عبداللہ ہے یعنی اللہ کا عبد نام رکھتے ہوئے میرے والدین نے سوچا بھی نہی ہو گا کہ میرا تعلق سافلین میں سے ہو جائے گا۔ اپنے رب سے سارے ناطئے توڑ کر شیطانیت کی گہری کھائی میں جا گروں گا اور یہ تو کوئی بھی نہی جانتا کہ وقت اور حالات کب بدل جائیں اور کب انسان صراط مستقیم کو چھوڑ دے اور کب سیدھی راہ پر آ جائے لیکن گزرے وقت کی کربناک پرچھائیاں ہمیشہ پیچھا کرتی رہتی ہیں اور جو گزرر گیا اسے بدلنا زندگی میں تو ناممکن ہے اور زندگی کے بعد سراب لگتا ہے۔
    زندگی واقعی خوبصورت ہے جب انسان کو نہ کوئی فکر ہو نا پریشانی ورنہ خاردار ہو جاتی ہے گلزار سے۔ میری زندگی بھی حسین تھی۔ والدین کی آغوش میں گزرے پل نایاب اور یادگار ہی تو ہوتے ہیں۔ ابا کی الیکٹرک کی دکان تھی۔ کام اچھا اتھا۔ ابا کے ایک ہی بڑے بھائی تھے۔ گھر اپنا تھا دونوں اکٹھے رہتے تھے۔ گزر اوقات اچھی تھی۔ ہم دو بہن بھائی ہی تو تھے۔ میں کالچ میں پڑھتا تھا اور بہن آٹھویں جماعت میں۔ آسو کیا ہوتے ہیں؟ ٓٓہیں کسے کہتے ہیں؟ درد کیسا ہوتا ہے؟ تکلیف کیسے سہتے ہیں؟ مجھے معلوم نہی تھا کہ ایک دن ابا مال خریدنے بڑے بازار گئے اور پھر واپس نہ آئے۔ جیگتے جاگتے ابا کے بدلے دو لاکھ اور جسم کے کچھ چیھتڑے واپس آئے جو دفنا دئے گئے۔ بم دھماکے نے نجانے کتنے گھر اجاڑ دئیے تھے۔ نجانے کتنی سہاگنوں کو بیوگی کی چادر اوڑھا دی تھی۔ کتنی بہنوں کی آس آنسوؐں میں بدل دی گئی اور ہماری طرح کتنے بچے یتیم ہو گئے،
    وقت کب رکتا ہے بلکہ انسان کا زور اگر کسی شے پر نہی تو یہ وقت ہی ہے ورنہ اپنے سے کمزور، ناتواں اور لاچار کو تو یہ انسان قدموں تلے روند دیتا ہے۔ باپ کی موجودگی میں دنیا پھولوں کا مسکن تھی سکون ہی سکون تھی مگر باپ کا سایہ سر سے اٹھتے ہی عزاب ہو گئی۔ سیاہ رات کے بادل فقط آنسو برسانے لگے۔ یکدم تایا اجنبی ہو گئے۔ چالیسواں ہوتے ہی اماں کو گھر بدر کا حکم مل گیا۔ میں نے بات کرنے کی کوشش کی تو گھر کے کاغذات کی کاپیاں میرے منہ پر مار دی گئیں۔ دونوں بڑے چچازاد نے اسے بدتمیزی گردانا اور میری درگت بنا ڈالی۔ اماں نے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور گھر چھوڑنے کا عندیہ دیا تو مجھے چھوڑا گیا۔ جو لوگ اتنی جلدی گھر کے کاغذات بدلوا سکتے تھے وہ مجھے مروا یا پکڑوا بھی سکتے تھے۔ بس یہی خوف تھا جو ماں نے مجھے اپنی قسم دے کر چپ کروا دیا اور ہم خاموشی سے اجڑ گئے۔
    حالات اچھے تھے تو بہت سارے اپنے تھے حالات بگڑے تو اپنے بھی پرائے ہو گئے۔ ابا قرضدار نکل آئے۔ ان کی وفات پر ملنے والے دو لاکھ اور اماں کا زیور بیچ قرض اتارے اور میں نے دکان سنبھال لی۔ تجربہ نہ ہونے کی بنا پر پہلے دو سال تو کسمپرسی میں گزر گئے پھر آہستہ آہستہ گھر کا خرچہ، مکان کا کرایہ اور دوسرے اخراجات کا جن بوتل میں قید ہونے لگا۔ حالات ابھی سنبھلنے بھی نہ پائے تھے کہ ماں نے شادی کی رٹ لگا دی۔ کچھ ماں کا اصرا ، کچھ جسمانی تقاضوں کا شور میں نے سادگی سے شادی کا عندیہ دے دیا۔ شادی تو ہو گئی مگر سہاگ رات کا سرور سادگی کے قرضوں کی نظر ہو گیا۔ زینت کا ساتھ خوشی کے ساتھ پریشانیوں سے بھی مزین تھا۔ یعض اوقات انسان کتنا مجبور ہو جاتا ہے سوچتا کچھ ہے، چاہتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے۔ گھر میں ایک اور کے اضافے نے اخراجات بڑھا دئیے جس سے زندہ رہنے کی چنگ اور زوروں سے شروع ہوگئی۔ انہی حالات میں میں گھر میں پہلی بیٹی فرحت، پھر دوسری بیٹی راحت اور ایک بیٹے ثنااللہ کا اضافہ ہو چکا تھا معلوم ہی نہ ہو سکا کہ سات سال گزر گئے،
    زندگی واپس اپنی ڈگر پر آنے لگی تھی۔ صبح اٹھتے ہی فرحت کے پیار، راحت کے نخروں اور ثنااللہ کی قلقاریوں نے زخم مندمل کرنا شروع کر دئے تھے۔ دن دکان پر نکل جاتا، شام ماں کی دعاوؐں بہن کی محبت اور بچوں سے خوشگوار ہو جاتا اور رات زینت کے پہلو نشین رہنا اچھا لگتا تھا۔ مگر خوشیاں کب کسی گھر میں مستقل قیام کرتی ہیں۔ ہمیشہ درد و غم ہی بن بلائے مہمان بنے رہتے ہیں۔ کوئی مہینہ پہلے کی بات ہے ایک وکیل کو الیکٹرک کا سامان مہیا گیا گفتگو کے دوران ابا کے مکان کا ذکر نکل آیا کہ ہمارا انصاف کا نظٓم کیسا ہے۔ وکیل نے حوصلہ دیا کہ یوں تو ایسے مقدمات ساری زندگی چلتے رہتے ہیں لیکن اگر کچھ رقم لگا دی جائے تو کام بن جاتا ہے اور یقینا اس گھر میں تمہارا حصہ بنتا ہے کوشش کرو کسی طرح پانچ لاکھ کا بندوبست کر لو۔ زہن میں امید جاگی کہ ہم اپنا گھر حاصل کر سکتے ہیں۔ میں نے کیس داخل کرنے کی اجازت دے دی۔ ادھر بہن کے رشتہ کے لئے ماں نے ہاں کر دی اس کی شادی کا بندوبست کرنا میرے لئے زیادہ اہم تھا۔ کم از کم دو چار لاکھ روپئے تو اس کے لئے بھی درکار ہونگیں۔ میں اسی ششو پنچ میں تھا کہ وکیل کو منع کر دوں کسی نہ کسی طرح پہلے بہن کی شادی کروں جس نے ہمیشہ مجھے باپ سمجھا۔ کچھ سمجھ نہی آ رہی تھی۔ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ساری رات آنکھوں میں کٹ گئی۔باہر برسات ہوتی رہی اور میرے اندر آنسووں کی بارش۔ ادھر صبح کی اذان سنائی دی اور ادھر فون کی گھنٹی بجی۔ اس وقت کس کا فون ہو سکتا ہے؟ خدا خیر کرے؟
    مارکیٹ کی یونین کے چئیرمین دولت خان کا فون تھا۔ “یارا عبداللہ! بری خبر ہے۔ بارش کے پانی سے سپارک ہوا اور کئی دکانیں جل گئیں ہیں جس میں تمہاری دکان بھی ہے”۔ یہ چند لفظ سنتے ہی جیسے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ماوؐف زہن سے لبوں تک ایک ہی صدا بلند ہوئی یا خدایا! دو ہفتے ایسے گزرے کہ ہر لمحہ اذیت ناک بن گیا۔ کس کس کے آگے ہاتھ نہی پھیلائے مگر لگتا تھا ہر شخص کی دکان جل گئی ہو۔ کس کس کے آگے نہی گرگڑایا مگر بے سود۔ کتنے طویل سجدے کئے مگر سب بیکار۔کبھی ماں کے سفید بالوں سے خون رستا دیکھا اور کبھی زینت کے چہرے پر بیوگی کا استعارہ۔ کبھی بہن کے ارمانوں کا جنازہ اٹھتے دیکھا تو کبھی بچوں کی معصومت کو غربت کے ناگ سے ڈستے ہوئے۔ سوچیں انگارے بن کر جسم کو ڈس رہی تھیں۔ ایک ایک لمحہ اذیت ناک بنتا جا رہا تھا۔ پڑھا لکھا تو تھا نہی چھوٹی موٹی نوکری ملنا بھی محال ہو گیا تھا۔ اگر ایسے ہی کوئی کام نہ ملا تو یقینا بات فاقوں تک پہنچ جائے گی۔ گھر کا ہر فرد حیران نگاہوں سے مجھے دیکھتا تھا۔ چھوٹی موٹی اشیا بکنے لگی تھی۔دل چاہتا تھا سب کچھ ختم ہو جائے زندگی تمام ہو جائے کہ ٹی وی دیکھتے ہوئے ایک خبر نے مجھے چونکا دیا۔ بارش کی زیادتی سے ایک گھر کی دیوار گرنے سے ایک بچی وفات پا گئی تھی۔ مقتدر اعلی سیلاب سے گزر کر ان کے گھر گئے سارا کا سارا میڈیا ان کے ارد گرد تھا۔ ہر چینل ایک ہی خبر دے رہا تھا کہ حکومت نے دس لاکھ کا چیک اس غریب خاندان کو دیا۔
    بح اٹھا تو میں سب کچھ سوچ چکا تھا۔ میرا اچھا برتاوؐ دیکھ کر سب خوش تھے۔ “آج فرحت کو سکول کے لئے تیار کر دینا بہت چھٹیاں ہو گئیں” میں نے آنکھیں چراتے ہوئے زینت سے کہا۔ “اور ہاں آج میں نوکری ڈونڈ کر ہی آؐوں گا” میں نے چہرے پر جھوٹی مسکان سجاتے ہوئے ماں کے ہوتھوں پر بوسہ دیا۔ فرحت بہت خوش تھی۔ اسے سکون جانا ہمیشہ بہت اچھا لگتا تھا۔ اس نے آ کر میرے گلے میں بانہیں ڈال کر میرے گالوں پر پیار کر کے بولی “بابا بہت اچھے ہیں۔ ہیں نا اماں” ماں کی طرف دیکھتے ہوئے معصومت مسکرائی۔ میں نے سائیکل نکالی۔ فرحت کا سکول بیگ ہینڈل پر لٹکایا اور گھر سے نکل گیا۔ اب مجھے چار پانچ گھنٹے کہیں گزارنے تھے۔ میں نے فرحت کے سر کو چوما اور جب اسے یہ بتایا کہ پہلے ہم چڑیا گھر جائے گے تو پہلے تو وہ بہت خوش ہوئی پھر اداس ہو گئی۔ “ٹیچر ناراض ہوتی ہے لیٹ جانے پر” اس نے بہت ارمان سے کہا۔ “کچھ نہی کہے گی ٹیچر۔ میں ہوں نا” یہ کہتے ہوئے سائیکل کا رخ میں نے چڑیا گھر کی طرف موڑ دیا۔ چڑیا گھر میں فرحت زیادہ خوش نہی تھی۔ “ میرے بچے کو پسند نہی آیا چڑیا گھر” میں نے اسے سینے سے لگاتے ہوئے پوچھا۔ “نہی بابا!” وہ چند لمحے رکی اور پھر بولی “ ہوم ورک نہی کیا نا۔ مجھے سکول کا اتنا کام کرنا ہے۔ ٹیچر ناراض ہو گی” اس نے بیگ کھولتے ہوئے کہا۔ فٹ پاتھ کے قریپ ایک دال بیچنے والا بیٹھا تھا اس نے سنا تو وہ مجھ سے بولا۔ بچی کو ادھر فوم پر بٹھا دو، اللہ اس کے علم کی دولت میں اضافہ کرے” اور اٹھ کر قریپ ہی بیٹھ گیا۔ میں نے ایسے میں اس کی تصویر بنا لی کیونکہ مجھے ایسی ہی کسی ٹصویر کی ضروت تھی۔
    مجھے شام ہونے کا انتظار تھا۔ شام ہوتے ہی میں نے گھر کا رخ کیا۔ گھر کے باہر لوگ جمع تھے سب کچھ میرے منصوبے کے مطابق ہو رہا تھا۔ محلے والوں کےدرمیان راستہ بناتے میں گھر میں داخل ہوا تو صحن میں چارپائی پر فرحت کی لاش پڑی تھی۔ زینت لاش سے اٹھ کر بھاگتی ہوئی مجھ سے لپٹ گئی۔ اس کے بین مجھے ڈگمگا رہے تھے : کدھر تھے فون بھی بند ہے آپ کا۔ ٓاپ کی لاڈو چلی گئی” اس نے دھاڑیں مارتے ہوئے کہا۔ “اوہ فون کی بیٹری ختم ہو گئی تھی”” میں نے رونے کی اداکاری کرنے لگا۔ “وہ صاحب لائے ہیں اس کیا لاش۔ سکول کی کاپی پر ایڈریس دیکھ کر “۔ “ہائے میری بچی کو اغوا کر کے کسی نے مار ڈالا” میں منہ پر تھپڑ مارتے ہوئے چیخا۔ سامنے والے کا فون لے کر میں نے چینل والوں کو فون کر دیاجو مجھے دلاسہ دے رہا تھا۔ پولیس کے پہننچنے سے پہلے چینل والے موجود تھے۔ اپنے فون کو چارج کر کے میں نے فرحت کی تصویر بھی انہیں دے دی اور میں اعلی عیہددار کا انتظار کرنے لگا جو آ کر ایک بڑی رقم کا اعلان کرے گا۔ ہر چینل پر فرحت کی سکول کی کاپیوں پر کام کرتے ہوئے تصویر بار بار دکھائی جا رہی تھی۔ فرحت جو میری جان تھی میرا خون تھی ۔ میں نے سوچا تھا کہ اگر ایک کے مر جانے سے حالات ٹھیک ہو سکتے ہیں تو سب کیوں مریں۔
    آج جیل کی کوٹھری میں موت کی دعائیں مانگتے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ قصور کس کا ہے، تقدیر کا، لالچ کا، میڈیا کا یا میرے ہونے کا،